Book Name:Imamay kay Fazail

سے نئے کپڑے پہن کر خوشبو لگا کر ادب سے مدینہ ٔ منورہ کی طرف منہ کرکے بیٹھے، اور خُدا (عَزَّوَجَلَّ ) کی درگاہ میں جمالِ مبارک آنحضرت صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ و َاٰلِہٖ و َسَلَّم کی زیارت حاصل ہونے کی دُعا کرے اور دل کو تمام خیالات سے خالی کر کے آنحضرت صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ و َاٰلِہٖ و َسَلَّم کی صورت کا سفید شفاف کپڑے اور سبز پگڑی (عمامے) اور منوّر چہرہ کے ساتھ تصور کرے اور اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَارَسُوْلَ  اللّٰہ  کی داہنے اور اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا نَبِیَّ  اللّٰہ  کی بائیں اور اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا حَبِیْبََ  اللّٰہ  کی ضرب دل پر لگائے اور متواتر جس قدر ہو سکے درود شریف پڑھے اس کے بعد طاق عدد میں جس قدر ہو سکے اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ کَمَا اَمَرْتَنَا اَنْ نُّصَلِّیَ عَلَیْہِ اَ للّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ کَمَا ھُوَ اَھْلُہ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ کَمَا تُحِبُّ وَتَرْضَاہُ  اور سوتے وقت اکیس بار سورۂ نصر پڑھ کر آپ( صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ و َاٰلِہٖ و َسَلَّم )کے جمال مبارک کا تصور کرے اور درود شریف پڑھتے وقت سر قلب کی طرف اور منہ قبلہ کی طرف (کر کے )داہنی کروٹ سے سوئے اور  اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَارَسُوْلَ  اللّٰہ  پڑھ کر داہنی ہتھیلی پر دم کرے اور سر کے نیچے رکھ کر سوئے ۔  یہ عمل شبِ جمعہ یا دو شنبہ (پیر )کی رات کو کرے اگر چند بار کرے گا اِنْ شَآءَاللہ  اللّٰہ  تَعَالٰی مقصد حاصل ہو گا۔  (کلیاتِ امدادیہ ، رسالہ ضیاء القلوب ، ص ۶۱)

 حاجی اِمدادُ  اللّٰہ  مہاجر مکی عَلَیْہ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  الْقَوِی کے مذکورہ قول سے دو باتیں واضح ہوئیں :  

(۱)حضور اکرم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا سبز عمامہ باندھنا حق ہے، ورنہ ایک ایسا کا م جو نبیٔ اکرم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے کیا ہی نہیں وہ آپ کی طرف منسوب کرنا لازم آئے گااور ایسی ہستی سے اِس بات کا تصور کرنا درست نہیں ۔  

(۲) اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَارَسُولَ  اللّٰہ  کا ورد کرنا ناجائز یا حرام نہیں ہے بلکہ یہ تو وہ درود ہے کہ جس کے وِرد سے حضور اکرم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ و َاٰلِہٖ و َسَلَّم کی زیارت نصیب ہوتی ہے۔  

سیّدنا عیسٰی علیہ السلام کا سبز عمامہ

        عَارِف بِ اللّٰہ  ، نَاصِحُ الْاُمَّہ حضرت علّامہ مولانا امام عَبدُالغَنِی بِن اِسمَاعِیل نابُلُسِی حَنَفِی عَلَیہِ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  الْغَنِی اور حضرتِ علّامہ محمد عبد الرَّ ء ُوف مناوی عَلَیْہ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  الْقَوِی فرماتے ہیں کہ (قربِ قیامت ) جب حضرت سیِّدنا عیسٰی  عَلی نَبِیِّنا و عَلیہِ الصَّلوٰۃ والسَّلام زمین پر تشریف لائیں گے تو آپ کے سرِ اقدس پر سبزسبز عمامہ شریف ہو گا۔

 (الحدیقۃ الندیۃ، ۱/ ۲۷۳، فیض القدیر، حرف الدال ، فصل فی المحلی بال من ھذا الحرف، ۳/ ۷۱۸، تحت الحدیث : ۴۲۵۰، عقدالدرر فی اخبار المنتظر، الفصل الثانی فیما جاء من الآثار الدالۃ علی خروج الدجال الخ، ص۳۴۲)

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب! صلَّی  اللّٰہ  تعالٰی عَلٰی محمَّد

فرشتوں کے سبز عمامے

                                               میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! غزوۂ حُنین میں مسلمانوں کی مدد کیلئے آنے والے فرشتوں کے سروں پر بھی سبز سبز عماموں کے تاج سجے تھے ۔ جیسا کہ حضرت سیدنا عبد  اللّٰہ   ابن عباس رَضِی  اللّٰہ  تَعالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے :  ’’ بَدَر کے روز فرشتوں کی نشانی سفید عمامے اور بروزِ حُنین سبز سبز عمامے تھی‘‘۔  (تفسیر خازن، پ ۹، الانفال، تحت الآیۃ۹، ۲/ ۱۸۲)

