Book Name:Imamay kay Fazail

نے گواہی دی کہ آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مجھے عمامہ شریف کی سنّت اپنانے کا فرما رہے ہیں ۔  اس خواب کے بعد میں نے سر پر سبز سبز عمامہ شریف کا تاج سجا لیا اور مدنی ماحول سے وابستہ ہو کر مدنی کاموں کی دھومیں مچانے میں مصروف ہوں ۔  

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!               صلَّی  اللّٰہ  تعالٰی عَلٰی محمَّد

غوث پاک کی سبز عمامے میں زیارت

        اسلام آباد (دارالحکومت ، پاکستان) کے رہائشی اسلامی بھائی کے بیان کا لبِّ لباب ہے :  میں نے ایک خوش عقیدہ خاندان میں آنکھ کھولی۔  جب میں سنِ شُعُور کو پہنچا (سمجھ دارہوا) توبدقسمتی سے میں اپنازیادہ وقت بدمذہبوں کے ساتھ گزارنے لگا۔  اس قول ’’صحبتِ صالح تُرا صالح کند، صحبتِ طالح تُراطالح کند‘‘ (اچھی صحبت بندے کونیک بنادیتی ہے اوربری صحبت برا) کے مِصدَاق مجھ پربھی بری صحبت کا اثر ہوا اور میرے عقائدواعمال اُن جیسے ہونے لگے میں اہلسنّت کے عقائد و اعمال پر تنقید کرنے لگا اور مختلف وسوسوں کا شکارہوگیا۔  میری خوش قسمتی کہ ایک روز مجھے خیال آیا کہ اگر میں ہر ماہ گیارہویں شریف کا اہتمام کیا کروں تو اس میں کیا مُضَایَقَہ ہے؟  اللّٰہ  تعالٰی نے میری مدد فرمائی اور میں گیارہویں شریف کا اہتمام کرنے میں کامیاب ہوگیا۔  پھردوسرے ماہ بھی حسبِ سابق میں نے مروجہ طریقے کے مطابق گیارہویں شریف کالنگر کیا، چنددن گزرے تھے کہ ایک روز سوتے میں میرے دل کی دنیاروشن ہوگئی، میری بگڑی سنورگئی، کیا دیکھتا ہوں کہ ایک بزرگ ہستی سفیدلباس میں ملبوس، سر پر سبز سبز عمامہ شریف سجائے تخت پر تشریف فرما ہیں ۔  ان کے گردلوگ جمع ہیں ، میں نے ایک قریبی شخص سے پوچھا :  یہ کون ہیں ؟توکہنے لگا’’یہ شہنشاہ بغداد حضور ِغوثِ پاک رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ ہیں ۔ ‘‘ صبح جب میری آنکھ کھلی تو دل ودماغ پروہی منظر چھایا ہوا تھا، چنانچہ جب میری ملاقات اپنے محلے کے خطیب صاحب سے ہوئی تو میں نے گزشتہ رات آنے والے خواب کا ذکر کیا۔  اس پر خطیب صاحب نے میرے خواب اور گیارہویں شریف والے عمل کی تعریف کی اورفرمانے لگے :  ’’بیٹا! اس عمل کوجاری رکھیں ، اولیائے عظام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانسے محبت باعثِ خیرو برکت ہے۔  ان کو ایصال ثواب کرنے میں تو ان کاخصوصی فیضان حاصل ہوتا ہے۔ ‘‘ ان کی باتیں سن کرمعمولاتِ اہلسنّت کے بارے میں میرے دل میں موجود وسوسوں کا علاج ہوا اور اولیائے کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانسے محبت وعقیدت نے میرے تاریک دل کو روشن کر دیا۔  کچھ عرصہ بعدمیری ملاقات سبزعمامہ شریف سجائے، سفید لباس میں ملبوس ایک اسلامی بھائی سے ہوئی تو انہوں نے مجھے ایک رسالہ ’’دعوتِ اسلامی کی بہاریں ‘‘ پڑھنے کے لئے دیا، جس کوپڑھنے کے بعد میرے دل میں دعوتِ اسلامی کی محبت پیداہوگئی۔  خوش قسمتی سے کچھ ہی دنوں بعد مدینۃ الاولیاء ملتان  میں دعوتِ اسلامی کے تین روزہ بین الاقوامی سنّتوں بھرے اجتماع کی آمد آمد تھی اس میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی، اجتماع کا رُوح پرور منظر دیکھ کر میرے دل میں دعوتِ اسلامی کی عقیدت ومحبت مزید گھرکرگئی اور آہستہ آہستہ میں بدمذہبوں کے شکنجے سے نکل کرمدنی ماحول کے قریب ہوتا چلا گیا۔  لیکن ابھی تک میں مدنی ماحول سے کماحقہ اِکتِسابِ فیض سے محروم تھا۔  ایک مرتبہ میں اپنے دفتر کے قریب ہوٹل پربیٹھاچائے پی رہا تھا کہ اتنے میں سبزعمامے والے ایک اسلامی بھائی تشریف لائے اور نہایت ہی پرخلوص اورمحبت بھرے انداز سے مجھے ایک رسالہ عنایت فرمایا جو بارہ ربیع الاوّل کے بارے میں تھا ، جب میں نے وہ رسالہ بنام ’’جشنِ بہاراں ‘‘ پڑھنا شروع کیا تو ایک ولیٔ کامل کی پُرتاثیر تحریر میرے دل میں اُترتی چلی گئی اور حضورصَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی محبت بدرجہ اَتم دل میں گھر کر گئی۔  یوں مجھے بدمذہبوں سے چھٹکارا حاصل ہو گیا، نیکیوں کا شوق بڑھنے لگا اور میں آہستہ آہستہ مدنی ماحول سے وابستہ ہو گیا۔  اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ تادمِ تحریر تحصیل مشاورت کے خادم (نگران)کی حیثیت سے تبلیغِ قراٰن و سنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے مدنی کام کی خدمت میں کوشاں ہوں ۔  

