Book Name:Imamay kay Fazail

ستمبر کی جنگ اور سبز عمامے والوں کی امداد

                                             میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! غزوۂ حُنین میں مسلمانوں کی مدد کیلئے آنے والے فرشتوں کے سروں پر سبز سبز عماموں کے تاج سجے تھے۔  اسی طرح 1965ء کی جنگ کے متعلق آپ نے سنا بھی ہو گا نیز اخبارات میں بھی اس جنگ میں حصہ لینے والے بعض مجاہدین کے بیانات شائع ہوئے تھے، جن میں کہا گیا تھا کہ دوران لڑائی  ہمیں بعض اوقات سبز سبز عمامہ شریف والے بزرگ نظر آتے تھے جو دشمن کی طرف سے پھینکے جانے والے بموں کو اپنی جھولیوں میں لے لیتے تھے۔  اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ اس طرح سبز عمامے والے بزرگوں کی نُصرت کی برکت سے  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ نے ہمارے وطنِ عزیز پاکستان کو فتح و کامرانی سے نوازا ہے۔   

سبز عمامے کے متعلق وسوسوں کا علاج

(1)وسوسہ :  سنا ہے سبز عمامہ ایک گمراہ فرقے کا شِعَار ہونے کے سبب ناجائز ہے اور اس کے ناجائز ہونے کی دلیل یہ حدیثِ مبارک ہے :  مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَھُوَ مِنْھُمْ یعنی جو کسی قوم کی مُشابَہَت اِختیار کرے وہ انہیں میں سے ہے۔  (ابوداؤد ، کتاب اللباس ، باب فی لباس الشہرۃ ، ۴/ ۶۲، حدیث : ۴۰۳۱)

جوابِ وسوسہ : شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علاّمہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطارؔ قادری رَضَوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنے ایک مکتوب میں اس کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں جس کا خلاصہ پیشِ خدمت ہے :  

مُشَابَہَت کی تعریف

                                             سبز عمامہ کو کسی گمراہ فرقے کی مُشابَہَت کی وجہ سے  ناجائز قرار دینا درست نہیں ہے ۔  میں آپ کی خدمت میں مُشابَہَت کی تعریف پیش کرتاہوں ۔  اگر یہ سمجھ میں آگئی تو اِنْ شَآءَاللہ  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ اعتراض کی جڑ کٹ جائیگی۔  میرے آقا اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان عَلیْہ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن مُشابَہَت کی تعریف پیش کرتے ہوئے فرماتے ہیں :  

مشابہت کی تعریف : تَشَبُّہ دو وجہ پر ہے (۱)التزامی (۲)لُزُومی     

                                             التزامی : یہ کہ یہ شخص کسی قوم کے طرز و وضع خاص اسی قصد(یعنی ارادے) سے اختیار کرے کہ ان کی سی صورت بنائے، ان سے مُشابَہَت حاصل کرے حقیقتاً تَشَبُّہ اسی کا نام ہے ۔  

                                             لُزُومی :  یہ کہ اس کا قصد (یعنی ارادہ )تو مُشابَہَت کا نہیں مگر وہ وضع اس قوم کا شعارِ خاص (یعنی پہچان) ہو رہی ہے کہ خواہی نہ خواہی (یعنی خود چاہے یا نہ چاہے) مُشابَہَت پیدا ہوگی‘‘۔  مزید فرماتے ہیں :  ’’یہ کہ اس قوم کو محبوب جان کر ان سے (جان بوجھ کر) مُشابَہَت پسند کرے یہ بات اگر مُبْتَدِع (یعنی بُری بدعت پر عمل کرنے) کے ساتھ ہو(تو) بدعت (ہے) اور کفار کے ساتھ (ہو تو) معاذ  اللّٰہ  ’’کفر‘‘۔  

                                                حدیثِ پاک ’ ’مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَھُوَ مِنْھُم‘‘ یعنی ’’جو جس قوم کی مُشابَہَت کرے وہ انہیں میں سے ہے۔ ‘‘ حقیقۃً صرف اسی صورت سے خاص ہے۔  آگے چل کر مُشابَہَت کے بارے میں فرماتے ہیں :  ’’اُس زمان و مکان میں ان کا شعارِ خاص (پہچان) ہونا قطعاً ضرور جس سے وہ پہچانے جاتے ہوں اور اُن میں اور اُن کے غیر میں مُشْتَرَک نہ ہو (یعنی وہ پہچان ایک ہی وقت میں دو قوموں میں نہ پائی جاتی ہو جیسا کہ مسلمان کا شِعَار خاص داڑھی اور عمامہ شریف ہے اورایک غیر مسلم فرقے کے لوگ بھی داڑھی اور پگڑی کا اہتمام کرتے ہیں ۔  تو اب یہ کہنا ہر گز رَوا نہ ہوگا کہ داڑھی اور عمامہ اس بدمذہب فرقے کی مُشابَہَت ہے۔  جب داڑھی اور مطلقاً عمامہ مُشابَہَت نہیں تو ہمارا سبز عمامہ بھی کسی گمراہ فرقے کی مُشابَہَت نہیں ) ورنہ لُزُوم کا کیا محل؟ (فتاویٰ رضویہ ، ۲۴/ ۵۳۰ ملخصًا)

