Book Name:Imamay kay Fazail

عمامہ میں کوئی حرج نہیں ہے ۔  (ماہنامہ اشرفیہ فروری ۱۹۹۹ء بحوالہ دعوتِ اسلامی علمائے اہلِ سنّت کی نظر میں ، ص ۳۸)

مفتی ریاض الحسن  رَحمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ کا فتویٰ

        خلیفۂ حُجَّۃُ الاِسلام حضرت علّامہ مولانا ریاض الحسن جیلانی قادری رَحمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ سبز عمامہ شریف بھی باندھتے تھے یہی وجہ ہے کہ ایک مرتبہ آپ (رَحمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ) کے ایک مُعَاصِر عالم (صاحب )نے آپ سے سبز عمامہ کے متعلق اِستفسار کیا اور یہ رائے بھی قائم کی کہ سبز عمامے کے بجائے سفید ہی ہونا چاہیے۔  اس پر آپ رَحمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ نے سبز عمامے کے(جواز کے ) متعلق ایک رسالہ بنام’’لَمْعَۃُ النَّیَّر فِی لَونِ الَاخضَر‘‘ تحریر فرمایا جو کہ سبز عمامے کے متعلق لکھا جانے والا پہلا تحقیقی رسالہ ہے ۔  (ریاض الفتاویٰ ، ۳/ ۲۵۱)

نوٹ : یہ رسالہ ریاض الفتاویٰ کی تیسری جلد میں صفحہ 251 تا 257 پرموجود ہے۔  

مفتی محمد فیض احمد اویسی عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی کا فتویٰ

        خلیفۂ مفتیٔ اعظم ہند، مُصَنِّفِ کُتُبِ کثیرہ ، حضرتِ علّامہ مفتی محمد فیض احمد اویسی رضوی عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی اپنے رسالے ’’سبز عمامہ کا جواز‘‘‘ میں فرماتے ہیں :  دورِ حاضر میں جن صاحبان نے سبز عمامہ کو بدعت و حرام کہا ہے انہوں نے شریعتِ مُطَہَّرہ پر اِفتراء اور خود کو مستحقِ سزا بنایا ہے اس لئے کہ اس کا استعمال بہشت میں بہشتیوں (جنتیوں ) کو نصیب ہو گااور دنیا میں خود سرور ِعالم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے اس کا استعمال ثابت ہے اور جو عمل حضور سرورِ عالم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے ثابت ہو اس کو بدعت و حرام کہنا ظلمِ عظیم ہے۔(سبز عمامہ کا جواز، ص ۷)

       مزید حضرت مُلَّا علی قاری  عَلَیہِ رَحْمۃُ اللّٰہ  البَارِی کے حوالے سے ایک روایت ’’کَانَ اَحَبُّ الاَلْوَانِ اِلَیْہِ الخُضْرَۃ یعنی رسولِ کریم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو رنگوں میں زیادہ محبوب سبز رنگ تھا ‘‘ نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں :   

  جب رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو سبز رنگ مَرغُوب و محبوب ہے تو پھر امتی کو ضد کیوں ؟ ثابت ہوا کہ سبز عمامہ جائز و مستحب ہے کیونکہ اصل مقصود عمامہ باندھنا ہے وہ خواہ سفید رنگ میں ہو یا سبز و پیلے رنگ کا، مُعتَرِضِین کا اسے بدعت و ناجائز کہنا غلط اور خلافِ تحقیق ہے۔  (سبز عمامہ کا جواز، ص ۱۰)

نوٹ :  مفتی صاحب رَحمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ نے سبز عمامے کے جواز پر ۴۰ صفحات پر مشتمل ایک رسالہ بنام ’’سبز عمامہ کا جواز‘‘ تحریر فرمایا جس میں آپ رَحمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ نے سبز عمامے کے جواز پر تفصیلی کلام فرمایا ہے ۔  

مفتی عبدالرزاق بھُترالوِی صاحب کا فتویٰ

        مُحَقِّقِ اہلِ سنّت ، مُحَشِّیِ کُتُبِ درسِ نظامی، مُصَنِّفِ کُتُبِ کثیرہ حضرتِ علّامہ مفتی عبدالرزاق چشتی بھُترالوِی مُدَّ ظِلُّہُ العَالِی نے بھی سبز عمامے کے متعلق۵۶ صفحات پر مشتمل ایک علمی و تحقیقی رسالہ بنام ’’سبز عمامہ کی برکتوں سے کذّاب جل اُٹھے ‘‘تحریر فرمایاہے جس میں دلائل وبراہین سے نہ صرف اس کا جواز ثابت کیا بلکہ اس کے متعلق پیدا ہونے والے شیطانی وساوس کے تسلی بخش جوابات بھی دئیے ہیں ۔  

