Book Name:Imamay kay Fazail

اولیاء و علمائے کرام کے سفید عمامے

(1)سیّدنا علی بن شھاب اور محمد منیر کا عمامہ

        عَارِف بِ اللّٰہ ، ولیٔ کامل حضرت علامہ عبدالوہاب شعرانی قُدِّسَ سِرُّہُ السَّامِی فرماتے ہیں سیّدی محمد مُنیر اور سیّدنا علی بن شہاب رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِما کے عمامے سفید اُون کے تھے جبکہ سیّدی محمد منیر سرخ دھاری دار چادر بھی پہنتے تھے۔  (الطبقات الکبری ، الجزء الثانی ، ص۱۵۴، ۱۷۹)   

(2)حافظ جمال  اللّٰہ  ملتانی کا سفید عمامہ

        قُطبُ العارِفِین، تاجُ الاصفِیاء، جمالُ الاولیائحضرت حافظ شاہ محمد جمالُ  اللّٰہ  ملتانی چشتی([1])رَحمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ سفید دستار (یعنی عمامہ ) شریف باندھتے تھے ۔  (تذکرہ اولیائے پاکستان ، ۱/ ۳۶۴)

(3)پیر مہر علی شاہ صاحب کا سفید عمامہ

        قائدِ تحریکِ ختمِ نبوت ، تاجدارِ گولڑہ ، قبلۂ عالم حضرت علّامہ پیرسیّد مہرعلی شاہ چشتی قادری عَلیْہ رَحْمَۃُ اللّٰہ  الْقَوِی کے عمامہ شریف کے متعلق ہے کہ آپ رَحمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ سفید ململ کی ہلکی مایہ لگی ہوئی پگڑی ( یعنی عمامہ شریف ) پہنتے تھے۔  دستار مبارک بخاری قسم کی نوکدار کلاہ پر بندھی ہوتی تھی۔  بعض اوقات دھوپ میں پگڑی (یعنی عمامہ) اور دوش مبارک پر لُنگی یا چادر ڈال لیتے تھے۔  

(مہرِمنیر ، ص۳۱۶)

(4)امامِ حرم کا سفید عمامہ

       مُقَرِّّظِ حُسَامُ الحَرَمین([2]) ، شیخ الاسلام ، مفتیٔ شافعیّہ (زمانۂ اعلیٰ حضرت کے) امامِ حرم شیخ محمد سعید بابصیل رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ سادہ لباس زیبِ تن فرماتے اور سر پر ہمیشہ سفیدعمامہ سجاتے۔  

(امام احمد رضامحدّث بریلوی اورعلماء مکّہ مکرّمہ ، ص ۲۷۳)

(5)برھانِ ملّت کا سفید عمامہ

        خلیفۂ اعلیٰ حضرت ، بُرہانِ ملّت حضرت علّامہ مولانا مفتی محمد بُرھانُ الحق قادری  رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ بالعموم سفید عمامہ شریف سر پر سجایا کرتے تھے ۔  (برھانِ ملت کی حیات و خدمات ، ص ۸)

(6)حضرت پیر سواگ کا سفید عمامہ

        خواجۂ خواجگان ، حضرت خواجہ غلام حسن سواگ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ سفید عمامہ  شریف باندھا کرتے اور کبھی کبھی سُرخ رنگ کی لُنگی بھی استعما ل فرما لیا کرتے تھے۔  (فیوضاتِ حسینیہ، ص۱۲۲)

(7)سیدی قطبِ مدینہ کا سفید عمامہ

        مرشدِ امیرِ اہلسنّت ، مرید و خلیفۂ اعلیٰ حضرت ، میزبانِ مہمانانِ مدینہ ، قطبِ مدینہ ، حضرت علّامہ مولانا ضیاء الدین احمد مَدَنی قادری رضوی عَلیْہ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  الْقَوِی سفید عمامہ استعمال فرماتے (تھے اور) عمامہ کے نیچے مکاوی ٹوپی پہنتے (تھے )،  سردیوں میں کبھی اونی ٹوپی استعمال فرماتے تو اس کے نیچے سوتی ٹوپی ہوتی۔  (سیدی ضیاء الدین القادری ، ۱/ ۵۶۸)

