Book Name:Imamay kay Fazail

سبز لباس میں خطبہ ارشاد فرمایا

                                                حضرت سیّدنا امام احمد بن شعیب نَسائی رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ نے اسی روایت کو ان الفاظ کے ساتھ نقل کیا ہے :  حضرت سیّدنا ابو رِمثہ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا :  رَاَیْتُ النَّبِیَّ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّمَ یَخْطُبُ وَعَلَیْہِ بُرْدَانِ اَخْضَرَان یعنی  میں نے نبی ٔ کریم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی یوں زیارت کی کہ آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے  دو سبز چادریں زیب تن فرما رکھی تھی اور خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔  (نسائی، کتاب صلٰوۃ العیدین ، باب الزینۃ للخطبۃ للعیدین، ص، ۲۷۳، حدیث : ۱۵۶۹)

          ایک اور روایت میں آپ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے سبز کپڑے استعمال فرمانے کا ذکر یوں ہے کہ  حضرت سیّدنا ابو رِمثہ تمیمی رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :  کُنْتُ مَعَ اَبِی فَاَتَیْتُ النَّبِیَّ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم فَوَجَدْنَاہُ جَالِسًا فِی ظِلِّ الْکَعْبَۃِ وَعَلَیْہِ بُرْدَانِ اَخْضَرَانِ یعنی میں اپنے والد کے ہمراہ نبی ٔ پاک صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہوا تو ہم نے نبی ٔ کریم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہِ  وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو خانۂ کعبہ کے سائے میں یوں تشریف فرما دیکھا کہ آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے دو سبز چادریں زیب ِتن فرمائی ہوئی تھیں ۔  

(مسند احمد ، مسند الشامیین ، حدیث ابی رمثہ التمیمی ، ۶/ ۱۵۹، حدیث : ۱۷۵۰۱)

جبریلِ امین کا سبز لباس

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حضرت سیّدنا جبرئیلِ امین عَلَیْہِ الصلٰوۃُوَالسَّلام کے سبزلباس پہننے کا بھی حدیث میں ذکر موجود ہے چنانچہ

        حضرت علامہ عبدالوہاب شَعرانی قُدِّسَ سِرُّہُ السَّامِی نقل فرماتے ہیں :  سرکارِ دوعالم، نور ِمجسم ، شاہِ بنی آدم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :  جبریلِ امین عَلَیْہِ السَّلَام میرے پاس سبز لباس میں حاضر ہوئے جس میں موتی لٹک رہے تھے۔  (کشف الغمہ ، کتاب الصلوۃ ، باب مایحل و یحرم من اللباس ، الجز ء الاول، ص۱۸۴)

اذان سکھانے والے فرشتے کا لباس

        صحابۂ کرام عَلَیھِمُ الرِّضوَان کو خواب میں اذان سکھانے والے فرشتے نے بھی سبز رنگ کا لباس پہن رکھا تھا چنانچہ حضرت سیّدنا محمد بن عبد اللّٰہ  بن زید رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہُ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں : رَاَیْتُ رَجُلاً عَلَیْہِ ثَوْبَانِ اَخْضَرَانِ یعنی جو فرشتہ اذان سیکھانے کیلئے آیا تھا اس نے دو سبز کپڑے پہن رکھے تھے۔ (ابن ماجہ، کتاب الاذان والسنۃ فیھا ، باب بدء الاذان، ۱/ ۳۸۹، حدیث : ۷۰۶)     

وفود سے ملاقات کے وقت سرکار کا لباس

       مُحَدِّثِ کَبِیر حضرت علّامہ عبدالرحمن ابنِ جوزی   عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی فرماتے ہیں کہ سرکارِ نامدار صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے پاس ایک سبز رنگ کی چادر تھی جس کی لمبائی چار گز اور چوڑائی ڈھائی گز تھی جسے آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم وفود سے ملاقات کے وقت زیبِ تن فرماتے تھے۔(الوفا باحوال المصطفیٰ، الباب الثامن فی ذکرردائہ، الجزء الثانی، ص۱۴۱)

