Book Name:Imamay kay Fazail

        (۲)حضرت سیّدنا محمد بن زبیر رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :  مجھ سے حضرت سیّدنا عمر بن عبدالعزیز رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت سیّدنا حسن (بصری) عَلیْہ رَحْمَۃُ اللّٰہ  الْقَوِی کے جسم ، آپ کے کھانے پینے اور آپ کے لباس سے متعلق پوچھا، حضرت سیّدنا محمد بن زبیر رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ کہتے ہیں :  پھر حضرت سیّدنا عمر بن عبدالعزیز رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  مجھے پتا چلا ہے کہ حضرت سیّدنا حسن بصری عَلیْہ رَحْمَۃُ اللّٰہ  الْقَوِی حرقانی عمامہ پہنتے ہیں ؟ میں نے عرض کی ، جی ہاں ۔  (طبقات ابن سعد ، الطبقۃ الثانیۃ ممن روی عن عثمان و علی الخ، الحسن بن ابی الحسن، ۷/ ۱۲۶)     

زرد عمامہ

       میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  نبیٔ رحمت، شَفِیعِ اُمت، مالک کوثر و جنّت صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے عمامہ شریف کے جو رنگ منقول ہیں ان میں سے ایک رنگ زرد بھی ہے، آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا زرد عمامہ شریف باندھنا کئی احادیث سے ثابت ہے، نیز حضرت سیّدنا جبریلِ امین عَلَیہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام، ملائکہ عظام ، صحابۂ کرام رِضوَانُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہِم اَجمَعِین کا زرد عمامے پہننا بھی منقول ہے چنانچہ

سرکار صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا زرد عمامہ

        (۱)حضرت سیّدنا ابوہریرہ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :  خَرَجَ عَلَیْنَا رَسُوْلُ  اللّٰہ  (صَلَّی  اللّٰہ  عَلَیْہِ وَسَلَّم) وَعَلَیْہِ قَمِیْصٌ اَصْفَرُ وَرِدَائٌ اَصْفَرُ وَعِمَامَۃٌ صَفْرَائُ یعنی رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہمارے پاس اس حال میں تشریف لائے کہ آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم زرد قمیص و چادر زیبِ تن کیے اور زرد عمامہ شریف سجائے ہوئے تھے۔  

(تاریخ ابن عساکر ، حرف العین ، عبد الرحمن بن سعد الخیر، ۳۴/ ۳۸۵)

        (۲)اُستاذُالمُحَدِّثِین حضرت علامہ مفتی وصی احمد مُحدِّث سُورَتی عَلَیہ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی  عمامہ شریف کے متعلق اپنی تصنیفِ لطیف’’کَشفُ الغَمَامَہ عَن سُنِّیَّۃِ العِمَامَہ‘‘ صفحہ 20پر حدیث پاک نقل فرماتے ہیں کہ :  (حضرت سیّدنا ) فضل بن عباس رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کہتے ہیں کہ دَخَلْتُ عَلٰی رَسُولِ  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی مَرَضِہِ الَّذِی تُوُفِّیَ فِیہِ وَ عَلٰی رَاْسِہِ عِصَابَۃٌ صَفْرَائُ یعنی حضور سراپا نور (صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کے مرضِ رِحلت میں مَیں حاضرِ خدمت شریف ہوا حالانکہ آپ کے سرمبارک پر عمامہ زرد تھا۔

(الشمائل المحمدیۃ، باب ما جاء فی إتکاء رسول  اللّٰہ  صلی  اللّٰہ  علیہ وسلم، ص۹۳، حدیث : ۱۲۹)

        (۳)حضرت سیّدنا عباد بن حمزہ بن عبد اللّٰہ  بن زبیر رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ مجھے یہ حدیث پہنچی ہے کہ بدر کے دن فرشتے اس حال میں (زمین پر) اترے کہ وہ سفید پرندوں کی مانندتھے اور انھوں نے زرد عمامے باندھ رکھے تھے ۔ اس دن حضرت سیّدنا زبیر رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ نے بھی زرد عمامہ باندھا ہوا تھا ، نبیٔ کریمصَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :  نَزَلَتِ الْمَلَائِکَۃُ عَلٰی سِیمَا اَبِیْ عَبْدِ اللّٰہ  وَجَائَ النَّبِیُِّ صَلَّی  اللّٰہ  عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَعَلَیْہِ عِمَامَۃٌ صَفْرَائُ یعنی فرشتے ابوعبد اللّٰہ  (یہ حضرت سیّدنا زبیر رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کی کُنیت ہے ) کی علامت پر اُترے ہیں ۔  اور (پھر) نبی ٔ کریم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بھی زرد عمامہ شریف زیبِ سر کیے تشریف لائے ۔  (تاریخ ابن عساکر، ذکرمن اسمہ زبیر ، ۱۸/ ۳۵۴)