غوث پا ک نے سفیددستارعطافرمائی

        صاحبِ سَفِینَۃُ الاولِیاء لکھتے ہیں : (استاذالعلماء) اخوند نِعمتُ  اللّٰہ  قادری عَلیْہ رَحْمَۃُ اللّٰہ  الْقَوِی فرماتے تھے ایک روز میرے دل میں خیال آیا : ’’ میں حضرت سیّدنا غوث الاعظم عَلیْہ رَحْمَۃُ اللّٰہ  الاَکرَم سے ارادات وعقیدت رکھتا ہوں ، یقیناً وہ بھی میری اس ارادات مندی سے آگاہ ہوں گے جب کہ وہ خود فرماتے ہیں کہ اگر میں مغرب میں ہوں او ر میرا مرید ننگے سر مشرق میں ہو تو میں اس کی ستر پوشی کروں گا۔  ‘‘رات کو میں نے خواب میں دیکھا کہ میں کسی کام کے لیے پریشان و عاجز ہوں ، سرننگا ہے، اسی وقت حضرت غوثُ الثَّقَلَین  رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ تشریف لائے اور ایک سفید پگڑی مجھے عنایت فرمائی، اور ارشاد فرمایا : ’’ یہ پگڑی (عمامہ) لے لو، ہم تمہارے اس حال سے خبردار تھے کہ تم ننگے سر کھڑے ہو۔  لہٰذا ہم نے چاہا کہ تمہار ا سر ڈھانپ دیں ۔ ‘‘ صبح حضرت شاہ اَبوُالمَعَالی (سیدخیرالدین قادری) عَلیْہ رَحْمَۃُ اللّٰہ  الْغَنِی نے مجھے اپنے پاس بلایا، اور سفید دستار عنایت کرکے فرمایا : ’’ یہ وہی دستار ہے جو رات کو حضرتِ غوث الاعظم عَلیْہ رَحْمَۃُ اللّٰہ  الاَکرَم نے تمہیں عطا فرمائی تھی۔ ‘‘ (خزینۃ الاصفیاء ، ۱ / ۲۳۰)

دھاری دار سرخ عمامہ

       میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  پیارے پیارے آقا، مکّی مَدَنی مصطفٰے صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دیگر رنگ کے عماموں کے ساتھ ساتھ بسا اوقات سرخ دھاری دار عمامے کو بھی سرِ انور کی برکتیں لوٹنے کا شرف عطا فرمایا ہے چنانچہ     

سرکار کا دھاری دار سرخ عمامہ

        حضرت سیّدنا اَنَس بن مالک  رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :  میں نے رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اس طرح وضو فرماتے دیکھا  عَلَیْہِ عِمَامَۃٌ قِطْرِیَّۃٌ فَاَدْخَلَ یَدَہُ مِنْ تَحْتِ الْعِمَامَۃِ فَمَسَحَ مُقَدَّمَ رَاْسِہِ وَلَمْ یَنْقُضِ الْعِمَامَۃَ یعنی آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے قِطری عمامہ شریف باندھ رکھا تھا، پس آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنا دستِ مبارک عمامہ شریف کے نیچے داخل کر کے سرِ اقدس کے اگلے حصے کا مسح فرمایا اور عمامے شریف کو سرِاقدس سے نہیں اتارا۔ (ابوداؤد ، کتاب الطہارۃ، باب المسح علی العمامۃ ، ۱/ ۸۲، حدیث :  ۱۴۷)

        شارح بخاری،  علّامہ بدرُ الدِّین عینی حنفی عَلیْہ رَحْمَۃُ اللّٰہ  الْقَوِی حدیثِ پاک کے اس حصے ’’عِمَامَۃٌ قِطرِیَّۃٌ ‘‘کے تحت فرماتے ہیں :  ہِیَ ثِیَابٌ حُمْرٌ لَہَا اَعْلَامٌ فِیْہَا بَعْضُ الخُشُوْنَۃِ یعنی (قطری



1     خلیفۂ مجاز حضرت خواجہ نور محمد چشتی مہاروی عَلیْہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی

     

1     یعنی حُسَامُ الحرمین کی تائید اور اس کے مصنف اعلیٰ حضرت کی تعریف کرنے والے۔



Total Pages: 101

Go To