مقامِ محمود پر سرکار کا سبز لباس

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! سبز رنگ سے نبیٔ اکرم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی محبت اور  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں اس کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ بروزِ قیامت اپنے پیارے محبوب صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو جو حُلّہ شریف عطا فرمائے گا اس کا رنگ بھی سبز ہو گا چنانچہ

        حضرت سیّدنا کعب بن مالک رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :  ’’بروزِ قیامت جب لوگ اپنی قبروں سے نکلیں گے میں اپنی امت کو ایک ٹیلے پر لے جاؤں گا ، وہاں مجھے میرا رب عَزَّوَجَلَّ سبز حُلّہ (جنّتی لباس) پہنائے گا۔  (الوفا باحوال المصطفیٰ، الباب الثامن فی ذکر المقام المحمود ، الجزء الثانی، ص ۳۳۱)

صحابیہ کی سبز اوڑھنی

        صحابیٔ رسول حضرت سیّدنا عبدالرحمن بن زبیر رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کی زوجہ ایک بار سر پر سبزرنگ کا دوپٹہ اوڑھے اُمُّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہا کی بارگاہ میں حاضر ہوئیں ۔  (بخاری، کتاب اللباس، باب ثیاب الخضر، ۴/ ۵۷، حدیث : ۵۸۲۵ مختصرًا)

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ حدیثِ مبارک میں ایک صحابیہ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہا کے سبز رنگ کا دوپٹہ اوڑھنے کا ذکر ہے۔  اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ دعوتِ اسلامی کے تحت چلنے والے مدنی مُنیوں کے مَدارِسُ المَدِینہ، دَارُالمَدِینہ اور اسلامی بہنوں کے جامعات المدینہ کی طالبات اورپڑھانے والی اسلامی بہنیں بھی اپنے سروں پر سبز سبز رنگ کے ’’اِسکارف‘‘ اوڑھتی ہیں ۔  اس کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ

یونیفارم کی تفصیل

        مَدَنی بُرقَع (دو حصوں پر مشتمل مکمل ترکیب جو مدنی مرکز کے طریقہ کار میں ہے) ڈِھیلی ڈھالی سفید شلوار قمیص جس کی آستینیں کلائی تک ہوتی ہیں ۔  کالے دَستانے اور گرین اِسکارف (سبز رنگ کی بڑی اوڑھنی)۔  ان اسلامی بہنوں کو ترغیب دلائی جاتی ہے کہ جس جگہ صرف اسلامی بہنیں ہی ہوں وہاں بھی مدنی برقعے کا اُوپری حصہ نہ اُتاریں بلکہ اس پر ہی گرین اِسکارف پہن لیا کریں ۔  

سبز گھڑ سُوار

        حضرتِ سیِّدُنا شیخ ابو عمران واسِطی عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی فرماتے ہیں کہ میں مکّۂ مکرَّمہ زَادَھَا  اللّٰہ  شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًا سے سُوئے مدینۂ منوَّرہ زَادَھَا اللّٰہ  شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًا سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مزارِ فائضُ الانوار کے دِیدار کی نیَّت سے چلا، راستے میں مجھے اِتنی سخت پیاس لگی کہ موت سر پر منڈلانے لگی ، نِڈھال ہو کر ایک کِیکَر کے دَرَخْتْ کے نیچے بیٹھ گیا۔   یکایک سبز لباس میں ملبوس ایک سبز گھڑ سُوار نُمُودار ہوئے ، اُن کے گھوڑے کی لگام اور زِین بھی سبز تھی نیز اُن کے ہاتھ میں سبز شربت سے لبالب سبز پِیالہ تھا، وہ اُنہوں نے مجھے دیا اور فرمایا :  پیو! میں نے تین سانس میں پیا مگر اُس پیالے میں سے کچھ بھی کم نہ ہوا۔  پھر اُنہوں نے مجھ سے فرمایا : کہاں جارہے ہو؟ میں نے کہا :  مدینۂ منوَّرہ زَادَھَا اللّٰہ  شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًا   تاکہ سرورِ کونَین ، رَحمتِ دارَین صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور شیخینِ کریمین رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہُمَا کی بارگاہوں میں سلام عرض کروں ۔  فرمایا :  جب تم وہاں پہنچو اور اپنا سلام عرض کرلو تو اُن تینوں بُلند و بالا



Total Pages: 101

Go To