Book Name:Imamay kay Fazail

(مصنف ابن ابی شیبہ ، کتاب اللباس ، باب من کان یعتم بکور واحد ، ۱۲/ ۴۵ ۵حددیث :  ۲۵۴۸۹ واللفظ لہ، مسند اسحاق بن راہویہ، ما یروی عن الاسود بن یزید الخ، ۳/ ۸۸۲، رقم :  ۱۵۵۶)

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! معلوم ہوا مہاجرین اوّلین صحابۂ کرام عَلَیْھِمُ الرِّضْوان سے سبز عمامے باندھنا ثابت ہے اور صحابۂ کرام عَلَیْھِمُ الرِّضْوان کی عظمت و شان کو جاننے کے لیے سرورِ عالم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے چند ارشاد ات ملاحظہ فرمائیں چنانچہ حضرت سیدنا عبد اللّٰہ  بن عمر رَضِیَ  اللّٰہ  تَعالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :  ’’میرے صحابہ کی مثال ستاروں کی سی ہے، جن سے راہ تلاش کی جاتی ہے، تم ان میں سے جس کے قول پر عمل کرو گے ہدایت پا جاؤ گے۔ ‘‘ (مسند عبد بن حمید ، احادیث ابن عمر، ۱/ ۲۵۰، حدیث : ۷۸۳)

        اسی طرح حضرت سیّدنا جابر بن عبد اللّٰہ  رَضِی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :  میں نے نبیٔ کریم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو فرماتے سنا : ’’ اس مسلمان کو جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی جس نے مجھے دیکھا یا مجھے دیکھنے والے (یعنی صحابۂ کرام عَلَیْھِمُ الرِّضْوان ) کو دیکھا۔ ‘‘ (ترمذی ، کتاب المناقب ، باب ماجاء فی فضل من رای النبیّ الخ، ۵/ ۴۶۱، حدیث : ۳۸۸۴)

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! معلوم ہوا ’’دعوتِ اسلامی‘‘ کے مشکبار مدنی ماحول سے وابستہ لاکھوں عاشقانِ رسول اپنے سروں پرسبز سبز عمامے شریف پہن کر نبیٔ کریم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے جانثار صحابہ رِضْوَانُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلیھِم کی سنّت پر عمل کر کے اس پر اجرِ عظیم کے حقدار بن رہے ہیں ۔  

خلیفہ سلیمان بن عبد الملک کا سبز عمامہ

          خلیفہ سلیمان بن عبد الملک جنہوں نے اپنے بعد حضرت سیّدنا عمر بن عبدالعزیز رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کو اپنا جانشین مقرر فرمایا تھا یہ ایسے خلیفہ تھے کہ جن کے بارے میں ان کی رعایا کہا کرتی تھی کہ سلیمان بن عبد الملک کے خلیفہ مقرر ہونے سے ہمیں حجاج بن یوسف (جیسے جابر حکمران )سے نجات ملی ہے ، سلیمان بن عبدالملک تو ہمارے لئے خیر کی کنجی ثابت ہوا ہے۔  ان کی نمازِ جنازہ بھی حضرت سیّدنا عمر بن عبد العزیز رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہُ نے ہی پڑھائی تھی علّامہ ابن اثیر رَحمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنی کتاب ’’اَلکَامِل فِی التَّارِیخ ‘‘ میں ان کے سبز حُلّے اور سبز عمامے کا ذکر فرمایا ہے ۔

 (الکامل فی التاریخ، ثم دخلت سنۃ تسع وتسعین، ذکر موت سلیمان بن عبد الملک ، ۴/ ۳۱۱)

شیخ ابو العباس احمد الملثم کا سبز عمامہ

        حضرت سیّدنا شیخ ابو العباس اَحمَد مُلثِم رَحمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ مصر کے جلیل القدر مشائخ اور محققین میں سے تھے ہر سمت سے لوگ آپ رَحمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ کی زیارت کے لیے آیا کرتے تھے آپ رَحمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ ایسے زبردست ولیٔ کامل تھے کہ زبانِ مبارک سے جو فرماتے تھے ویسا ہی ہو جایا کرتا تھا ۔  آپ رَحمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ کبھی سفید تو کبھی سبز اُونی عمامہ شریف زیبِ سَر فرماتے ، کبھی جبہ پہنتے اور کبھی پیوند لگے کپڑے زیبِ تن فرماتے ۔  (الطبقات الکبرٰی، الجزء الاول، ص۲۱۹)

غوثِ پاک نے سبز عمامہ سجادیا

       حضرت سیّد کبیرالدین شاہ دولہ رَحمۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ  رشتے میں غوثِ اعظم عَلیْہِ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  الْاَکْرَم کے چچازاد تھے، آپ رَحمۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ نے ۱۹ رجب ۵۲۱؁ھ بروز پنج شنبہ بعد نماز مغرب سیّدنا غوثِ اعظم عَلیْہِ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  الْاَکْرَم سے بیعت کا شرف پایا تھا۔  تقریباً ۲۸ سال بعد ۹ ذوالقعدۃ الحرام ۵۴۸  ھ دوشَنبَہ (پیر) کے دن بعد نمازِ عصر سیّدنا غوثِ اعظم عَلیْہِ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  الْاَکْرَم نے ایک مجلس عام میں سامنے بٹھا کر بیعت امامت و ارشاد سے مشرف کر کے اپنی کُلاہ جو آپ رَحمۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ کو آپ کے پیرومُرشد سیّدنا ابوسعید مخزومی عَلیْہِ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  الْقَوِی اور دیگر مشائخ سلسلہ کے واسطے سے حضرت علی کَرَّمَ  اللّٰہ  تَعَالٰی وَجھَہُ الکَرِیم سے ملی تھی شاہ دولہ کے سر پر اُوڑھا دی اور اپنے ہاتھ سے سبز عمامہ باندھا اور خرقہ عطا فرمایا۔  (تاریخ مشائخِ قادریہ ، ۲/ ۱۹۳ بتصرف)

حضرت شاہ محمد کاشف کاکوروی کا سبز عمامہ

       حضرت سیّدنا شاہ محمد کاشف کاکوروی عَلیْہِ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  الْقَوِی بارھویں صدی ہجری کے سلسلۂ قادریہ کے عظیم صوفی اور مُستَجَابُ الدَّعوَات بزرگ تھے۔  آپ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ سبز عمامہ شریف باندھا کرتے تھے۔  (تاریخ مشائخِ قادریہ ، ۲/ ۱۲۱)

اعلٰی حضرت کا سبز عمامہ

          تذکرۂ محدثِ اعظم پاکستان میں حضرت علامہ مفتی محمد جلالُ الدین قادری عَلیْہِ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  الْقَوِی نقل فرماتے ہیں :  حضرت سیّد قناعت علی قادری بریلوی رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ ایک مدت تک



Total Pages: 101

Go To