                                                حضرت علّامہ عبدالرحمٰن ابن جوزی عَلیْہ رَحْمَۃُ اللّٰہ  الْقَوِی نقل فرماتے ہیں : (غزوۂ بدر میں جب آسمان سے )فرشتے اترنے لگے تو یکے بعد دیگرے تین آندھیاں چلیں پہلی دفعہ حضرت سیّدنا جبرئیل عَلَیْہِ السَّلَام ایک ہزار فرشتوں کے ہمراہ نازل ہوئے ۔  دوسری مرتبہ حضرت سیّدنا میکائیل عَلَیْہِ السَّلَام ایک ہزار اور تیسری مرتبہ حضرت سیّدنا اسرافیل عَلَیْہِ السَّلَام ایک ہزار فرشتوں کی جماعت لے کر اُترے ۔  (اس میدان میں )ملائکہ کی نشانی سبز ، زرد اور سرخ رنگ کے نورانی عمامے تھی۔  (الوفا باحوال المصطفی، ابواب غزواتہ ، الباب السادس فی غزاۃ بدر، الجزء الثانی، ص ۲۲۸)

صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے سبز عمامے

                                                میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! سبز عمامے کا ثبوت نہ صرف سرکار صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے ملتا ہے بلکہ مصطفیٰ کریم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے جانشین صحابۂ کرام رِضوَانُ  اللّٰہ  تَعالٰی عَلَیہِم اَجمَعِین سے بھی سبز عمامہ شریف کا ثبوت ملتا ہے چنانچہ جَلِیلُ القدر تابعی حضرت سیّدنا سلیمان بن ابوعبد اللّٰہ  رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : میں نے دیکھا کہ مہاجرین اولین سیاہ، سفید، سرخ، سبزاور زرد رنگ کے سوُتی عمامے باندھا کرتے تھے۔ ([1])

 



1     سند کی توثیق:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یہ روایت سند کے اعتبار سے صحیح ہے ، اس کی سند میں پانچ روای ہیں جو سب کے سب ’’ثقہ ‘‘ہیں چنانچہ (1)حضرت سیّدنا امام ابوبکر بن ابی شَیبَہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ: اس روایت کے پہلے راوی امام ابوبکر عبد اللّٰہ بن محمد بن ابی شیبہ رَحمۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہ ہیں جو کہ ثقہ ہیں ۔ امام بخاری اور امام مسلم رَحِمَہُمَااللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیہ کے استاد ہیں جبکہ ، امام ابودائود، امام ابن ماجہ، امام احمد بن حنبل نے بھی ان سے روایات لی ہیں۔ صحیح بخاری شریف میں تیس اورصحیح مسلم شریف میں ان سے ایک ہزار پانچ سو چالیس احادیث روایت کی گئی ہیں۔ (تہذیب التہذیب ، حرف العین، ۴/۴۶۶ ملتقطًا)

                حضرت سیّدنا امام ذہبی عَلیْہ رَحْمَۃُاللّٰہِ الْقَوِی نے ان کے متعلق ’’حافظ، عدیم النظیر‘‘ کے الفاظ لکھے ہیں۔ (تذکرۃ الحفاظ ،الطبقۃ الثامنۃ، الجز الثانی ، ۱/۱۶) حضرت سیّدنا امام ابن حجر عسقلانی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے انہیں ’’ثقہ حافظ‘‘ لکھا ہے۔ (تقریب التہذیب ، ص۵۴۰) علامہ ابن کثیر نے ان کے متعلق کہا کہ ’’ احد الاعلام و ائمۃ الاسلام تھے، ان کی ’’المُصَنَّف ‘‘ جیسی کتاب نہ کسی نے پہلے لکھی اور نہ بعد میں لکھی گئی ۔‘‘

(البدایۃ والنہایۃ، احداث سنۃ خمس و ثلاثین و مائتین،۷/۳۲۶)

2   حضرت سیّدنا سلیمان بن حرب بصری رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ :دوسرے راوی حضرت سیّدنا سلیمان بن حرب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ہیں جو کہ مکہ معظمہ کے قاضی تھے، اہلِ بصرہ کے جلیل القدر اوراہلِ علم میں سے ہیں۔

                حضرت سیّدنا امام ابوحاتم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ان کے بارے میں فرمایا :’’ یہ آئمہ میں سے امام ہیں، ان سے تقریباًدس ہزار احادیث مروی ہیں۔‘‘ (تہذیب التہذیب ، حرف السین، ۳/۴۶۵) حضرت سیّدنا امام نسائی َرحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے انہیں ’’ثقہ ، مامون‘‘ قرار دیا ہے امام ابن سعد نے انہیں ’’ثقہ اور کثیر الحدیث ‘‘ فرمایا ہے ۔ امام بخاری رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ان سے ۱۲۷ روایات نقل کی ہیں۔ (تہذیب التہذیب ، حرف السین، ۳/۴۶۶، ۴۶۷ملتقطًا) حضرت سیّدنا امام ابن حجر عسقلانی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے انہیں ’’ ثقہ ، امام، حافظ‘‘ لکھا ہے۔ (تقریب التہذیب ، ص۴۰۶) حضرت سیّدنا امام ابن حجر عسقلانی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ا ن کی ثقاہت دیگر آئمہ محدثین سے بھی نقل کی ہے۔

