Book Name:Imamay kay Fazail

و احیاناً سبز‘‘ یعنی :  سرکارِ نامدار صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَ اٰلہٖ وَ سَلَّم کا مبارک عمامہ اکثر سفید ، کبھی سیاہ اور کبھی کبھار سبز ہوتا۔

(خلاصۃ الفتاویٰ ، ج ۲ رسالہ ضیاء القلوب فی لباس المحبوب ، ص ۱۵۳)

الفت ہے مجھے گیسوئے خَمدارِ نبی سے

اَبرو و پَلک آنکھ سے رُخسارِنبی سے

پَیراہَن و چادر سے عصا سے ہے مَحَبَّت

نَعلَیْنِ شَرِیفَین سے دَستارِنبی سے

سیاہ عمامہ

رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا سیاہ عمامہ

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہمارے پیارے آقا ، مکے مدینے والے مصطفی صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَ اٰلہٖ وَسلَّم نے مختلف مواقع پر سیاہ رنگ کا عمامہ شریف نہ صرف خود سجایا بلکہ بعض صحابۂ کرام عَلَیہِمُ الرِّضوَان کے سروں پر بھی باندھا ۔  نیز سیاہ رنگ کا عمامہ مبارک ہی حضرت سیّدنا جبریلِ امین عَلَیہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلاَم نے ہمارے پیارے پیارے آقا صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَ اٰلہٖ وَسلَّم کے سرِ انور پر باندھا چنانچہ

       تمام مُحَدِّثِین ، مُصَنِّفِین ، اَصحَابِ کُتُبِ سِتَّہ و مَسَانِید ومَعَاجِیم وغیرہ کے بواسطہ و بلاواسطہ استاد ، سِرَاجُ الْاُمَّہ ، اِمَامُ الْاَئِمَّہ حضرت سیّدنا امام اعظم ابوحَنِیفَہ نعمان بن ثابت رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنہ اپنے بعض اصحاب سے روایت فرماتے ہیں :  اَنَّ جِبرِیلَ اَتَی النَّبِیَّ صَلَّی  اللّٰہ  عَلَیہِ وَسَلَّمَ فَعَمَّمَہ بَعِمَامَۃٍ سَودَائَ ، وَاَسدَلَ لَہَا مِن خَلفِہ یعنی جبریلِ امین عَلَیہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلاَم نبیٔ کریم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَ اٰلہٖ وَسلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَ اٰلہٖ وَسلَّم کو سیاہ رنگ کا عمامہ شریف باندھا اور اس کا ایک سِرا (شملہ) آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَ اٰلہٖ وَسلَّم کی پشتِ اطہر پر لٹکا دیا۔

(الآثار، باب الصید، ص ۱۲۸، حدیث : ۵۸۸)

       اِمَامُ المُحَدِّثِین حضرت سیّدنا امامِ اعظم ابوحَنِیفَہ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنہ حضرت سیّدنا عبد اللّٰہ  ابن عمر رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنہُما سے روایت فرماتے ہیں کہ رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَ اٰلہٖ وَسلَّم فتحِ مکہ کے دن اپنی خاکستری مائل بسیاہی رنگ اونٹنی ’’قَصوَا‘‘ پر سوار تھے اور آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَ اٰلہٖ وَسلَّم نے اونٹ کے بالوں (سے تیار شدہ کپڑے) کا عمامہ شریف باندھ رکھا تھا۔  

(مسند ابی حنیفۃ مع شرحہ، عمامۃ سوداء ، ص ۲۳۲)

رسول  اللّٰہ  کا آخری خطبہ بھی باعمامہ

       حضرت سیّدنا عبد اللّٰہ  بن عباس رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہُما فرماتے ہیں :  رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم منبر شریف پر جلوہ افروز ہوئے ، (اس کے بعد آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم منبر شریف پر رونق افروز نہ ہوئے) یہ وہ آخری مجلس مبارک تھی جس میں آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جلوہ فرما ہوئے تھے۔  آپ نے اس وقت ایک بڑی چادر اپنے مبارک کندھوں پر ڈال رکھی تھی اور سرِ اقدس پر چکنی پٹی یا سیاہ رنگ کا عمامہ شریف سجا رکھا تھا۔  آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ کی حمدوثنا بیان کی پھر فرمایا : ’’بے شک لوگوں کی تعداد دن بدن بڑھتی رہے گی اور انصار کم ہوتے رہیں گے حتی کہ کھانے میں نمک کے برابر رہ جائیں گے۔  پس تم میں سے جس کو ایسی حکومت ملے کہ وہ کسی کو نفع یا نقصان پہنچا سکتاہو تو اسے چاہئے کہ انصار کے اچھے لوگوں کی قدر کرے اور ان کے دوسروں کی کوتاہیوں سے درگزر کرے۔ ‘‘ (بخاری ، کتاب المناقب ، باب علامات النبوۃ فی الاسلام، ۲/ ۵۰۸، حدیث : ۳۵۲۸)

