Book Name:Imamay kay Fazail

فرمایا : یہ قبر کس کے لیے کھود رہے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : ایک ایسے بندے کے لیے جس سے  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ محبت فرماتا ہے اور وہ  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ سے محبت کرتا ہے۔  حضرت سیّدنا موسیٰ کَلِیمُ  اللّٰہ  عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے فرمایا :  میں اس قبر میں اُتر کر دیکھوں ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ، جب آپ عَلَیْہِ الصلٰوۃُ وَالسَّلام قبر میں اترے تو آپ کے لیے جنّت کی کھڑکی کھول دی گئی، جہاں سے جنّت کی معطر و معنبر ہوائیں اوربھینی بھینی خوشبوئیں آنے لگیں ، پھرحضرت سیّدنا موسیٰ کَلِیمُ  اللّٰہ  عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام اس قبر میں لیٹ گئے، پھر (اپنے رب عَزَّوَجَلَّکی بارگاہ میں )عرض کی :  اے  اللّٰہ  ! مجھے ایسا بندہ بنا دے جس سے تو محبت فرماتا ہے اور وہ تجھ سے محبت کرتا ہے۔  پھر ملک الموت عَلَیْہِ الصلٰوۃُ وَالسَّلام نے آپ عَلَیْہِ الصلٰوۃُوَالسَّلام کی روح مبارک قبض فرما لی، حضرت سیّدنا جبریلِ امین عَلَیْہِ الصلٰوۃُوَالسَّلام آگے بڑھے اور آپ عَلَیْہِ الصلٰوۃُ وَالسَّلام کی نمازِ جنازہ ادا فرمائی اور قبر کھودتے وقت نکلنے والی مٹی آپ عَلَیْہِ الصلٰوۃُ وَالسَّلام کی قبرِ مبارک پر ڈال دی۔  (تاریخ ابن عساکر ، موسی بن عمران بن یصہر، ۶۱/ ۱۷۵)

صحابۂ کرام کے سفید عمامے

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! چونکہ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضوَان مختلف رنگوں کے عمامے سجایا کرتے تھے اور ان ہی میں سے بعض صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضوَان سفید عمامے شریف بھی سجایا کرتے تھے جن میں سے چند کے مبارک عماموں کا یہاں ذکر کیا گیا ہے چنانچہ

(1)سیّدنا علی المرتضٰی کا سفید عمامہ

        حضرت سیّدنا عبد اللّٰہ  ابن عباس رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ حضرت سیّدنا علی المرتضی رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کے متعلق فرماتے ہیں کہ عورتیں امیر المومنین حضرت سیّدنا علی المرتضیٰ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کی مثل جننے سے بانجھ ہو گئی ہیں ، خدا کی قسم میں نے ایسا سردار دیکھا نہ سنا جسے آپ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کا ہَمسَر کہا جا سکے، میں نے صِفِّین کے دن آپ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کو دیکھا :  عَلٰی رَاسِہٖ عِمَامَۃٌ بَیْضَائُ قَدْاَرْخٰی طَرَفَیْھَا یعنی آپ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ نے سر پر سفید عمامہ شریف باندھا ہوا تھااور اس کے دو شملے چھوڑ رکھے تھے۔  (تاریخ ابن عساکر ، حرف الطاء ، فی آباء من اسمہ علی ، ۴۲/ ۴۶۰ملتقطًا)

          حضرت سیّدنا عبد اللّٰہ  ابنِ عباس رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہُما فرماتے ہیں :  میں نے حضرت سیّدنا علی المرتضیٰ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کو جنگِ صِفِّین کے دن دیکھا آپ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ نے سفید عمامہ شریف اس طرح باندھا ہوا تھا کہ اس کا ایک سرا لٹک رہا تھا۔  (کنزالعمال، کتاب الفتن والاھواء والاختلاف ، وقعۃ صفین ، الجز۱۱، ۶/ ۱۵۶، حدیث : ۳۱۷۰۲)

(2)سیّدنااَبو عَطیۃ کا سفید عمامہ

        حضرت سیّدنا مِسکِین بن عبد اللّٰہ  الاَزدی عَلیْہ رَحْمَۃُ اللّٰہ  الْقَوِی فرماتے ہیں :  میں نے حضرت سیّدنا اَبوعَطِیَّہ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کو دیکھا ان کی داڑھی اور سر کے بال سفید ہو چکے تھے اور آپ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ نے سر پر سفید عمامہ شریف باندھ رکھا تھا۔ (اسد الغابہ ، کتاب الکنی، حرف الہمزۃ، ابو عطیۃ البکری، ۶/ ۲۲۹ ملتقطاً)