میں نکمّا تو کسی کام کے قابل ہی نہ تھا

مجھ سے بے کار کو تم نے ہی نبھایا یاغوث

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!       صلَّی  اللّٰہ  تعالٰی عَلٰی محمَّد

شہنشاہِ جنات سبز عمامے میں

        دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ کتاب ’’قومِ جنات اور امیرِ اہلسنّت‘‘ کے صفحہ 106 پر ہے :  ایک اسلامی بھائی کے بیان کا خلاصہ ہے کہ غالباً 1999ء میں جمعرات کے دن سند ھ کے عظیم بزرگ لعل شہباز قلندر رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ کے مزارِ فائِزُ الاَنوَار پر اپنے دوستوں کے ہمراہ حاضر تھا۔  میں آنکھیں بند کئے اِستِغاثیہ کلام پڑھ رہا تھا کہ اچانک میرے شانے پر کسی نے ہاتھ رکھ کر دبایا۔  میں نے آنکھیں کھولیں اور پیچھے مڑ کے دیکھا تومیری نظر ایک سفید ریش بزرگ پرپڑی جن کے سرپر سبزسبز عمامہ سجا ہوا تھا۔  انہوں نے پوچھا : ’’ یہ کلام جو تم پڑھ رہے تھے ( اے کاش میں بن جاؤں مدینے کا مسافر ) کس نے لکھا ہے ؟‘‘ میں نے عرض کی : ’’یہ میرے پیر ومرشد شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا کلام ہے ۔ ‘‘ دریافت فرمانے لگے :

 ’’ تمہارے پیر و مرشد الیاس قادری صاحب (دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ ) ہیں ؟‘‘ میں نے اِثبات میں سر ہلادیا۔  انہوں نے مجھ سے دوسرا کلام سنانے کی فرمائش کی تو میں نے امیر اہلسنّت  دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کاایک اور پُر سوز کلام سنایا ۔ جسے سن کر ان پر رِقَّت طاری ہو گئی۔  میں نے ان سے دعا کی درخواست کی تو انہوں نے فرمایا : ’’ تم بڑے خوش نصیب ہو کہ تمہیں زمانے کے مقبول ولی کا دامن ملا ہے، الیاس قادری صاحب اپنے مریدوں کیلئے بہت دعائیں فرماتے ہیں ۔  اپنے پیر ومرشد کی بارگاہ سے کبھی نظر ہٹا کر اِدھراُدھر مت دیکھنا ، ان کی نظر کرم تم پر ہو گئی تو تمہاری بگڑی بن جائے گی ۔ ‘‘ میں نے بے ساختہ ان کے ہاتھ چوم لئے او ر پوچھا :  ’’آپ کو ن ہیں ؟ ‘‘ پہلے تو انہوں نے ٹالا مگر میرے بے حد اصرار پر انہوں نے فرمایا : ’’میں شہنشاہ جنات ہوں ، ہمارا قافلہ اڑتا ہوا جا رہا تھا، یہاں کچھ دیر حاضری کیلئے آنا ہوا تو تمہارے پڑھے گئے کلام کی کشش نے روک لیا ۔ ‘‘ یہ کہتے ہوئے وہ بزرگ نظروں سے اوجھل ہو گئے ۔  و اللّٰہ  تعالٰی اعلم بحقیقۃ الحال

        اُن کے جانے کے بعد میں اپنے ساتھیوں کی طر ف متوجہ ہوا تو انہیں حیران وپریشان پایا ۔  انہوں نے مجھے بتایا کہ ہم پریشان تھے کہ نعتیں پڑھتے پڑھتے اچانک تم نے کس سے گفتگو شرو ع کردی جبکہ ہمیں دوسرا کوئی نظر نہیں آ رہا تھا ۔  جب میں نے انہیں ساری صورت حال بتائی کہ میر ی ملاقات امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے عقیدت مند شہنشاہِ جنات سے ہوئی ہے تو وہ بہت حیران ہوئے۔  (قومِ جنات اور امیرِاہلسنّت ، ص۱۰۴)     

 



Total Pages: 101

Go To