       حضرت سیّدنا جابر بن عبد اللّٰہ  رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنہ فرماتے ہیں :  رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَ اٰلہٖ وَسلَّم فتحِ مکہ کے روز سیاہ عمامہ باندھے (مکہ شریف میں ) داخل ہوئے۔  (مسلم، کتاب الحج ، باب جواز دخول مکۃ بغیر احرام، ص ۷۰۸، حدیث : ۱۳۵۸، الشمائل المحمدیہ ، باب ماجاء فی عمامۃ رسول  اللّٰہ ، ص۸۲، حدیث :  ۱۰۷)

فتح مکہ کے دن سیاہ عمامہ کی حکمت

       شارحِ بخاری امام احمد بن محمد قَسطَلانی عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی اس حدیث کے تحت نقل فرماتے ہیں :  (فتحِ مکہ کے دن) سیاہ عمامہ شریف سجانے میں راز یہ تھا کہ   

 اس (سیاہ عمامے ) میں اشارہ ہے کہ یہ دین تبدیل ہونے والا نہیں ہے جیسا کہ سیاہ رنگ تبدیل نہیں ہوتا جبکہ دوسرے رنگ (کہ وہ جلدی )بدل جاتے ہیں ۔  (حاشیۃ القسطلانی علی الشمائل ، باب ما جاء فی عمامۃ رسول  اللّٰہ ، ص ۲۲۱، مخطوط مصور)

       حضرت سیّدنا جابر بن عبد  اللّٰہ  رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنہ فرماتے ہیں :  غزوۂ خندق کے روز نبیٔ اکرم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَ اٰلہٖ وَسلَّم کا عمامہ مبارک سیاہ رنگ کا تھا۔  (شعب الایمان ، باب فی الملابس الخ ، فصل فی العمائم، ۵/ ۱۷۳، حدیث : ۶۲۴۷)

       حضرت سیّدنا جابر رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنہ فرماتے ہیں :  نبیٔ پاک صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا ایک سیاہ عمامہ شریف تھا یَلبَسُہَا فِی العِیدَینِ وَ یُرخِیہَا خَلفَہ یعنی :  جسے آپ عیدین پر پہنا کرتے اور شملہ پیچھے لٹکایا کرتے تھے۔  (الکامل فی ضعفاء الرجال ، من اسمہ محمد ، محمد بن عبید اللّٰہ  الخ، ۷/ ۲۴۹)

سرکار عَلَیْہِ السَّلام اور حضرت عباس کے سیاہ عمامے

        حضرت سیّدنا ابراہیم رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :  فتحِ مکہ کے دن نبیٔ کریم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور حضرت سیّدنا عباس بن عبدالمطلب رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ تحنیک (یعنی ٹھوڑی کے نیچے شملہ گھمائے)  بغیر اپنے سر پر سیاہ عمامہ باندھے ہوئے تھے۔  اس وقت بیت  اللّٰہ  شریف کے اِردگرد بت تھے، جب نبیٔ کریم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان بتوں کو توڑنا شروع کیا تو (حضرت سیّدنا  عباس رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ سے) فرماتے :  ’’اے ابا جان ! جلدی کیجئے ‘‘ اور حضرت سیّدنا عباس رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ (نبیٔ کریم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے) کہتے :  ’’اے میرے پیارے بیٹے! جلدی کیجئے۔  ‘‘نبیٔ کریم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :  جس نے مجھے اور میرے چچا کو دیکھا تحقیق اس نے حضرت سیّدنا ابراہیم و اسماعیل عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیہِمَا الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام کو بَیتُ  اللّٰہ  کی بنیادیں اٹھاتے دیکھا۔  (الشریعۃ للآجری، کتاب



Total Pages: 101

Go To