Book Name:Imamay kay Fazail

حضور اعلیٰ حضرت قُدِّسَ سِرُّہُ کے پیش کار رہے ، ان کے پاس امام احمد رضا رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ کا ایک استعمال شدہ عمامہ برنگ سبز موجود تھا ۔  سید قناعت علی رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہایک عرسِ قادری رضوی کے موقعہ پر لائل پور([1]) وہ دستار لائے اور حضرت شیخ الحدیث (محدّث اعظم پاکستان مولانا سردار احمد ) قُدِّسَ سِرُّہُ کے حضور پیش کی ۔  جناب سید قناعت علیرَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ نے اس وقت ایک درخواست کی کہ حضور وعدہ کیجئے کہ کل بروزِ قیامت جب آپ جنت میں داخل ہوں گے ، فقیر کو نہ بھولئے گا ۔ اس پر حضرت شیخ الحدیث قُدِّسَ سِرُّہُ آبدیدہ ہو گئے ۔  اور فرمایا کہ جنت میں داخلہ تو آپ کے نانا پاک  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم اور آپ کے طفیل ہی ملے گااور پھر یہ کہ آپ حضور اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ کی زیارت اور خدمت سے مشرف ہیں ۔  خود آپ کا تعلق جس گھرانے سے ہے اسی کے صدقہ سب کو جنت میں داخلہ نصیب ہو گا ۔  آپ اس قسم کی باتیں کرتے رہے اور جناب سید قناعت علی رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ اپنی درخواست پر اصرار کرتے رہے ۔  یہ منظر حاضرین کے لئے بڑی رِقّت کا باعث بنا۔  بعد ازاں آپ (محدّثِ اعظم پاکستان) نے عمامہ لے کر امام احمد رضا قُدِّسَ سِرُّہُ کی طرز پر باندھا ۔  (تذکرہ محدّثِ اعظم پاکستان ، ۲ /  ۳۷۵)     

مفتی ریاض الحسن صاحب کا سبز عمامہ

       خلیفۂ حُجَّۃُ الاِسلام، حضرت علّامہ مولانا ریاض الحسن جیلانی قُدِّسَ سِرُّہ صاحبِ علم و فضل تھے آپ (رَحمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ) اکثر اوقات سفید عمامہ کے علاوہ دیگر رنگوں اور سبز عمامہ بھی استعمال فرماتے تھے۔  (ریاض الفتاویٰ ، ۳/ ۲۵۱)

پیر جماعت علی شاہ صاحب کا سبز عمامہ

       سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کے عظیم پیشوا، امیرِ ملت ، محدّث علی پوری ، حضرت علّامہ سیّد جماعت علی شاہ  رَحمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ کا لباس مبارک ہمیشہ سفید ہوتا تھا سردیوں میں البتہ سبز رنگ کے پشمینہ کی پگڑی (عمامہ شریف) باندھتے تھے۔  (تذکرہ اولیائے پاکستان ، ۱/ ۴۳۵)

خواجہ فقیر محمد چوراہی کا سبز عمامہ

        سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کے عظیم شیخِ طریقت، حضرت خواجہ فقیر محمد المعروف باباجی تیراہی عَلیْہ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  الْقَوِی سر پر کلاہ اور اس پر لُنگی خط دار یا سبز عمامہ پہنتے تھے۔  (تذکرہ نقشبندیہ خیریہ ، ص ۵۴۴)

باعمامہ روح

        عَارِف ب اللّٰہ  حضرت خواجہ توکّل شاہ انبالوی عَلیْہ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  الْقَوِی (متوفّٰی ۱۳۱۵ھ) نے اپنے وصالِ پُرملال کی بشارت دیتے ہوئے ارشاد فرمایا :  ہماری  روح سبز عمامہ باندھے بدن سے رخصت ہو نے کے لیے تیار بیٹھی ہے۔  (بزرگ، ص۴۰۳)

