Book Name:Imamay kay Fazail

        نبیٔ اکرم، نورِ مُجَسَّم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :

   

  بیشک اس دین کی اِبتداء غریبوں سے ہوئی اور عنقریب یہ اسی طرف لوٹ آئے گا جس طرح اس کا آغاز ہوا تھا۔  پس غریبوں کو مبارک ہو۔  عرض کیا گیا :  یارسول  اللّٰہ ! غریب کون ہیں ؟ فرمایا :  وہ لوگ جو میری سنّتیں زندہ کرتے اور  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ کے بندوں کو  سکھاتے ہیں ۔  (الزھد الکبیر، ص۱۱۷، رقم : ۲۰۵)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !    صَلَّی  اللّٰہ  تعالٰی عَلٰی محمَّد

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! احادیثِ مبارکہ کے مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ مسلمانوں کے لیے اپنے نبی صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی مبارک سنّتوں پر عمل پیرا ہونے کے کتنے فائدے اور کیسے کیسے انعامات ہیں ، اس بارے میں حضور صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے ارشادات ملاحظہ فرمائیے چنانچہ

جھولی بھر دی جاتی ہے

         اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّکے پیا ر ے رسول، رسولِ مقبول، سیِّدہ آمِنہ کے گلشن کے مَہکتے پھول صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ ذیشان ہے :   اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ سیدھے راستے پر چلنے والے، سنّتوں کے عامِل سفید بالوں والے شخص سے حیا فرماتا ہے کہ وہ  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ سے سوال کرے اور وہ اسے عطا نہ فرمائے۔  (معجم الاوسط ، من اسمہ محمد، ۴/ ۸۲ ، حدیث : ۵۲۸۶)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !           صَلَّی  اللّٰہ  تعالٰی عَلٰی محمَّد

   

سنّتیں زندہ کرنے والا جنّتی ہے

       سرکارِ مدینہ ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : مَن اَحیَا سُنَّتِی فَقَد اَحَبَّنِی وَ مَن اَحَبَّنِی کَانَ مَعِیَ فِی الجَنَّۃ یعنی جس نے میری سنّت کو زندہ کیا اس نے مجھ سے محبّت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ جنّت میں میرے ساتھ ہو گا۔ (ترمذی ، کتاب العلم، باب ماجاء فی الاخذبالسنۃو اجتناب البدع، ۴/ ۳۰۹، حدیث : ۲۶۸۷)

سنّت زندہ کرنے کا ثواب

        نبیٔ کریم ، رء وفٌ رَّحیم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیّدنا بلال بن حارث رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ سے فرمایا : جان لو! آپ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کی : یا رسول  اللّٰہ  کیاجان لوں ؟ آپصَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے دوبارہ اسی طرح فرمایا : اے بلال جان لو ! عرض کی : یا رسول  اللّٰہ  کیاجان لوں ؟ آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :  مَنْ اَحْیَا سُنَّۃً مِنْ سُنَّتِی قَدْ اُمِیتَتْ بَعْدِی فَاِنَّ لَہُ مِنَ الاَجْرِ مِثْلَ مَنْ عَمِلَ بِہَا مِنْ غَیْرِ اَنْ یَنْقُصَ مِنْ اُجُورِہِمْ شَیْئًا یعنی جس نے میری ایسی سنّت کو زندہ کیا جو میرے بعد مٹ چکی تھی (یعنی اس پرعمل ترک کیا جا چکا تھا) تو اسے ان تمام لوگوں کے اجر کے برابر ثواب ملے گاجو اس سنّت پر عمل کریں گے اور ان کے ثواب میں بھی کچھ کمی نہیں ہوگی اور جس نے کسی بدعتِ سیئہ( بُری بدعت ) کو رواج دیا جسے  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نا پسند فرماتے ہیں تو اس پر ان تمام لوگوں کے گناہوں کے برابر گناہ ہے جو اس بدعت سیئہ پر عمل کریں گے اور ان لوگوں کے گناہ میں بھی کچھ کمی نہیں ہوگی۔

