Book Name:Imamay kay Fazail

چادر اوڑھ کر عمامہ باندھ کر فتویٰ دیا یعنی اِفتا کی عظمت کا لحاظ کیا جائے گا (فتاوی ھندیۃ، کتاب ادب القاضی، الباب الاول فی تفسیر معنی الادب الخ، ۳/ ۳۱۰) اس زمانہ میں کہ علمِ دین کی عظمت لوگوں کے دلوں میں بہت کم باقی ہے اہلِ علم کو اس قسم کی باتوں کی طرف توجہ کی بہت ضرورت ہے جن سے علم کی عظمت پیدا ہو اس طرح ہرگز تواضع نہ کی جائے کہ علم و اہلِ علم کی وَقعَت میں کمی پیدا ہو۔  سب سے بڑھ کر جو چیز تجربہ سے ثابت ہوئی وہ اِحتِیاج (محتاجی) ہے جب اہلِ دنیا کو یہ پتہ چلا کہ ان کو ہماری طرف اِحتِیاج ہے وَہیں وَقعَت کا خاتمہ ہے۔  (بہارِ شریعت، ۲/ ۹۱۲)

سیّدنا امامِ شافعی کا بڑا عمامہ

        حضرتِ سیّدنا محمد بن حسن زعفرانی عَلَیْہ َرحْمَۃُ  اللّٰہ  الْقَوِی فرماتے ہیں :  حضرتِ سیّدنا امام شافعی عَلَیْہ َرحْمَۃُ  اللّٰہ  الْغَنِی بڑا عمامہ شریف باندھا کرتے تھے ، جس سے آ پ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ عرب شریف کے اَعرابی معلوم ہوتے۔  (الانتقاء فی فضائل الثلاثۃ الآئمۃ الفقہاء ، باب فی فصاحتہ واتساعہ الخ، ص۱۴۸)

سیّدنا امام بخاری کا عمامہ

       اَمِیرُ المُؤمِنِین فِی الْحَدِیث حضرت سیّدنا امام ابوعبد اللّٰہ  محمد بن اسماعیل بخاری علَیْہ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  البَارِی نے وصالِ مبارک سے قبل جب سَمرقَند جانے کا ارادہ فرمایا تو عمامہ شریف باندھا اور موزے پہنے۔  (ہدی الساری مقدمہ فتح الباری ، الفصل العاشر ، ذکر رجوعہ الی بخاری الخ ، ۱/ ۴۶۵)

سیّدنا امام مسلم کا عمامہ

        حضرت سیّدنا امام مسلم بن حَجّاج قُشَیری علَیْہ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی  عمامہ شریف باندھتے اور اس کا شملہ دونوں کندھوں کے درمیان لٹکایا کرتے تھے۔

(تہذیب التہذیب، حرف المیم، من اسمہ مسلم، ۸/ ۱۵۱)

   

بارگاہِ الٰہی کی رعایت

        عالمِ جلیل، فاضلِ نبیل، حضرتِ علامہ مولانا یوسف بن حسین کرماسنی عَلَیْہِ َرحْمَۃُ  اللّٰہ  الْقَوِی جو اپنے زمانے کے بہت بڑے عالم تھے، کئی سالوں کی تدریس کا تجربہ رکھتے تھے، مُملکتِ رُوم اور قُسْطُنْطُنِیَہ میں قاضی (چیف جسٹس/جج) کے منصب پر فائز رہ چکے تھے، جن کے فیصلوں کوان کی خوبیوں کے سبب بڑا پسند کیا جاتا تھا اور وہ حق کی تلواروں میں سے ایک تلوار تھے جو اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ کے معا ملے میں کسی کا لحاظ نہیں کرتے تھے (یعنی ہر حال میں حق بات کیا کرتے تھے) ایسی اَرْفع و اَعلیٰ شان رکھنے والے بزرگ ایک روز چھوٹا سا عمامہ شریف باندھ کر مسجد تشریف لے گئے۔  جب نماز سے فراغت کے بعد باہر تشریف لائے تو اس وقت کے وزیر ابراہیم پاشا نے آپ  رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ کو کسی کام کے لیے طلب کیا۔ آپ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ نے مسجد کے مقابلے میں وزیر کو ترجیح (یعنی زیادہ عزت )دینے کے خوف سے عمامہ شریف تبدیل کیے بغیراسی حالت میں تشریف لے گئے۔  جب وزیر نے آپ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ کو اس حالت میں دیکھا تو اس کی وجہ دریافت کی۔  آپ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ نے اس کا ایمان افروز جواب کچھ یوں ارشاد فرمایا :  میں یہ بات ہرگز گوارا نہیں کر سکتا کہ وزیرکے پاس جانے کے لئے اس حالت کو ترک کروں جس کو میں نے  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ کے لئے اِختیار کیا۔  یہ بات سن کر

