Book Name:Imamay kay Fazail

کریمہ کی تلاوت فرما رہے ہیں ۔  (تھذیب الکمال، ۶/ ۳۶۱ ، سیرِ اعلام النبلاء ، الحسین بن حریث، ۹/  ۵۷۴، رقم :  ۱۸۸۶)     

 اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ کی ان پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!       صلَّی  اللّٰہ  تعالٰی عَلٰی محمَّد

بعدِ وصال سبز عمامہ

        سِبْط اِبنِ جوزی کا بیان ہے کہ حضرت سیّدنا شیخ عمادالدین رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَـــیْہ کی تدفین کی رات جب میں واپس لوٹا تو ان کے بارے میں ، ان کے جنازے اوراس میں شرکت کرنے والے کثیر لوگوں کے متعلق سوچنے لگا۔  دل میں آیا کہ یہ توبہت نیک انسان تھے، جب انہیں قبر میں رکھا گیا ہو گا تو انہوں نے اپنے ربعَزَّوَجَلَّ  کا دیدار کیا ہو گا۔  اتنے میں مجھے وہ اَشعار یاد آگئے جوحضرت سیِّدُنا سفیان ثوریعَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی نے اپنی وفات کے بعد خواب میں مجھے سنائے تھے۔  پھرمیں نے کہا :  امید ہے حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی کی طرح انہوں نے بھی اپنے ربعَزَّوَجَلَّ کا دیدار کیا ہوگا۔  اس کے بعد مجھے نیند آ گئی تومیں نے دیکھا کہ حضرت سیِّدُنا شیخ عماد الدین عَلَیْہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  الْمُبِیْن سبزرنگ کا حُلّہ زیب ِ تن فرمائے، سرپر سبز سبز عمامہ شریف سجائے گویا ایک وسیع و عریض باغ میں ہیں اوروسیع درجات میں بلند ہورہے ہیں ۔  

        میں نے ان سے کہا : ’’اے عماد الدین!قبر کی پہلی رات کیسی گزری؟  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ کی قسم!میں آپ ہی کے متعلق سوچ رہاتھا ۔ ‘‘وہ میری طرف دیکھ کر حسبِ عادت ویسے ہی مسکرائے جیسے دنیا میں مسکراتے تھے پھریہ اشعارکہے(جن کا مفہوم کچھ اس طرح ہے)کہ جب مجھے قبرمیں اُتاراگیااورمیں اپنے دوستوں ، اہل وعیال اور پڑوسیوں سے جدا ہوا تو اس وقت میں نے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ  کا دیدار کیا۔   اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا : ’’ تجھے میری طرف سے بہترین بدلہ دیاجائے گا بے شک میں تجھ سے راضی ہوں اورمیری بخشش ورحمت تیرے ساتھ ہے۔ تم ساری زندگی میرے عفو و کرم اور رضا و خوشنودی کی امید میں رہے پس تجھے جہنم سے بچا کرجنت میں پہنچا دیاجائے گا۔ ‘‘ سِبط اِبنِ جَوزی نے کہا : اس کے بعد میں نیند سے بیدار ہو گیا مجھ پرخوف طاری تھا اورمیں نے ان اشعارکولکھ لیا۔  (البدایہ والنہایہ ، احداث سنۃ اربع عشرۃ و ست مائۃ، الشیخ الامام العلامہ الشیخ العماد، ۸/ ۵۸۴)

 اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ کی ان پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!   صلَّی  اللّٰہ  تعالٰی عَلٰی محمَّد