        (۴)حضرت سیّدنا زید بن اسلم رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :  حضرت سیّدنا عبد اللّٰہ  ابن عمر رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہُما اپنی داڑھی مبارک کو زرد رنگ سے رنگتے تھے یہاں تک کہ آپ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کے کپڑوں میں بھی زرد رنگ لگ جایا کرتا تھا۔  آپ َرضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ سے پوچھا گیا آپ زرد رنگ سے  کیوں رنگتے ہیں ، تو آپ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا :  میں نے رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو زرد رنگ سے رنگتے دیکھا ہے اور آپ کو اس سے زیادہ اور کوئی رنگ محبوب نہ تھا آپ پورے لباس کو اس میں رنگتے حتی کہ عمامہ شریف کو بھی اسی رنگ میں رنگا کرتے تھے۔

 (ابوداؤد ، کتاب اللباس ، باب فی المصبوغ بالصفرۃ ، ۴/ ۷۳، حدیث : ۴۰۶۴)  

سیّدنا جبریلِ امین کا زرد عمامہ

        حضرت  سیّدنا حکیم بن حِزام رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :  جب میدانِ بدر میں جنگ شروع ہونے لگی تو رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے ہاتھوں کو اٹھا کر  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ سے مدد اور  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ نے آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے جو وعدہ فرمایا تھا اس کا سوال کیا، اور عرض کی :  الٰہی! اگر آج مسلمانوں پر مشرکین غالب آگئے تو شرک عام ہو جائے گا اور تیرا دین قائم نہیں رہ پائے گا۔  حضرت سیّدنا ابو بکر صدیق رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ عرض کر رہے تھے :   اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ کی قسم!  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ ضرور آپ کی مدد فرمائے گا اور ضرور آپ کے چہرے کو روشن فرمائے گا۔  پس  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ نے دشمنوں کے کناروں پر قطار باندھے ہوئے ایک ہزار فرشتے اتارے، رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :  اے ابوبکر (رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ) تمہیں مبارک ہو، یہ جبریلِ امین عَلَیْہِ الصلٰوۃُ وَالسَّلام ہیں جو آسمان و زمین کے درمیان زرد عمامہ شریف باندھے اپنے گھوڑے کی لگام پکڑ ے آ رہے ہیں ۔  (الریاض النضرۃ فی مناقب العشرۃ، القسم الثانی، الباب الاول ، الفصل التاسع فی خصائصہ، ذکر شدۃ باسہ و ثبوتہ یوم بدر ، ۱/ ۱۴۰)

صحابۂ کرام کے زرد عمامے

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! چونکہ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضوَان مختلف رنگوں کے عمامے سجایا کرتے تھے اور ان ہی میں سے بعض صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضوَان زرد عمامے شریف بھی سجایا کرتے تھے جن میں سے چند ایک کے مبارک عماموں کا یہاں ذکر کیا گیا ہے چنانچہ

(1)سیّدنا عبد اللّٰہ  بن عمر کا زرد عمامہ

        حضرت سیّدنا زید بن اسلم عَلَیْہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  الاَکرَم حضرت سیّدنا عبد اللّٰہ  بن عمر رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہُما کے متعلق فرماتے ہیں :  اَ نَّہٗ کَانَ یَسْتَحِبُّ الصُّفْرَۃَ حَتّٰی فِی الْعِمَامَۃِ وَزَعَمَ اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی  اللّٰہ  عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ کَانَ یَسْتَحِبُّ الصُّفْرَۃَ یعنی حضرت سیّدنا عبد اللّٰہ  بن عمر رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ زرد رنگ پسند فرمایا کرتے تھے یہاں تک کہ عمامہ شریف میں بھی ، اور آپ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کے نزدیک زرد رنگ بھی نبیٔ کریم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا پسند یدہ تھا۔  (مسند عبد بن حمید ، احادیث ابن عمر ، ۱/ ۲۶۵، حدیث : ۸۴۰)

(2)سیّدنا خالد بن ولید کا زرد عمامہ

       حضرت امام ابوعبد اللّٰہ  محمد بن عمر واقدی عَلیْہ رَحْمَۃُ اللّٰہ  الْقَوِی نقل فرماتے ہیں کہ حضرت سیّدنا خالد بن ولید رَضِیَ  اللّٰہ  تَعالٰی عَنہ نے میدانِ جنگ میں سرخ لباس زیبِ تن فرما کر زرد عمامہ شریف باندھ رکھا تھا۔  (فتوح الشام، ص۴۷ مخطوط مصور)

 



Total Pages: 101

Go To