(ترمذی ، کتاب العلم، باب ماجاء فی الاخذبالسنۃو اجتناب البدع، ۴/ ۳۰۹، حدیث : ۲۶۸۶)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !         صَلَّی  اللّٰہ  تعالٰی عَلٰی محمَّد

سنّت کو زندہ کرنے کا مطلب

        حضرت علّامہ ملّا علی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  الْبَارِی مذکورہ حدیث کے اس حصے’’مَن اَحیَا سُنَّۃً یعنی جس نے میری سنّت کو زندہ کیا‘‘ کے تحت فرماتے ہیں :  ’’سنّت کو زندہ کرنے سے مراد اپنے قول وعمل کے ذریعے اس سنّت کی اِشاعت و تشہیر کرنا ہے۔ ‘‘ حدیثِ پاک کے اس حصے ’’قَد اُمِیتَت بَعدِی یعنی جو میرے بعد مٹ چکی تھی‘‘ کی تشریح میں امام ابنُ المَلِکرَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ کا قول نقل فرماتے ہیں : ’’ اس سے مراد یہ ہے کہ اس سنّت پر عمل کو چھوڑ دیا گیا ہو، تو میرے بعد جس نے اس سنّت کو اپنے عمل کے ذریعے یا دوسروں کو اس پر عمل کی ترغیب کے ذریعے زندہ کیا تو اس کے لیے ان لوگوں کی مثل پورا پورا اجر ہے جو بھی اس سنّت پر عمل کرے۔  ‘‘ (مرقاۃ المفاتیح، کتاب الایمان، باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ، الفصل الثانی، ۱/ ۴۱۴، تحت الحدیث : ۱۶۸)

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے کہ سرکار صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سنتوں پر عمل کی کیسی برکتیں ہیں ، آج کے پُرفتن دور میں کہ جب ہر طرف فیشن کی بھرمار ہے ، پیارے پیارے آقا  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سنتوں پرعمل کرنا اگرچہ دشوار ہے جیسا کہ

سنّت کو مضبوطی سے تھامنے والے کی مثال

       حضرت سیّدنا عبد اللّٰہ  ابن مسعود رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ سرکارِ دو عالم، نُورِمجَسَّم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا اِرشادِ پاک ہے :  اَلْمُتَمَسِّکُ بِسُنَّتِیْ عِنْدَ اِخْتِلَافِ اُمَّتِیْ کَالْقَابِضِ عَلَی الْجَمْرِ یعنی اختلافِ امّت کے وقت میری سنّت کومضبوطی سے تھامنے والا ہتھیلی میں اَنگارے رکھنے والے کی طرح ہو گا۔  

(کنزالعمال، کتاب الایمان والاسلام ، الباب الثانی فی الاعتصام بالکتاب والسنۃ، الجزء الاول، ۱/ ۱۰۵، حدیث : ۹۳۳)

دشواری زیادہ تو ثواب بھی زیادہ

        مگر یاد رکھئے جس عمل میں دشواری زیادہ ہو اس کا اجر و ثواب بھی بڑھا دیا جاتا ہے جیسا کہ شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علاّمہ مولاناابوبلال محمد الیاس عطارؔ قادری رَضَوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنی کتاب ’’پردے کے بارے میں سوال جواب‘‘میں فرماتے ہیں :  (جس عمل) میں تکلیف زِیادہ ہو گی اس کا ثواب بھی اِنْ شَآءَاللہ  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ اُتنا ہی زیادہ ملے گا ۔  جیسا کہ منقول ہے : اَفضَلُ الْعِبادَاتِ اَحْمَزُھا یعنی افضل ترین عبادت وہ ہے جس میں زَحمت زیادہ ہو ۔  (کشف الخفاء ، ۱/ ۱۴۱) امام شَرفُ الدّین نَوَوی عَلیْہ رَحْمَۃُ اللّٰہ  الْقَوِی فرماتے ہیں :  عبادت میں



Total Pages: 101

Go To