Book Name:Imamay kay Fazail

کبریٰ کے بازار میں تشریف لائے اور فرمایا :  ’’روزہ کھول دو‘‘۔  اُس وقت کی وَضع منقول ہے کہ سیاہ گھوڑے پر سوار تھے ، سیاہ لباس پہنے تھے، سیاہ عمامہ باندھے تھے، غرض کہ سوائے رِیش (یعنی داڑھی) مبارک کے کوئی چیز سفید نہ تھی۔  اس سے یہ مسئلہ اِسْتِنْباط(یعنی ثابت) کیا گیا کہ ’’سواد (سیاہ رنگ) کا پہننا جائز ہے۔  ایک صاحب نے سوال کیا :  آپ کا روزہ ہے یا نہیں ؟ چپکے سے کان میں فرمایا : ’’ اَنَاصَائِمٌ میں روزہ سے ہوں ۔ ‘‘اس سے یہ مسئلہ نکلا کہ’’ مفتی خود’’ یَومُ الشَّک ‘‘ میں روزہ رکھے اور عوام کو نہ رکھنے کا حکم دے۔ ‘‘ (ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت ، ص ۴۸۳)     

بارگاہِ مصطفٰی سے عطا کردہ عمامہ

        خَاتَمُ المُحَدِّثِین حضرت علامہ شیخ عبد الحق محدث دہلوی عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی فرماتے ہیں :  شیخ احمد کھتو گنج بخش مغربی  عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مدینۂ منورہ سے واپسی کے وقت اپنے تین دوستوں کے ہمراہ روضۂ اقدس پر آخری سلام کے لیے حاضر ہوا، روضۂ مبارک کے خادم دس گز کے فاصلے پر سیاہ دستانے پہنے کھڑے تھے ۔  انھوں نے مجھ سے فرمایا : ’’ یہ عمامہ شریف لو اور اسے سر پر باندھ لو۔ ‘‘ میں نے ان سے عرض کی :  میرے مرشد چونکہ ٹوپی ہی پہنا کرتے تھے اس لیے میں یہ عمامہ نہیں باندھوں گا۔  انھوں نے کہا :  رات خواب میں رسولِ اکرم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہم سے فرمایا تھا :  یہ دس گز کا سیاہ عمامہ فلاں شخص کو دینا اور ساتھ ہی میرا پیغام بھی دینا کہ میں اِسے باندھنے کا حکم دیتا ہوں ، اس کو سر پر باندھ لو اور اسلام کی دعوت و تبلیغ میں لگ جاؤ۔  چنانچہ میں نے وہ عطیہ قبول کیا، چوما اور سر پر باندھ لیا۔  (اخبار الاخیار، ص۱۵۸)

حَرقانی عمامہ

       میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  نبی ٔ پاک ، صاحبِ لولاک ، سیّاحِ افلاک صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم کے مختلف رنگ کے عماموں میں ایک حرقانی رنگ کا عمامہ شریف بھی تھا۔  یہ خالص سیاہ رنگ کا نہیں تھا بلکہ جیسے کسی چیز کو آگ سے جلا دیا جائے تو اس کا رنگ قدرے سیاہی مائل ہو جاتا ہے ۔  آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا یہ عمامہ مبارک بھی ایسا ہی سیاہ تھا جیسے آگ سے جلی ہوئی شے کا رنگ ہوتا ہے۔  

سرکار  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کاحرقانی عمامہ

       (۱)حضرت سیّدنا عمرو بن حُرَیث رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : رَاَیْتُ عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی  اللّٰہ  عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عِمَامَۃً حَرْقَانِیَّۃً یعنی :  میں نے نبیٔ کریم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو حرقانی عمامہ شریف سجائے دیکھا۔  (نسائی، کتاب الزینۃ، لبس العمائم الحرقانیۃ، ۱/ ۸۴۶، حدیث :  ۵۳۵۳)

       (۲) حضرتِ علّامہ جلالُ الدّین سُیُوطِی شافِعی عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی فرماتے ہیں : وَکَثِیْرًا مَّا کَانَ یَعْتَمُّ بِالْعَمَائِمِ الْحَرْقَانِیَّۃِ السُّوْدِ فِیْ اَسْفَارِہٖ یعنی :  رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اکثر دورانِ سفر سیاہ حرقانی رنگ کاعمامہ شریف پہنتے تھے۔  (الحاوی للفتاوی ، کتاب الصلوۃ، باب اللباس، ۱/ ۸۳)

صحابۂ کرام رِضْوَان  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلیھِم کے حرقانی عمامے

