Book Name:Imamay kay Fazail

سے دُرُود شریف پڑھنے والا۔  ‘‘(تسدید القوس اختصار مسندالفردوس، ص ۱۶۳مخطوط مصور، البدور السافرۃ فی امور الاخرۃ ، باب الاعمال الموجبۃ لظل العرش الخ، ص۱۳۱، حدیث : ۳۶۶)

سنّت پر عمل کی برکت سے مغفرت ہوگئی

        حضرت سیِّدُنا امام ابوعبد اللّٰہ  شمس الدین محمدبن احمد ذَہبیعَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی نقل فرماتے ہیں :  حضرت سیِّدُنا علی بن حسین بن جَدَّاء عُکْبَری عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی نے حضرت سیِّدُنا ہِبَۃُ  اللّٰہ  طَبَری عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی کو خو اب میں دیکھ کر پوچھا : ’’ مَا فَعَلَ  اللّٰہ  بِکَیعنی  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ نے آپ کے ساتھ کیامعاملہ فرمایا؟‘‘ جواب دیا : ’’ اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ نے میری مغفرت فرمادی ۔ ‘‘عرض کی :  ’’کس سبب سے؟‘‘ تو انھوں نے راز دارانہ انداز میں کہا :  ’’سنّت پر عمل کی برکت سے۔ ‘‘ (سیراعلام النبلاء، اللالکائی(ہبۃ اﷲ بن الحسن) ، ۱۳/ ۲۶۹، رقم : ۳۷۸۸)

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے سنّت پر عمل کرنا مغفرت کا ذریعہ بن گیا۔  یقیناً کامیاب و کامران وہی ہے کہ جوفرائض وواجبات کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ نبیٔ کریم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی سنّتوں کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لے کیونکہ فلاحِ دارین کا جو وظیفہ سرکار صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اپنی امت کو خاص طور پر عطا فرمایا وہ یہ ہے کہ فتنوں کے زمانے میں سنّت کو مضبوطی سے تھام لیں چنانچہ

سنت کو مضبوطی سے تھام لو

       حضرت سیّدنا عِرباض بن سارِیہ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :  میرے بعد تم میں سے جو زندہ رہے گا وہ امت میں کثیر اختلافات دیکھے گا ایسے حالات میں تم پر لازم ہے کہ میری سنّت اور خلفاء راشدین کے طریقے کو مضبوطی سے تھام لو ۔  (ابوداؤد، کتاب السنۃ ، باب فی لزوم السنۃ، ۴/ ۲۶۷، حدیث : ۴۶۰۷، ملتقطًا)

سنّت کی اہمیت

         ایک مسلمان اور سرکارِ دوعالم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے سچے غلام ہونے کے ناطے لازم ہے کہ ہم اپنے نبی صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی سنّتوں پر مضبوطی سے عمل پیرا ہو ں اور آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی پیاری پیاری سنّتوں کو عمل کے ذریعے خوب عام کریں ، کیونکہ آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے طریقوں پر عمل کرنا ہی ہمارے لئے ترقیٔ درجات کا زینہ ہے جیسا کہ قرآنِ مجید میں ارشادِ خداوندی ہے :  

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ

ترجمۂ کنزالایمان :  بے شک تمہیں رسول  اللّٰہ  کی پیروی بہتر ہے۔  (پ۲۱، الاحزاب :  ۲۱)

        حضرتِ صَدرُ ا لْافاضِل سیِّد محمد نعیم الدین مُراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  الہَادِی ’’ خَزائنُ العرفان ‘‘ میں اس آیت کے تحت فرماتے ہیں :  ان کی اچھی طرح اِتّباع کرو اور دینِ الٰہی کی مدد کرو اور رسولِ کریم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا ساتھ نہ چھوڑو اور مصائب پر صبر کرو اور رسولِ کریم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی سنّتوں پر چلو یہ بہتر ہے۔  (خزائن العرفان، پ۲۱، الاحزاب :  ۲۱، ص۷۷۷)

        مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضرت مفتی احمد یار خان   عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنّان  ’’نورُالعرفان‘‘ میں اسی آیت کے تحت فرماتے ہیں :  معلوم ہوا کہ حضور (صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کی زندگی شریف سارے انسانوں کے لیے نمونہ ہے جس میں زندگی کا کوئی شعبہ باقی نہیں رہتا اور یہ بھی مطلب ہو سکتا ہے کہ رب ( تَعَالٰی  ) نے حضور (صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) کی زندگی شریف کو اپنی قدرت کا نمونہ بنایا۔  کاریگر نمونہ پر اپنا سارا زورِ صَنعَت صرف کر دیتا ہے ۔  معلوم ہوا کہ کامیاب زندگی وہی ہے جو ان کے نقشِ قدم پر ہو ، اگر ہمارا جینا ، مرنا ، سونا ، جاگنا حضور (صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) کے نقشِ قدم پر ہو جائے تو یہ سارے کام عبادت بن جائیں ۔   نمونے میں پانچ چیزیں ہوتی ہیں ۔  نمبر(۱) اسے ہر طرح مکمل بنایا جاتا ہے ، نمبر (۲) اس کو بیرونی غبار سے پاک رکھا جاتا ہے ، نمبر (۳)اس کوچھپایا نہیں جاتا ، نمبر (۴) اس کی تعریف کرنے والے سے صَانِع (یعنی بنانے والا) خوش ہوتا ہے ، نمبر(۵) اس میں عیب نکالنے پر ناراض ہوتا ہے ۔  نبیٔ اکرم (صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) میں یہ پانچ باتیں موجود ہیں ۔

 (نور العرفان، پ۲۱، الاحزاب، تحت الآیۃ : ۲۱، ص۶۷۱)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !     صَلَّی  اللّٰہ  تعالٰی عَلٰی محمَّد

نجات تین چیزوں میں ہے

        حضرت سیّدنا امام ابوعبد  اللّٰہ  محمد بن احمد قُرطبی عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی نقل فرماتے ہیں کہ حضرت سیّدنا سہل بن عبد اللّٰہ  رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ نے فرمایا :  اَلنَّجَاۃُ فِی ثَلَاثَۃٍ یعنی :  نجات تین چیزوں میں ہے۔  (۱)اَکْلُ الْحَلَالِ، حلال کھانے، (۲)وَاَ دَائُ الْفَرَائِضِ، فرائض کی ادائیگی (۳)وَالْاِقْتِدَاءُ بِالنَّبِی صَلَّی  اللّٰہ  عَلَیْہِ وَسَلَّم اور نبیٔ کریم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اتباع اور پیروی کرنے میں ۔  (تفسیرقرطبی، البقرۃ ، تحت الٓایۃ : ۱۶۸، الجز الثانی، ۱/ ۱۵۹)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !       صَلَّی  اللّٰہ  تعالٰی عَلٰی محمَّد

سنّت سے محبت کا انعام

        حضرت سیّدنا اَنَس بن مالک رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :  مجھ سے رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : اے میرے بیٹے !اگر تو یہ کرسکتا ہے کہ اس حال میں صبح و شام کرے کہ تیرے دل میں کسی کی بد خواہی (کینہ) نہ ہو تو ایسا ہی کر۔  پھر فرمایا :  اے میرے بیٹے ! یہ میری سنّت ہے اورجو میری سنّت سے محبت کرے گاوہ جنت میں میرے ساتھ ہو گا۔

 (مشکوٰۃ المصابیح، کتاب الایمان، باب الاعتصام بالکتاب و السنۃ، الفصل الثانی، ۱/ ۵۵، حدیث : ۱۷۵)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !          صَلَّی  اللّٰہ  تعالٰی عَلٰی محمَّد

سنتیں زندہ کرنے والے خوش نصیب ہیں

 



Total Pages: 101

Go To