Book Name:Imamay kay Fazail

ابوبلال محمد الیاس عطّار قادری رضوی  دَامَت بَرَکَاتُہُمُ العَالیَہ بھی سفید لباس کی ترغیب دلاتے ہوئے اسلامی بھائیوں کے لئے عطا کردہ 72 مدنی انعامات کے رسالے میں فرماتے ہیں ’’کیا آج آپ کا سارا دن (نوکری یا دکان وغیرہ پر نیز گھر کے اندر بھی ) عمامہ شریف (اور تیل لگانے کی صورت میں سر بند بھی ) زلفیں (اگر بڑھتی ہوں تو) ایک مُشت داڑھی ، سنّت کے مطابق آدھی پنڈلی تک (سَفید) کُرتا ، سامنے جیب میں نمایاں مسواک اور ٹخنوں سے اونچے پائنچے رکھنے کا معمول رہا؟ ‘‘

       میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مندرجہ بالا روایات سے جہاں سفید لباس پہننے کا پتہ چلتا ہے وہیں ضمناً سفید عمامہ شریف کے محبوب ہونے کا بھی بیان ہے کیونکہ عمامہ بھی لباس کا ہی حصہ ہے جیسا کہ حضرت سیّدنا امام جلال الدین سیوطی عَلَیہ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی سے جب سوال کیا گیا کہ : ذَکَرَ بَعضُھُم اَنَّ النَّبِیّ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہِ وَسَلَّم لَبِسَ عِمَامَۃً صَفرَائَ فَھَل لِذَالِکَ اَصلٌ ؟ یعنی بعض لوگ کہتے ہیں کہ نبیٔ اکرم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے زرد عمامہ پہنا ہے، تو کیا اس کی کوئی اصل ہے ؟     

         حضرت علامہ جلال الدین سیوطی عَلَیہ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی نے جواب میں زرد عمامہ شریف والی روایات کے ضمن میں یہ حدیث بھی ذکر فرمائی کہ حضرت سیّدنا عبد اللّٰہ  بن عمر رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہُما سے مروی ہے :  کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہِ وَسَلَّم یُصَفِّرُ ثِیَابَہ یعنی نبیٔ اکرم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم اپنے کپڑوں کو زرد رنگا کرتے تھے۔  

(الحاوی للفتاوی ، کتاب البعث ، ذکر ما وقع لنا من روایۃ الحسن عن علی، ۲/ ۱۲۶)

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! غور فرمائیے حضرت سیّدنا امام جلال الدین سیوطی عَلَیہ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی کا ’’ زرد عمامے‘‘ سے متعلق سوال کے جواب میں ’’زرد لباس ‘‘ والی حدیث پیش کرنا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ لباس کے اطلاق میں عمامہ بھی شامل ہے، ورنہ سوال و جواب میں مُطابَقَت ہی نہ ہوگی جو کہ علامہ جلال الدین سیوطی عَلَیہ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی جیسی شخصیت کے متعلق تصور بھی نہیں کی جا سکتی۔  خاص سفید عمامہ شریف کے متعلق بھی بعض روایات ہیں چنانچہ

رسول  اللّٰہ  کا سفید عمامہ

        حضرت سیّدنا ابو سعید خُدرِی رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ روایت فرماتے ہیں کہ رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسلَّم درِدولت سے باہر تشریف لائے جب کہ لوگ زیارت کے لیے جمع تھے اور آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسلَّم (کی طبیعت مبارک) کے متعلق پوچھ رہے تھے، پس آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسلَّم کپڑا لپیٹے یوں تشریف لائے کہ آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسلَّم کی چادر مبارک کے دونوں کنارے آپ کے مبارک کندھوں سے لٹک رہے تھے اور سرِاقدس پر سفید عمامہ شریف سجا رکھا تھا۔  پس آپ منبر پر کھڑے ہو گئے اور لوگ آپ کے قریب جمع ہونے لگے یہاں تک کہ مسجد بھر گئی۔  آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسلَّم نے کلمۂ شہادت پڑھا اور ارشاد فرمایا اے لوگو :  بے شک انصار میرا خیال رکھنے والے اور میرے اپنے ہیں ، پس ان کے معاملے میں میرا لحاظ کرنا، ان کے اچھوں کو قبول کرنا اور ان کے بروں سے درگزر کرنا۔ (طبقات ابن سعد، ذکر ما قال رسول  اللّٰہ  صلی  اللّٰہ  علیہ و سلم فی مرضہ الذی مات فیہ للانصار، ۲/ ۱۹۳)

