Book Name:Imamay kay Fazail

ہستیوں سے عرض کرنا کہ رِضوان (فِرِشتہ، خازِنِ جنَّت)بھی آپ حَضرات کی خدمات میں سلام عرض کرتا ہے۔  (روض الریاحین، ص ۳۲۹)

سبز رنگ سنّت ہے

                        حضرت سیّدنا اَنَس بن مالک رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہُ روایت فرماتے ہیں :  کَانَ اَعجَبُ اللِّبَاسِ اِلَی الرَّسُولِ الثِیَابَ الخَضْر یعنی نبیٔ اکرم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو سبز لباس سب سے زیادہ پسند تھا۔  (ناسخ الحدیث و منسوخہ، کتاب جامع، باب فی لبس البیاض، ص۵۶۰، حدیث : ۵۸۹)

                        حضرت علامہ سیّد محمد امین ابن عابدین شامی قُدِّسَ سِرُّہُ السَّامِی سبز رنگ کو سنّت قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں :  ’’لُبْسُ الاَخْضَرِ سُنّۃٌ یعنی سبز رنگ پہننا سنّت ہے۔ ‘‘

(درمختار و ردالمحتار، کتاب الحضر والاباحۃ، فصل فی اللبس ، ۹/ ۵۸۰)

                        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ حضرت علّامہ شامی  رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ نے فیصلہ ہی فرما دیاکہ سبز رنگ پہننا سنّت ہے چونکہ عمامہ لباس ہی کا حصہ ہے اس لیے حضرت  علّامہ شامی رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ کی اس عبارت سے سبز عمامے کا پہننا بھی سنّت ثابت ہوا۔  اس عبارت سے سبز عمامے پر استدلال یوں بھی درست ہے کہ امام جلال الدین سیوطی عَلَیہ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی سے جب سوال کیا گیا : ذَکَرَ بَعضُھُم اَنَّ النَّبِیّ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہِ وَسَلَّم لَبِسَ عِمَامَۃً صَفرَائَ فَھَل لِذَالِکَ اَصلٌ ؟ یعنی بعض لوگ کہتے ہیں کہ نبیٔ اکرم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے زرد عمامہ پہنا ہے، تو کیا اس کی کوئی اصل ہے ؟

        حضرت علامہ جلال الدین سیوطی عَلَیہ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی نے جواب میں زرد عمامہ شریف والی روایات کے ضمن میں یہ حدیث بھی ذکر فرمائی کہ حضرت سیّدنا عبد اللّٰہ  بن عمر رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہُما سے مروی ہے :  کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہِ وَسَلَّم یُصَفِّرُ ثِیَابَہ یعنی نبیٔ اکرم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم اپنے کپڑوں کو زرد رنگا کرتے تھے۔  

(الحاوی للفتاوی ، کتاب البعث، ذکر ما وقع لنا من روایۃ الحسن الخ، ۲/ ۱۲۶)

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! غور فرمائیے حضرت سیّدنا امام جلال الدین سیوطی عَلَیہ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی کا ’’زرد عمامے‘‘ سے متعلق سوال کے جواب میں ’’زرد کپڑوں ‘‘ والی حدیث پیش کرنا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ لباس کے اطلاق میں عمامہ بھی شامل ہے، ورنہ سوال و جواب میں مُطابَقَت ہی نہ ہوگی جو کہ علامہ جلال الدین سیوطی عَلَیہ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی جیسی شخصیت کے متعلق تصور بھی نہیں کی جا سکتی۔   

                                                حضرت علّامہ ملا علی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  ِالْبَارِی فرماتے ہیں :  ’’اِبنِ بَطَّال رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا :  ’’سبز لباس جنّتیوں کا لباس ہے اور سبز رنگ کے لیے یہی شرْف کافی ہے کہ اہلِ جنّت کے لباسوں کا رنگ سبز ہو گا اسی وجہ سے شُرَفا نے اسے اپنا یا ہے۔  ‘‘(جمع الوسائل، باب ماجاء فی لباس رسول  اللّٰہ  الخ ، الجزء الاول، ص۱۴۴)

                                                حضرت علّامہ شیخ عبدالحق مُحَدِّث دہلوی عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی سبز رنگ کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :  ’’سبز رنگ کی طرف دیکھنا نظر کو تیز کرتا ہے۔ ‘‘

