Book Name:Imamay kay Fazail

فضائل العباس بن عبدالمطلب الخ ، باب ذکر تعظیم قدر العباس الخ ، ۵/ ۲۲۵۱، رقم : ۱۷۳۲)

سرکار صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا سیاہ عمامہ شریف

       حضرت سیّدنا جابر بن عبد اللّٰہ  رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہُما فرماتے ہیں : خَرَجَ عَلَیْنَا رَسُولُ  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ الحُدَیبِیَۃ وَعَلَیہِ عِمَامَۃٌ سَوْدَائُ قَدْ عَلَاھَا الغُبَارُ یعنی حدیبیہ کے دن رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہمارے پاس تشریف یوں لائے کہ آپصَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سیاہ عمامہ شریف پہنے ہوئے تھے جس پر کچھ غبار (برکتیں لوٹ رہا) تھا۔  (اخبار اصبہان، باب الزا، ۱/ ۴۳۱)

       حضرت سیّدنا عبد اللّٰہ  بن عباس رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہُما فرماتے ہیں :  رسول  اللّٰہ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے زمانۂ اقدس میں ایک مرتبہ لوگ قحط سالی میں مبتلا ہوئے فَخَرَجَ مِنَ المَدِینَۃِ اِلٰی بَقِیعِ الغَرْقَدِ مُعتَمًّا بِعِمَامَۃٍ سَوْدَاء قَدْ اَرخٰی طَرَفَھَا بَیْنَ یَدَیْہِ وَالاٰخَرُ بَیْنَ مَنْکِبَیْہِ یعنی آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم مدینہ منورہ سے بقیعِ غَرقَد (جَنَّتُ البَقِیع) کی طرف تشریف لے گئے، اس وقت آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سیاہ عمامہ پہنے ہوئے تھے جس کا ایک شملہ اپنے سامنے اور دوسرا اپنے دونوں کندھوں کے درمیان لٹکا ئے ہوئے تھے۔  (کنزالعمال ، کتاب الصلاۃ ، الباب السابع فی صلاۃ النفل، صلاۃ الاستسقاء ، الجز۸، ۴/ ۲۰۳، حدیث : ۲۳۵۴۱)

       حضرت سیّدنا عبد اللّٰہ  بن عباس رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہُما فرماتے ہیں :  میں نے  رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو سیاہ عمامہ شریف باندھے دیکھا جس کا شملہ آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  نے سامنے (یعنی سینۂ اقدس) پر لٹکا رکھا تھا۔  (سبل الھدی والرشاد، جماع ابواب سیرتہ صلی  اللّٰہ  علیہ وسلم فی لباسہ الخ ، الباب الثانی فی العمامۃ والعذبۃ الخ، ۷/ ۲۷۱)

صحابۂ کرام کے سیاہ عمامے

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! چونکہ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضوَان مختلف رنگوں کے عمامے سجایا کرتے تھے اور ان ہی میں سے بعض صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضوَان سیاہ عمامے شریف بھی سجایا کرتے تھے جن میں سے چند ایک کے مبارک عماموں کا ذیل میں ذکر کیا گیا ہے چنانچہ

مہاجرین صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے عمامے

                                                حضرت سیّدنا سلیمان بن ابوعبد اللّٰہ  رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :  میں نے دیکھا کہ مہاجرین اولین صحابۂ کرام رِضْوَانُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلیھِم اَجمَعِین سیاہ، سفید، سرخ، سبزاور زرد رنگ کے سُوتی عمامے باندھاکرتے تھے ، ان میں سے کوئی یوں عمامہ شریف باندھتا کہ عمامے (کے شملے) کو سر پر رکھ کر اس کے اوپر ٹوپی پہنتا پھر عمامہ کو اس کے پیچ پر گول گھماتا اور تحنیک نہ فرماتا یعنی :  عمامے کے شملے کو ٹھوڑی کے نیچے سے نہ نکالتا۔  (مصنف ابن ابی شیبہ ، کتاب اللباس والزینۃ ، باب من کان یعتم بکور واحد ، ۱۲/ ۵۴۵، حدیث : ۲۵۴۸۹)

(1)سیّدنا علی المرتضٰی کا سیاہ عمامہ

       (۱)حضرت سیّدنا جابر رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :  جس شخص نے حضرت سیّدنا علی المرتضیٰ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کی زیارت کی تھی اس نے بتایا کہ آپ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ نے سیاہ عمامہ شریف باندھ رکھا تھا اور اس کا شملہ اپنے آگے اور پیچھے لٹکا رکھا تھا۔  (مصنف ابن ابی شیبہ ، کتاب اللباس ، باب فی العمائم السود ، ۱۲/ ۵۳۹، حدیث : ۲۵۴۶۰)     