محدثِ اعظم حجاز کا سبز عمامہ

        خلیفۂ مفتیٔ اعظم ہند، محدثِ اعظم حجاز حضرت علامہ مولانا سیّدمحمد بن علوی مالکی عَلیْہِ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  الْقَوِی بھی سبز عمامہ شریف باندھا کرتے تھے۔  

حضرت نیّرِ اہلسنّت کا سبز عمامہ

       نَیَّرِ اہلسنّت، حضرت علامہ مولاناپیر ابوالرضا  اللّٰہ  بخش نیّر([2]) مجددی چشتی قادری رضوی ([3])عَلیْہِ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  الْقَوِی  سبز عمامہ شریف باندھا کرتے تھے۔    

حضرت زندہ پیر صاحب کا سبز عمامہ

        شَمسُ المَشَائِخ  حضرت شاہ المعروف خواجہ زندہ پیر([4]) رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ سبز عمامہ شریف باندھا کرتے تھے۔  (جہانِ امام ربانی ، ۶/ ۸۰۴)

سبز عمامے والے بزرگ

        شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علاّمہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطارؔ قادری رَضَوی دَامَت بَرَکاتُہُمُ العَالِیَہ نے ایک مرتبہ دوران مدنی مذاکرہ عمامہ شریف سے متعلق ایک سچا واقعہ بیان فرمایا جس کا خلاصہ ہے کہ ایک عرب کے مقیم اسلامی بھائی نے مجھے بتایا کہ ان کا کسی کام کے سلسلے میں یمن جانا ہوا جہاں انہیں ایک بزرگ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ کے بارے میں پتا چلا کہ وہ بڑے زبردست عاشقِ رسول اور خوفِ خدا رکھنے والے ہیں دنیا سے کنارہ کشی اختیار کر کے ایک پہاڑ پر رہتے ہیں ۔  ہر وقت سبز سبز حلہ شریف زیب تن کئے رکھتے اور سبز سبز عمامہ شریف سر پر سجائے رکھتے ہیں ۔  عوام خواص ان کی زیارت کے لیے جاتے اور بر کتیں پاتے ہیں ان کے بارے میں یہ بات مشہور ہے کہ بکثرت دیدارِ مصطفی سے مشرف ہوتے ہیں اور جس دن زیارت نہیں ہوتی اس دن ان پر غم کی کیفیت طاری رہتی ہے۔  میں بھی زیارت کا شوق لیے ان کی خدمت میں حاضر ہوا۔  ان کا نورانی چہرہ دیکھ کر قلبی سکون کا احساس ہوا اور ان کے سر پر سبز سبز عمامے شریف کا تاج دیکھ کر دعوتِ اسلامی سے وابستہ عاشقانِ رسول کے سبز سبز عمامے یاد آگئے۔  

 اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّکی ان پر رحمت ہواور ان کے صدقے ہماری بے حساب مغفرت ہو۔  

عمامہ کے رنگ کے متعلق اہم وضاحت

       میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ بالا روایات و عبارات سے واضح ہو گیا کہ سبز عمامہ شریف صرف جائز ہی نہیں بلکہ سرکارِ مدینہ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے اس کا پہننا ثابت نیز فرشتوں اور صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی سنّت بھی ہے اور اولیائے کرام رَحِمَہُمُ  اللّٰہ  السَّلَام کا بھی سبز عمامے سجانے کا معمول رہا ہے ۔  اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ تبلیغِ قراٰن و سنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوت ِاسلامی  



     سردار آباد (فیصل آباد) کا پُرانا نام ہے۔ [1]

      خلیفۂ مجاز خانقاہ رضویہ بریلی شریف وسجادہ نشین آستانہ عالیہ ہوت والا شریف جمن شاہ ضلع لیہ [2]

       آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کو اپنی خلافت و اجازت بھی عطا فرمائی ہے۔  [3]

       آستانہ عالیہ نقشبندیہ گھمکول شریف ، کوہاٹ، خیبر پختونخواہ  [4]



Total Pages: 101

Go To