فتویٰ شریف کا خلاصہ

                                             میرے آقائے نعمت،  امامِ اہلسنّت عَلَیْہِ الرَّحْمَۃ کے کلام کا حاصل یہ ہے کہ جو کوئی کسی قوم کو مَحبوب جان کر اس کا شِعار اس نیت سے اپنائے کہ میں بھی ان جیسا نظر آؤں تو اس صورت میں اگر وہ کسی گمراہ قوم کا شِعَار اپناتا ہے تو اس کا یہ فعل گمراہی ہے اور اگر کفار کا شِعار اپناتا ہے توا سکا یہ فعْل معاذ  اللّٰہ ’’ کفر‘‘ ہے اور حدیثِ مبارک’’مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَھُوَ مِنْھُمْ‘‘ ان دو قسم کی مُشابَہَتوں کے ساتھ مخصوص ہے۔  

ہمیں بدمذ ہبوں سے نفرت ہے

                        اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی اِحْسَانِہٖ ہم اہلسنّت و جماعت ہیں اور ہم ہرباطل فرقے سے دور نُفور ہیں ۔  اگر بالفرض کوئی گمراہ فرقہ سبز عمامہ کو اپنی پہچان بنائے ہوئے بھی ہوجب بھی ہماری نیت ان سے مُشابَہَت کی ہر گز نہیں ۔  تو ہم اس فعل میں اس حدیثِ پاک جو اوپر مذکور ہوئی کے تحت مجرم نہیں ہیں اور ’’مُشابَہَتِ لُزُومی‘‘ یعنی بلاارادہ کی مُشابَہَت بھی اگرچہ منع ہے مگر وہ تو حدیث مذکورہ کے تحت آتی ہی نہیں جیسا کہ فتاویٰ رضویہ شریف سے گزرا اور اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ ہم تو مُشابَہَتِ لُزُومی کی زَد سے بھی بچے ہوئے ہیں کہ فی زمانہ یہ فرقۂ باطِلہ تقریباً مَعدُوم ہو چکا ہے۔  اگر بالفرض کسی زمانے میں ان کا شِعارِ خاص سبز عمامہ رہا بھی ہو تو اب کہاں ؟ کہ اب تو خوردبین لیکر ڈھونڈنے نکلو جب بھی یہ فرقہ نظر نہیں آتا، یا ملے بھی تو اس کا اِکا دُکا آدمی ہی ملے ، تو کوئی ایسا فرقہ جو اپنے کیفر ِکردار کو پہنچ چکا ہو ، اس کا مردہ بھی سڑ چکا ہو، اس کی شہرت بھی بالکل نہ رہی ہو، لوگ اس کے نام تک کو بھول چکے ہوں ۔  ان کی کسی نشانی کو خواہ مخواہ مسلمانوں پر مُسَلَّط کرنا کہاں کا انصاف ہے؟ کیوں کہ مشابَہَت کا تعلق تو زَمان و مکان کیساتھ خاص ہے جیسا کہ ابھی ابھی فتاویٰ رضویہ شریف کے حوالے سے گزرا۔  نیز ’’فتاویٰ عالمگیری‘‘ میں ہے :  وَکَمْ مِنْ شَیئٍ یَخْتَلِفُ بَاِخْتِلاَفِ الزَّمَانِ وَالْمَکَان یعنی اور بہت سی چیزیں زمان و مکان کے بدلنے سے بدل جاتی ہیں ۔  (فتاوٰی ہندیہ ، کتاب الکراہیۃ، الباب الخامس فی آداب المسجد الخ، ۵/ ۳۲۳)

دَور بدلنے سے مُشابَہَت بھی بدل جاتی ہے

                                             بہر حال مذکورہ بالا بحث سے یہ بات اَظْہَر مِنَ الشَّمْس ہوئی کہ زمان یعنی وقت اور مکان یعنی ملک یا علاقہ بدلنے سے بھی شِعار بدل جاتا ہے، تو اگر بالفرض دنیا کے کسی حصے میں یہ گمراہ فرقہ پایا بھی جاتا ہو اور وہاں ان کی پہچان سبز عمامہ ہو بھی، تو وہاں کے لوگوں کو ان کی مُشابَہَت سے بچنے کو کہا جائے گا۔  لیکن میری ناقص معلومات کے مطابق پاک و ہند میں تو یہ فرقہ عام نہیں ۔  لہٰذا ان کی



Total Pages: 101

Go To