سبز عمامے والا خوش نصیب

       حضرت سیّدنا یحییٰ بن یحییٰ رَحمۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : جب  اللّٰہ  تعالٰی نے حضرت سیّدنا امام مالک بن اَنَس رَحمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ کی طرف علمِ دین کے حصول کے لیے میری رہنمائی فرمائی اور میں آپ رَحمۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ کے پاس حاضر ہوا تو سیّدنا امام مالک رَحمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ نے مجھے سب سے پہلے جو بات ارشاد فرمائی وہ یہ تھی، آپ رَحمۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ نے پہلے مجھ سے میرا نام دریافت فرمایا، میں نے عرض کی :   اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ آپ کوعزت عطا فرمائے، میرا نام یحییٰ ہے۔  حضرت سیّدنا یحییٰ رَحمۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ میں اس وقت اپنے ساتھیوں میں عمر کے اعتبار سے سب سے چھوٹا تھا ، حضرت سیّدنا امام مالک رَحمۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا :   اللّٰہ   اللّٰہ ، اے یحییٰ !تحصیلِ علمِ دین کے لیے محنت و لگن کو لازم پکڑلو، میں تمھاری علم دین میں رغبت بڑھانے کے لیے ایک طالبِ علم کا واقعہ سناتا ہوں جو تمہیں حصولِ علم میں رغبت دلانے اور اس کے غیر سے بچانے میں مُعاوِن ثابت ہو گا۔ اس کے بعد آپ رَحمۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ نے واقعہ بیان فرمایا کہ اہلِ شام سے تمہاری عمر کا ایک نوجوان علمِ دین کی جستجو میں مدینہ شریف آیا اور ہمارے ساتھ تحصیلِ علم دین میں مشغول رہا پھر اس کا انتقال ہو گیا، میں نے اس کے جنازے میں ایسے روح پرور مناظر دیکھے جو اس سے پہلے اپنے شہر کے کسی عالمِ دین اور کسی طالبِ علم کے جنازے میں نہیں دیکھے تھے ۔  میں نے اس کی میِّت کے پاس علماء کرام کا ایک جَمِّ غَفِیر دیکھا، حاکمِ وقت نے جب کثیر علماء کرام کو دیکھا تو خود جنازہ پڑھانے سے رُک گیا اور کہا آپ حضرات میں سے جو جنازہ پڑھانا پسند فرمائے وہ آگے تشریف لے آئے، چنانچہ اہلِ علم میں سے حضرت سیّدنا امام رَبِیعَہ رَحمۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ آگے بڑھے اور ان کی نمازِجنازہ پڑھائی اور پھر حضرت سیّدنا  ربیعہ ، زید بن اسلم ، یحیی بن سعید ، اور ابن شہاب رَحمۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِم نے ان کو قبر میں اتارا اور حضرت سیّدنامحمد بن منذر، صفوان بن سُلَیم ، ابو حازم رَحِمَہُمُ  اللّٰہ  المُبِیْن اور ان جیسے دیگر اہلِ علم حضرات ان کی قبرکے قریب ہوئے اور اینٹیں لگوانے میں حضرت سیّدنا ربیعہ رَحمۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ کی مُعَاوَنَت فرمائی ۔  حضرت سیّدنا امام مالک رَحمۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ  فرماتے ہیں اس نوجوان کی تدفین کے تین دن بعد ایک بزرگ رَحمۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اسے خواب میں انتہائی حسین وجمیل صورت میں سفید لباس زیب ِتن کیے ، سر پر سبزسبز عمامہ شریف کا تاج سجائے ، ایک چتکبرے گھوڑے پرسوار آسمان سے اترتے دیکھا گویا کہ وہ کوئی پیغام لے کر آرہے ہیں ۔  انھوں نے سلام کیا اور کہا کہ یہ مقام مجھے علمِ دین کے سبب ملا ہے ،  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ نے مجھے علمِ دین کے ہر باب کے بدلے جو میں نے سیکھا تھا جنت میں ایک درجہ عطا فرمایا مگر میں پھر بھی اہلِ علم کے مقام و مرتبے کو نہ پہنچ سکا۔   اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا :  انبیائے کرام عَلَیْھِمُ الصلٰوۃُ والسَّلام کی وِرَاثت کو بڑھادو، میرے ذمۂ کرم پر ہے کہ میں عالمِ اور علمِ دین کی طلب میں فوت ہوجانے والے طالبِ علم کو جنت کے ایک درجے میں جمع کردوں گا۔  پھر میرے رب نے مجھ پر مزید عطائیں فرمائیں یہاں تک کہ میں اہلِ علم کے درجات کو پہنچ گیا اور میرے اور رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے درمیان صرف دو درجوں کا فاصلہ رہ گیا ایک وہ درجہ جس میں سرکار صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور آپ کے گرد باقی انبیاء کرا م عَلَیْھِمُ الصلٰوۃُ والسَّلام تشریف فرما تھے اور دوسرا وہ درجہ جس میں سرکار صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے تمام صحابہ اور دیگر انبیائے کرام عَلَیْھِمُ الصلٰوۃُ و السَّلام کے اصحاب تھے ان کے بعد علمائے کرام رَحِمہُمُ  اللّٰہ  السَّلام اور طلبۂ علمِ دین کا درجہ تھا ۔  مجھے اس درجہ کی سیر کرائی گئی یہاں تک کہ میں اہلِ علم کے درمیان پہنچ گیا۔  مجھے دیکھ کر سبھی کے لبوں پر مرحبا مرحبا کی صدائیں جاری ہو گئیں ۔  اس کے علاوہ بھی بارگاہِ الٰہی میں میرے لیے نعمتیں ہیں ۔  خواب دیکھنے والے بزرگ رَحمۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ نے پوچھا وہ نعمتیں کیا ہیں ؟ تو اس نوجوان نے کہا کہ  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے کہ میں تمام انبیاء کرام عَلَیْھِمُ الصلٰوۃُوالسَّلام کو قیامت کے دن ایک زمرے میں جمع کروں گا جیسا تم نے دیکھا اور پھر فرمایا :  اے گروہِ علماء !یہ میری جنّت ہے جسے میں نے تمہارے لیے مباح فرما دیا ہے ، اور یہ میری رضا ہے بے شک میں تم سے راضی ہوں ، تم اس وقت تک جنت میں داخل نہ ہونا جب تک کہ تمہاری تمنائیں پوری نہ ہو جائیں اور تم شفاعت نہ کر لو ۔  تم سوال کرو عطا کیا جائے گا ، تم جس کی



Total Pages: 101

Go To