حضرت علی کو سرکار نے سیاہ عماہ باندھا

       (۲)حضرتسیّدنا حکیم اَ بُوالاَحوَص رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :  رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیّدنا علی المرتضیٰ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کو بلایا اور ان کے سر پر سیا ہ عمامہ شریف باندھا ، اور ان (حضرت علی رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ ) کے کندھوں کے درمیان شملہ لٹکا کر فرمایا :  ھٰکَذَا فَاعْتَمُّوْا یعنی یوں عمامہ باندھا کرو۔  

(میزان الاعتدال، حرف العین ، من اسمہ عبد  اللّٰہ  ، عبد اللّٰہ  بن بسر ، ۲/ ۳۰۵)

یومِ شہادتِ عثمان حضرت علی کا سیاہ عمامہ

                        (۳)حضرت سیّدنا  ابو جعفرمحمد بن علی رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :  (جب حضرت سیّدنا عثمانِ غنی رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کے گھر کا باغیوں نے مُحاصَرہ کر رکھا تھا اس وقت ) حضرت سیّدنا عثمانِ غنی رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت سیّدنا علی المرتضیرَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کو اپنے پاس بلانے کے لئے (کسی کو ) بھیجا، حضرت سیّدناعلی ا لمرتضی رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ نے ان کے پاس آنے کا ارادہ کیا تو لوگ آپ ( حضرت سیّدنا علی رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ ) سے لپٹ گئے اور آپ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کو روک دیا ، تو حضرت سیّدنا علی المرتضیٰ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے سر سے سیاہ عمامہ شریف اتارا ، اور  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں عرض کی :   اللّٰہ مَّ لَا اَرْضٰی قَتْلَہٗ وَلَا آمِرٌ بِہ یعنی اے  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ ! میں حضرت سیّدنا عثمان غنی رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ  کے قتل سے نہ تو راضی ہوں اور نہ ہی اس کا حکم دیتا ہوں ۔  (تاریخ الاسلام ، ۳/ ۴۴۹)

       حضرت سیّدنا ابو جعفر اَنصاری رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : میں نے حضرت سیّدنا علی المرتضیٰ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کو شہادتِ عثمان رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کے روز سیاہ عمامہ باندھے دیکھا۔

 (مصنف ابن ابی شیبہ ، کتاب اللباس، باب فی العمائم السود، ۱۲/ ۵۳۷، حدیث : ۲۵۴۵۱)

        (۴)حضرت سیّدنا ہُرمُز رَحمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ فرماتے ہیں :  رَاَیْتُ عَلِیًّا مُتَعَصِّبًا بِعِصَابَۃٍ سَوْدَائَ یعنی میں نے حضرت سیّدنا علی المرتضٰی رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کو سیاہ عمامہ شریف باندھے ہوئے دیکھا آپ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ نے اس کے دو شملے چھوڑے ہوئے تھے (راوی کہتے ہیں ) : مَااَدْرِی اَیَّ طَرَفَیْہَا اَطْوَلَ الَّذِی قُدَّامَہُ اَوِ الَّذِی خَلْفَہُ یعنی میں نہیں جانتا کہ ان دونوں میں سے کون سا شملہ زیادہ لمبا تھا، جسے آپ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے سامنے لٹکایا ہوا تھا یا وہ جسے اپنے پیچھے لٹکا رکھا تھا۔  (طبقات ابن سعد ، طبقات البدریین من المہاجرین ، علی بن ابی طالب ، ذکر لباس علی ، ۳/ ۲۱)

(2) سیّدنا ابو موسٰی اشعری کا سیاہ عمامہ

       حضرت سیّدنا یونس بن عبد اللّٰہ  جَرمِی عَلَیہ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی فرماتے ہیں :  حضرت سیّدنا ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ حضرت سیّدنا امیرِمعاویہ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ  کے پاس مقامِ نَخِیلَہ میں تشریف لائے تو حضرت سیّدنا ابو موسیٰ اَشعری رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ اس وقت سیاہ رنگ کا جبّہ زیبِ تن فرمائے اور سیاہ عمامہ شریف سجائے ہوئے تھے اور آپ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ نے سیاہ رنگ کا ہی عصا مبارک تھام رکھا تھا ۔  (طبقات ابن سعد، الطبقۃ الثانیۃ من المہاجرین والانصار ممن لم یشہد بدرا، ابو موسیٰ اشعری ، ۴/ ۸۴)

 



Total Pages: 101

Go To