(کشف الالتباس فی استحباب اللباس، ذکر آداب لباس ، ص ۳۷)

سبز رنگ’’امن‘‘ کی علامت ہے

                        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! غالباً مذکورہ بالا قول کہ سبز رنگ کی طرف دیکھنا نظر کو تیز کرتا ہے کی وجہ سے ہی آپریشن والی آنکھ پر ڈاکٹر صاحبان سبز کپڑے کا ٹکڑا بندھواتے ہیں ، نیز سبز رنگ ’’امن‘‘ کی علامت بھی ہے کہ ٹرین کو چلانے کیلئے سبز جھنڈی دکھائی جاتی ہے یہ اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ آگے کوئی خطرہ نہیں ہے۔  اسی طرح دیگر گاڑیوں کو بھی ٹریفک کی سبز لائٹ ہی جانے کا اشارہ کرتی ہے کہ گاڑی آگے بڑھنے دو کوئی خطرے کی بات نہیں ہے۔      

امیرِ اہلسنّت کی سبز رنگ سے محبت

        پندرھویں صدی کی عظیم علمی و رُوحانی شخصیت، شیخِ طریقت، امِیرِ اہلسنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّار قادری رضوی ضیائی دَامَت بَرَکاتُہُمُ العَالِیَہ زبر دست عاشقِ رسول ہیں ۔  آپ  دَامَت بَرَکاتُہُمُ العَالِیَہ کا عاشقِ رسول ہونا ہر خاص وعام پر ظاہر وباہِر ہے اور سچی محبت کا تقاضا ہے کہ محبوب کی ہر پسندیدہ چیز بلکہ محبوب سے نسبت رکھنے والی ہر ہر شے سے بھی محبت کی جائے۔  سبز گنبد کے مَکِین، رَحمَۃٌ لِّلعَالَمِین صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو سبز رنگ محبوب تھا اور آپ عَلَیْہِ الصلٰوۃُوَالسَّلام کے روضۂ مبارکہ پر بنے گنبد کا رنگ بھی سبز ہے یہی وجہ ہے کہ عاشقِ صادق، شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت دَامَت بَرَکَاتُہُمُ العَالِیَہ بھی سبز رنگ سے بے حد محبت کرتے ہیں اس کا اندازہ مندرجہ ذیل ملفوظات سے لگایا جا سکتا ہے جس کا اظہار آپ دَامَت بَرَکَاتُہُمُ العَالِیَہ وقتاً فوقتاً اپنے بیانات و مدنی مذکرات میں فرماتے رہتے ہیں کہ ’’میں نے گنبدِ خضریٰ کی نسبت ہی سے تو سبز رنگ کو سر پہ سجایا ہے (کہ اسے میرے مصطفی صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے پسند فرمایا ہے ) اب اسے قدموں تلے روندوں ؟ میرا جی نہیں چاہتا کہ میں اپنے قدموں سے سبز گھاس کو روندوں یا سبز قالین پر ہی چلوں یہ اگرچہ جائز ہے لیکن دل نہیں مانتا۔  اگرچہ کبھی کبھار نہ چاہتے ہوئے چلنا بھی پڑ جاتاہے۔  بعض لوگ سبز رنگ کی چپل پہنتے ہیں ، بعض لیٹرین کے دروازے پر سبزرنگ کا پائیدان رکھتے ہیں ، اِستِنجا کا لوٹا سبز رکھتے ہیں میں اسے ناجائز یا گناہ تو نہیں سمجھتا لیکن میرا دل نہیں کرتا کہ میں ایسا کروں ‘‘ کہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں عَلیْہ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں :  

        ہم عشق کے بندے ہیں کیوں بات بڑھائی ہے

سبز عمامے کے جواز پر مفتیانِ کرام کے فتاویٰ

مفتی شریف الحق امجدی عَلَیْہ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  الْقَوِی کا فتویٰ

       شارح بخاری ، نائب ِمفتیٔ اعظم ہند، مفتی شریف الحق امجدی عَلَیْہ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  الْقَوِی ایک سوال :  ’’سبز رنگ کے عمامہ میں کوئی حرج ہے یا نہیں ؟‘‘ کے جواب میں فرماتے ہیں :  سبز رنگ کے



Total Pages: 101

Go To