شان کیا پیارے عمامے کی بیاں ہو یانبی

تیری نعلِ پاک کا ہر ذرَّہ رشکِ طور ہے

’’ہوں غلامِ مصطَفٰے‘‘ عطارؔ کا دعویٰ ہے یہ

کاش! آقا بھی یہ فرما دیں ہمیں منظور ہے

سیّدنا جبریل امین کا سفید عمامہ

        حضرت سیّدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہا  فرماتی ہیں :  (ایک مرتبہ ) رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اچانک تیزی سے اٹھ کھڑے ہوئے میں نے جونہی نظر اٹھائی تو دیکھا کہ مَعَہُ رَجُلٌ وَاقِفٌ عَلَی بِرْذَوْنٍ وَعَلَیْہِ عِمَامَۃٌ بَیْضَائُ قَدْ سَدَلَ طَرَفَہَا بَیْنَ کَتِفَیْہِ یعنی آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس ایک شخص تُرکی گھوڑے پر سوار کھڑا تھا ، اس نے سر پر سفید عمامہ شریف سجا رکھا تھا جس کا شملہ اس نے اپنے دونوں کندھوں کے درمیان لٹکایا ہوا تھا۔ جبکہ رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنا دستِ اقدس اس کے گھوڑے کی گردن پر رکھے ہوئے تھے، (سیدہ عائشہ صدیقہ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہا فرماتی ہیں ) میں نے عرض کی ، یارسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  میں تو آپ کے اس طرح اچانک کھڑے ہونے سے ڈر ہی گئی تھی ، یہ (گُھڑ سوار) کون تھا؟ نبیٔ کریم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :  کیاتم نے اسے دیکھاہے ؟ سیدہ عائشہ صدیقہ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہا نے عرض کی :  جی ہاں ، تو آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :  وَمَنْ رَاَیْتِ؟ یعنی تم نے کس کو دیکھا ؟ میں نے عرض کی :  دحیہ کلبیرَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کو ، تو آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :  ذَاکَ جِبْرَائِیْلُ یعنی وہ تو جبرائیل (عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام )تھے۔

 (طبقات ابن سعد ، الطبقۃ الثانیۃ من المہاجرین والانصار ممن لم یشہد بدرا الخ ، دحیۃ بن خلیفۃ، ۴/ ۱۸۹)

سفید عماموں والے

َ        حضرت سیّدنا حسن بَصری عَلَیہ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی فرماتے ہیں :  حضرت سیّدنا موسیٰ کَلِیمُ  اللّٰہ  عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے جب اپنے گھر والوں ، اپنی اولاد اور اپنی والدہ کو چھوڑا (یعنی جب آپ کے وصالِ مبارک کا وقت قریب آیا) تو آپ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے حضرت سیّدنا یُوشَع عَلَیْہِ الصلٰوۃُ وَالسَّلام کو پیغام بھیج کر انہیں خلیفہ مقرر فرمایا اور ملک الموتعَلَیْہِ الصلٰوۃُوَالسَّلام کی جانب تشریف لائے ۔  ملک الموت عَلَیْہِ الصلٰوۃُوَالسَّلام نے عرض کی :  اے موسیٰ (کَلِیمُ  اللّٰہ ) عَلَیْہِ الصلٰوۃُوَالسَّلام! موت کا آنا ایک ضروری امر ہے ، حضرت سیّدنا موسیٰ کَلِیمُ  اللّٰہ  عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے ان سے فرمایا :  میرے بارے میں  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ کا جو بھی حکم ہے اسے پورا کیجئے ، حضرت سیّدنا حسن بصری عَلَیہ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی نے فرمایا : پھر آپ دونوں بستی سے باہر تشریف لے گئے جہاں حضرت سیّدنا جبریلِ امین ، حضرت سیّدنا میکائیل و حضرت سیّدنا اسرافیل عَلَیْھِمُ الصلٰوۃُوالسَّلام آپ دونوں کا انتظار کر رہے تھے ۔ پھر سب آگے کی جانب تشریف لے گئے یہاں تک کہ ایک قبر کے قریب پہنچے جس کے پاس کچھ ایسے لوگ تھے، جنہوں نے سفید عمامے شریف باندھ رکھے تھے، جب اس قبر کے اور قریب پہنچے تو وہاں سے مشک کے حلّے اُٹھ رہے تھے ۔  حضرت سیّدنا موسیٰ کَلِیمُ  اللّٰہ  عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے



Total Pages: 101

Go To