(تہذیب التہذیب ، حرف السین، ۳/۴۶۶)

)3(حضرت سیّدنا جریر بن حازم  رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ :اس روایت کے تیسرے راوی جریر بن حازم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بصرہ کے رہائشی بلند پایہ حافظ الحدیث اور عظیم المرتبت عالم ہیں۔

                حضرت سیّدنا امام احمد بن حنبل رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا : ’’جریر صاحبِ سنّت ہیں ۔‘‘ (تذکرۃ الحفاظ ، الطبقۃ الخامسۃ، الجزالاول، ۱/۱۴۸) حضرت سیّدنا امام ابن حجر عسقلانی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نقل فرماتے ہیں : حضرت سیّدنا امام ابن معین رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے انہیں ’’ثقہ‘‘ قرار دیا۔ حضرت سیّدنا امام عجلی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے بھی ’’ثقہ ‘‘ قرار دیا ۔ حضرت سیّدنا امام نسائی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے کہا ’’ ان کی روایت میں کوئی حرج نہیں۔‘‘ حضرت سیّدنا امام ابوحاتم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے انہیں ’’صدوق ، صالح‘‘ کہا ہے۔ حضرت سیّدنا امام بزار رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے بھی ’’ثقہ‘‘ کہا ہے ۔ (تہذیب التہذیب ، حرف الجیم، ۲/۳۹، ۳۷ملتقطًا)

)4(حضرت سیّدنا یعلٰی بن حَکیم  رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ : اس روایت کے چوتھے راوی حضرت سیّدنا یعلیٰ بن حکیم ثقفی مکی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ہیں۔

                حضرت سیّدنا حافظ امام ابن حجر عسقلانی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے انہیں ’’ثقہ‘‘ قرار دیا ہے۔ (تقریب التہذیب ، ص۱۰۹۰) حضرت سیّدنا امام ابن حجر عسقلانی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نقل فرماتے ہیں : امام احمد ، امام ابن معین، امام ابوزرعہ ، امام نسائی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِم اَجْمَعِیْن نے انہیں ’’ثقہ‘‘ قرار دیا ہے۔ حضرت سیّدنا امام ابوحاتم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ان کے متعلق ’’ لا بأس بہ‘‘ کہا ہے۔ حضرت سیّدنا امام یعقوب  رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے کہا کہ یہ ’’ مُستَقِیمُ الحَدِیث‘‘ ہیں۔ حضرت سیّدنا امام ابنِ حِبّان  رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے انہیں ’’ثِقَات‘‘ میں شمار کیا۔

(تہذیب التہذیب ، حرف الیاء ، ۹/۴۱۹)

)5(حضرت سیّدنا سلیمان بن ابوعبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ:اس روایت کے پانچویں راوی حضرت سیّدنا سلیمان ابن ابو عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ جلیل القدر تابعی ہیں۔ آپ نے مہاجرین صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلیھِم کا زمانہ پایا ہے، آپ حضرت سیّدنا سعد بن ابی وقاص ، حضرت سیّدنا ابوہریرہ اور حضرت سیّدنا صُہیب رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلیھِم سے روایت کرتے ہیں۔ (تہذیب التہذیب ، حرف السین، ۳/۴۸۹ملتقطًا)

                حضرت سیّدنا امام ابن حجر عسقلانی  رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے تَقرِیب التَّہذِیب میں انہیں ’’مقبول‘‘ لکھا ہے۔ (تقریب التہذیب ، ص ۴۰۹) حضرت سیّدنا امام ابن حجر عسقلانی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نقل فرماتے ہیں : حضرت سیّدنا امام ابوحاتم رَحمۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں: یہ اگرچہ مشہور نہیں مگر ان کی احادیث معتبر ہیں ۔ حضرت سیّدنا امام ابن حبان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے انہیں ثقات میں شمار فرمایا ہے۔ حضرت سیّدنا امام ابوداؤد رَحمۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے آپ سے اپنی ’’سُنَن ‘‘کے باب ’’حَرَمُ المَدِینَہ‘‘ میں روایت لی ہے ۔ (تہذیب التہذیب ، حرف السین، ، ۳/۴۸۹) حضرت سیّدنا  امام بخاری   رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اور حضرت سیّدنا ابو حاتم  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا ’’اِنہوں نے مہاجرین اور انصار صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلیھِم کا زمانہ پایا ہے۔‘‘ (تہذیب التہذیب ، حرف السین، ۳/۴۹۰)



Total Pages: 101

Go To