وزیر حیران   رہ گیا اور متأثر ہو کر آپ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ کی بات کی تحسین و تعریف کرتے ہوئے مقامِ عزت بخشا۔  (الشقائق النعمانیۃ، ۱/ ۱۲۷)

عمامہ شریف کے رنگ

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! چونکہ احادیثِ مبارکہ میں عمامہ شریف کے مختلف رنگوں کا ذکر ہے اس لیے کسی بھی رنگ کا عمامہ باندھنے سے سنّتِ عمامہ ادا ہو جائے گی۔  ہمارے پیارے پیارے آقا ، مدینے والے مصطفی صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَ اٰلہٖ وَ سَلَّم، صحابۂ کرام عَلَیہِمُ الرِّضوَان اور تابعینِ عُظّام نیز اولیائے کرام رَحِمَہُمُ  اللّٰہ  السَّلام سے مختلف رنگوں کے عمامے باندھنا ثابت ہے، ان تمام ہستیوں میں سے کوئی سیاہ، کوئی سفید و سبز تو کوئی زعفرانی رنگ کا عمامہ شریف باندھا کرتے تھے۔  عمامہ شریف کے فضائل میں وارِد اَحادِیث مُطلَق ہیں یعنی ان میں کسی فضیلت کو کسی خاص رنگ کے ساتھ مُقَیَّد نہیں کیا کہ فلاں رنگ کا عمامہ باندھو گے تو ہی یہ فضیلت حاصل ہو گی۔  نیز علماء و فقہاء کرام رَحِمَہُمُ  اللّٰہ  السَّلام نے بھی سنتِ عمامہ کی ادائیگی کو کسی خاص رنگ میں مُنحَصِر نہیں کیا۔  لہٰذا کسی بھی رنگ کا عمامہ باندھنے سے سنّتِ عمامہ ادا ہو جائے گی اور عمامہ باندھنے والا احادیث میں ذکر کردہ فضائل کا مستحق قرار پائے گا۔  اس باب میں کہیں آقائے نامدار صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَ اٰلہٖ وَ سَلَّم کے عمامۂ نور بار کے رنگوں کا ذکرِ خوشبودار ہے تو کہیں صحابۂ کرام عَلَیہِمُ الرِّضوَان اور تابعینِ عُظّام نیز اولیائے کرام رَحِمَہُمُ  اللّٰہ  السَّلام کے عمائمِ خوشبودار کے رنگوں کا تذکرۂ پُراَنوار ہے۔  سب سے پہلے نبیٔ کریم ، رء وف رحیم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَ اٰلہٖ وَ سَلَّم کے عمامہ شریف کے رنگ کا مبارک بیان ہے :  

رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے عمامہ شریف کے رنگ

       سرکارِ ابد قرار، شافعِ روزِ شمار صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَ اٰلہٖ وَ سَلَّم مختلف اوقات میں مختلف رنگوں کے عمامے زیبِ سر فرمایا کرتے تھے۔  جن میں سے کچھ کا ذکر کتب احادیث و سیر میں موجود ہے چنانچہ

        شیخ الحدیث ، خلیفۂ مفتیٔ اعظم ہند حضرت علامہ مولانا عبد المصطفٰی اعظمی عَلَیْہ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  الْقَوِی نقل فرماتے ہیں :  رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَ اٰلہٖ وَ سَلَّم کا عمامہ سفید، سبز، زعفرانی، سیاہ رنگ کا تھا۔  (سیرتِ مصطفی، ص ۵۸۱)

                        خطیبِ پاکستان ، واعِظِ شیریں بیان ، عاشقِ سلطانِ دوجہان، مُحِبِّ اہلبیت و صَحابۂ ذیشان، جان نثارِ اولیاء ُالرَّحمن حضرت علامہ مولانا الحافظ شاہ محمد شفیع اوکاڑوی عَلیْہِ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  الْقَوِی فرماتے ہیں :  (حضور پُرنُور صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ) عمامہ شریف اکثر سفید ، کبھی سیاہ اور کبھی سبز بھی استعمال فرمایا ہے۔  (ذکرِ جمیل، ص ۴۰۷)

                        خَاتَمُ المَحَدِّثِین حضرت علامہ شیخ عبدالحق محدّث دہلوی عَلَیہ رَحْمَۃ  اللّٰہ  الْقَوِی فرماتے ہیں :  ’’دستار مبارک آنحضرت صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَ اٰلہٖ وَ سَلَّم اکثر اوقات سفید بود گاہے دستار سیاہ



Total Pages: 101

Go To