        سر کار نامدار، بے کسوں کے تاجدار، صاحبِ پسینۂ خوشبودار و عمامۂ نُوربار صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سنّتوں کے آئینہ دار صحابۂ کرام رِضْوَانُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلیھِم بھی سرکار صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اس سنّت پر عمل کرتے ہوئے اپنے سروں پر حرقانی رنگ کے عمامے سجایا کرتے تھے جیسا کہ کئی احادیثِ مبارکہ میں اس کا ذکر موجود ہے چنانچہ

(1) سیّدنا ابن عباس کا حَرقانی عمامہ

        حضرت سیّدنا کُرَیب بن ابی مسلم رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :  رَاَیْتُ عَلٰی اِبْنِ عَبَّاسٍ عِمَامَۃً سَوْدَائَ حَرْقَانِیَّۃً قَدْاَرْسَلَھَا مِنْ بَیْنِ یَدَیْہِ شِبْرًا وَمِنْ خَلْفِہٖ ذِرَاعًا یعنی میں نے حضرت سیّدنا عبد اللّٰہ  بن عباس رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کو سر پر سیاہ حرقانی عمامہ شریف سجائے دیکھا ، آپ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ نے عمامے کے دو شملے چھوڑے ہوئے تھے ایک اپنے سامنے جوکہ بالشت برابر تھا اوردوسرا اپنی پیٹھ مبارک پر لٹکایا ہوا تھا جو کہ ایک ذراع (ایک ہاتھ ) تھا۔  (مشایخ الدقاق، ص۱۱۳، رقم : ۱۱۱)

(2)سیّدنا عبد اللّٰہ  بن عمرو کا حرقانی عمامہ

        حضرت سیّدنا رِشدِین بن کُرَیب رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :  رَاَیْتُ عَبْدَ  اللّٰہ  بْنَ عَمْرو یَعْتَمُّ بِعِمَامَۃٍ حَرْقَانِیَّۃٍ وَیُرْخِیہَا شِبْرًا اَوْاَقَلَّ مِنْ شِبْرٍ یعنی میں نے حضرت سیّدنا عبد اللّٰہ  بن عمرو بن عاص رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کو حرقانی رنگ کا عمامہ شریف باندھتے دیکھا آپ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ اس کا ایک بالشت یا اس سے کم شملہ لٹکاتے تھے ۔  (طبقات ابن سعد ، الطبقۃ الثانیۃ من المہاجرین والانصار ممن لم یشہد بدرا، عبد  اللّٰہ  بن عمرو بن العاص، ۴/ ۲۰۰)

(3)سیّدنا عبد اللّٰہ  بن حارث کا حرقانی عمامہ

        حضرت سیّدنا عبید اللّٰہ  بن ابوجعفر رَحمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ فرماتے ہیں :  رَاَیْتُ عَلَی عَبْدِ  اللّٰہ  بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْئٍ عِمَامَۃً حَرْقَانِیَّۃً یعنی میں نے حضرت سیّدنا عبد اللّٰہ  بن حارث بن جَزء زُبیدیعَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی کو حرقانی رنگ کا عمامہ شریف سجائے دیکھا۔  (طبقات ابن سعد ، تسمیۃ من نزل مصرمن اصحاب رسول  اللّٰہ ، عبد  اللّٰہ  بن الحارث بن جزء الزبیدی، ۷/ ۳۴۵)

تابعینِ عُظّام رَحِمَہُمُ  اللّٰہ  السَّلام کے حرقانی عمامے

        تابعینِ عُظّام رَحِمَہُمُ  اللّٰہ  السَّلاَم میں سے حضرت سیّدنا محمد بن حَنَفِیہَّ رَحمۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ اور حضرت سیّدنا حسن بصری عَلیْہ رَحْمَۃُ اللّٰہ  الْقَوِی کے حرقانی عمامے باندھنے کا ذکر ملتا ہے جیسا کہ :  

        (۱)حضرت سیّدنا رِشدِین رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :  رَاَیْتُ مُحَمَّدَ بْنَ الْحَنَفِیَّۃِ یَعْتَمُّ بِعِمَامَۃٍ سَوْدَائَ حَرْقَانِیَّۃٍ وَیُرْخِیہَا شِبْرًا اَوْ اَقَلَّ مِنْ شِبْرٍ یعنی میں نے حضرت سیّدنا محمد بن حَنَفِیَّہ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کو سیاہ حرقانی عمامہ شریف پہنے دیکھا، آپ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ نے اس کا بالشت بھر یا بالشت سے کچھ کم شملہ لٹکا رکھا تھا۔  (طبقات ابن سعد ، الطبقۃ الاولی من اہل المدینۃ من التابعین،    

محمد ابن الحنفیۃ، ۵/ ۸۵)

 



Total Pages: 101

Go To