   

(3)سیّدنا اَبوہریرہ کا سفید عمامہ

        حضرت سیّدنا منصور بن عبدالحمید بن ارشد عَلیْہ رَحْمَۃُ اللّٰہ  الْاَکْرَم جو اہلِ مَرْوْ کے ضَعِیفُ العمر شخص تھے، فرماتے ہیں :  میں نے صحابیٔ رسول حضرت سیّدنا ابوہریرہ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کومقامِ قَزوِین میں یوں دیکھا کہ عَلَیْہِ عِمَامَۃٌ بَیْضَاء قَدْ خَضَبَ بِالصُّفْرَۃِیعنی آپ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ سفید عمامہ شریف باندھے اور زرد خضاب لگائے ہوئے تھے۔   (التدوین فی اخبار قزوین، ۱/ ۸۵)

(4)سیّدنا جابر کا سفید عمامہ

         حضرت سیّدنا ابوبکر المدنی عَلیْہ رَحْمَۃُ اللّٰہ  الْقَوِی فرماتے ہیں :  حضرت سیّدنا جابر رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ تہبند ٹخنوں سے اوپر رکھا کرتے اور سر پر سفید عمامہ شریف باندھتے تھے ، میں نے دیکھا کہ آپ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ نے عمامے کا شملہ اپنی پشت پر چھوڑ رکھا تھا۔  (سیر اعلام النبلاء ، جابر بن عبد  اللّٰہ  الخ ، ۴/ ۳۳۹)

(5)سیّدنا ابورافِع مَدَنی کا سفید عمامہ

        حضرت سیّدنا اَ بُوغَاضِرَہ عَنَزِی عَلیْہ رَحْمَۃُ اللّٰہ  الْقَوِی بیان فرماتے ہیں :   ایک روز میں مسجدِحرام میں تھا کہ سفید عمامہ شریف سجائے ، ایک عمر رسیدہ بزرگ عصا کے سہارے چلتے ہوئے میرے پاس سے گزرے۔  میرے خیال میں وہ عصا نیزے کی لکڑی کا تھا۔  مسجد میں موجود لوگوں نے مجھے بتایا کہ یہ صحابیٔ رسول حضرت سیّدنا ابورافع مدنی رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ ہیں ۔  

(طبقات ابن سعد، ابورافع الصائغ، ۷/ ۸۸)

تابَعینِ عُظّام کے سفید عمامے

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! چونکہ تابعینِ عُظَّام عَلَیْہِمُ الرِّضوَان بھی مختلف رنگوں کے عمامے سجایا کرتے تھے اور ان ہی میں سے بعض تابَعِینِ عُظَّام عَلَیْہِمُ الرِّضوَان سفید عمامے شریف بھی سجایا کرتے تھے جن میں سے کچھ کے مبارک عماموں کا یہاں ذکر کیا گیا ہے چنانچہ

(1)سیّدنا امام زین العابدین کا سفید عمامہ

        حضرت سیّدنامحمد بن ہِلال رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :  رَاَیتُ عَلِیَ بنَ الحُسَینِ یَعتَمُّ بِعِمَامَۃٍ بَیضَائَ فَیُرخِی عِمَامَتَہٗ مِن وَّرَائِ ظَھرِہ یعنی میں نے حضرت سیّدنا علی بن حسین (یعنی امام زین العابدین) رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کو سفید عمامہ شریف باندھتے دیکھا، آپ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ عمامہ کا شملہ اپنی پیٹھ مبارک پر لٹکا تے تھے۔  (تاریخ الاسلام، ۶/ ۴۳۲، تاریخ ابنِ عساکر، ۴۱/ ۳۶۵واللفظ لہ)

(2)سیّدنا سعید بن مُسیّب کا دھاری دار عمامہ

        حضرت سیّدنا محمد بن ہِلال رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :  میں نے حضرت سیّدنا سعید بن مُسَیَّب رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کو باریک نرم ٹوپی پر ایسا سفید عمامہ شریف باندھے دیکھا جس میں سرخ دھاریاں تھیں اور آپ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ نے عمامے کا بالشت بھر شملہ اپنے پیچھے لٹکایا ہوا تھا۔  (طبقات ابن سعد ، الطبقۃ الاولی من اہل المدینۃ من التابعین، سعید بن المسیب، ۵/ ۱۰۵)

(3)سیّدنا سعید بن جُبَیر کا سفید عمامہ

 



Total Pages: 101

Go To