مفتی رضاء المصطفیٰ ظَرِیفُ القادری صاحب کا فتویٰ

        حضرت علّامہ مفتی  رضاء المصطفیٰ ظَرِیفُ القادری مُدَّ ظِلُّہُ العَالِی سبز عمامہ شریف کے جواز پر لکھے گئے اپنے رسالے میں فرماتے ہیں : بلاشبہ سبز رنگ کا عمامہ باندھنا جائز و رَوَا ہے اور اس کے استعمال میں شرعاً کوئی حرج ومُضَایَقَہ نہیں ، سفید وغیرہ رنگ کے عمامہ کی طرح اس رنگ کے عمامہ کو باندھنے سے بھی اِن شَآئَ  اللّٰہ  سنّت پاک پر عمل ہو جائے گا اور ایسے رنگ کا عمامہ باندھنے والا بارگاہِ خداوندی جَلَّ جَلَالُہٗ میں اجرو ثواب کا مستحق ہو گا۔  کتبِ احادیث و سِیَر میں اگرچہ باِلعُمُوم باقی رنگ کے عَمائِم کا ذکر ہے تاہم محقق علی الاطلاق  شیخ عبدالحق محدث دہلوی  عَلَیْہِ الرَحْمَۃ رسولِ کریم عَلَیْہِ الصَلٰوۃُ وَالتَّسلِیم کے لباس مبارک کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ’’دستارمبارک آنحضرت صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم اکثر اوقات سفید بودگاہے سیاہ و احیاناً سبز ترجمہ :  رسولِ کریم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی دستار مبارک اکثر سفید ہوتی تھی کبھی سیاہ رنگ کی ہوتی اور بسا اوقات سبز رنگ کی ہوتی۔ ‘‘ (ضیاء القلوب فی لباس المحبوب ، ص ۳) لہٰذا حضرت محدّث دہلوی کے اس قول کی صحت کی صورت میں سبز رنگ کا عمامہ سُنّتِ مُستَحَبَّہ کے زُمرہ میں آجاتا ہے، اگر بالفرض سیدِ عالم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے اس رنگ کا عمامہ استعمال فرمانا روایۃً منقول و ثابت نہ بھی ہو تو یہ امر اَظْہَرْ مِنَ الشَّمْس ہے کہ رسولِ کریم عَلَیْہِ السَّلَام نے سبز رنگ کے کپڑوں کو نہ صرف پسند فرمایا بلکہ استعمال بھی فرمایا۔  (سبز عمامہ کا جواز، ص ۲)     

                        مفتی صاحب مہاجرین اوّلین کے سبز عمامہ شریف پہننے والی روایت([1]) ذکر کرنے کے بعد تحریر فرماتے ہیں :  روایتِ مذکور کے اِطلاق میں ان صحابۂ کرام کا بھی سبز وغیرہ رنگ کے عمامے باندھنا ثابت ہوتا ہے اور اس اطلاق کی روشنی میں یہ کہنا بے جا نہ ہو گا، کہ سبز رنگ کا عمامہ باندھنا پیارے صدیقِ اکبر (رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنہ) کی سنّت ہے، حضرت فاروقِ اعظم رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنہ حضرت عثمان ذُوالنُّورَین رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنہ، حضرت سیّدنا علی المرتضی شیرِ خدا رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنہ اور شہداء بدر وغیرہم مہاجرین اولین صحابۂ کرام رَضِیَ  اللّٰہ  عَنْہُم کی سنّت ہے۔  

        مذکور روایت میں مہاجرین اوّلین کے مُطلَق ذکر کی روشنی میں یہ غالب و قوی پہلو کار فرما ہے کہ ان حضرات نے سبز رنگ کے عمامے رسولِ کریم عَلَیْہِ السَّلَام کے سامنے باندھے ہوں اور آپ کا منع فرمانا ثابت نہیں اور ایسا امر جس کو دیکھ کر رسولِ کریم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے سکوت فرمایا اور منع نہ فرمایا ’’سنّتِ تقریری و سُکوتی کہلاتا ہے‘‘ چنانچہ دیگر کُتُبِ اُصول کے علاوہ نظامی شرح حسامی میں ہے’’ اَلسُّنَّۃُ تُطلَقُ عَلٰی قَولِ الرَّسُولِ عَلَیہِ السَّلام وَ فِعلِہ وَ سُکُوتِہ و بالفاظ نظامی عند امر یعانیہ‘‘ یعنی سنّت کا اِطلاق رسولِ کریم عَلَیْہِ السَّلَام کے قول ، فعل اور اس امر پر کیا جاتا ہے، جس کو دیکھ کر آپ نے سُکوت فرمایا۔  (النظامی شرح حسامی ، باب فی بیان اقسام سنۃ ، ص۶۶)  لہٰذا اس طرح بھی سبز عمامہ کا مَسنُون ہونا ثابت ہوتا ہے۔  

خلفائے راشدین کی سنّت

 



[1]       مصنف ابن ابی شیبہ ، کتاب اللباس ، باب من کان یعتم بکور واحد ، ۱۲/۵۴۵، حدیث: ۲۵۴۸۹ واللفظ لہ ، مسند اسحاق بن راہویہ، ما یروی عن الاسود بن یزید الخ، ۳/۸۸۲، رقم: ۱۵۵۶



Total Pages: 101

Go To