Book Name:Imamay kay Fazail

        حضرت سیّدنا ہشام رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں میں نے واسط (عراق) کی جامع مسجد میں (کثرت سے تلاوت کرنے والے تابعی بزرگ) حضرت سیّدنا منصور بن زَاذان رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ کے قریب کھڑے ہو کر جمعہ کے دن نماز ادا کی تو آپ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ نے نماز میں دو مرتبہ مکمل قراٰن پاک اورتین مرتبہ َطوّاسِین (ایسی سورتیں جن کی ابتداء ـــــطس یا طسم سے ہوتی ہے ایسی سورتوں کے مجموعے کو َطوّاسِین کہا جاتا ہے۔ ) کی تلاوت فرمائی، آپ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ نے بارہ ہاتھ لمبا عمامہ شریف باندھ رکھا تھا۔  جب وہ عمامہ آپ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ کے خوفِ خدا عَزَّوَجَلَّ کے سبب بہنے والے آنسؤوں سے بھیگ گیاتو آپ نے اسے اپنے سامنے رکھ لیا۔  (حلیۃ الاولیاء، منصور بن زاذان، ۳/ ۶۷، رقم : ۳۱۹۱)

سیّدنا عمر بن عبدالعزیزکا عید کے دن عمامہ

        حضرت سیدنازید رَحمۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیدنا عمر بن عبد العزیز رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ  عید کے دن سواری پر تشریف لائے پھر آپ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ  اپنے مُصاحِبوں کے ہمراہ سواری سے اترے اور اس شان سے چلنے لگے کہ آپ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ نے سفید اونی جُبّہ، یمنی پاجامہ کے ساتھ زیبِ تن فرمارکھا تھا، سر پر موٹے شامی کپڑے کا عمامہ شریف سجایا ہوا تھا اور بغیر نقش ونگار والے(یعنی سادے) موزے پہن رکھے تھے۔  (حلیۃ الاولیائ، عمر بن عبد العزیز، ۵/ ۳۳۰، رقم : ۷۲۸۹)

سیّدُ القَوْمِ خَادِمُہُم کا عَمَلِی نمونہ

        حضرتِ سیّدنا عَمرو بن میمون رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :  میں سلیمان بن عبد الملک (بنو امیّہ کی حکومت کے ایک خلیفہ) کے پاس ریشم کا ایک ٹکڑا لایا۔  تو ان کے پاس امیر المؤمنین حضرت سیّدنا عمر بن عبد العزیز رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ بھی  موجود تھے۔ جو اس وقت بڑے صحت منداوربھاری بھرکم تھے۔  پھر میں آپ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کو خلافت ملنے کے ایک سال بعد آپکی بارگاہ میں حاضر ہوا۔  تو آپ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ ہمیں نمازِ ظہر پڑھانے اپنے کاشانۂ اقدس سے باہر تشریف لائے، تو میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ آپ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کے مبارک بدن پر (شاہی لباس کے بجائے)کم و بیش ایک دینار کا معمولی کُرتا اور ایک رومال ہے اور سرِانور پر عمامہ شریف ہے جسکا شملہ آپ نے دونوں کندھوں کے درمیان لٹکا رکھا ہے اور بارِ خلافت کے سبب آپ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کمزور اور لا غر ہو چکے تھے۔

  (طبقات ابن سعد ، عمر بن عبدالعزیز، ۵/ ۳۱۴)

آئمہ و محدثینِ کرام کے عمامے

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! عمامہ شریف نبیٔ اکرم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور صحابۂ کرام عَلَیْھِم الرِّضْوان کی سنّت ہے اور آئمہ و محدثینِ کرام ان کے سچے پیروکار تھے اس لئے یہ حضراتِ ذی وقار بھی عمامہ مبارک کی سنّت کو حرزِ جاں بنائے رکھتے (بہت عزیز رکھتے ) تھے ، ان ہی آئمہ و محدثین میں سے چند کے مبارک عماموں کا ذکر یہاں کیا جاتا ہے چنانچہ     

سیّدنا امامِ اعظم کا قیمتی عمامہ و لباس

        مُفَسِّرِ قرآن ، حضرت علامہ اسماعیل حَقِّی حَنَفِی عَلَیہ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی نقل فرماتے ہیں کہ حضرت سیّدنا امامِ اعظم ابو حنیفہ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ نے رات کی نماز کے لیے ایک قیمتی لباس سلوا رکھا تھا جس میں قمیص ، عمامہ ، چادر اور شلوار تھی اس کی قیمت پندرہ سو درہم تھی ۔  آپ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنہ اسے روزانہ رات کے وقت زیبِ تن فرماتے اور ارشاد فرماتے :  اَلتَّزَیُّنُ لِلّٰہِ تَعَالٰی اَوْلٰی مِنَ التَّزَیُّنِ لِلنَّاسِ یعنی  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ کے لیے زینت اختیار کرنا لوگوں کے لیے زینت اختیار کرنے سے بہتر ہے۔   (تفسیرروح البیان ، پ ۸، الاعراف، تحت الآیۃ :  ۳۱، ۳/ ۱۵۴)

امامِ مالک اور باعمامہ محدثین

        حضرت سیّدنا ابنِ وہب عَلَیہِ رَحمَۃُ الرَّب فرماتے ہیں مجھے حضرت سیّدنا امام مالک عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  الخَالِق نے بتایا کہ میں حضرت سیّدنا یحییٰ بن سعید، سیّدنا ربیعہ اور ابن ہُرمُز رَحِمَہُمُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیھِم اَجمَعِین جیسے جتنے بھی اہلِ علم و فضل سے ملا وہ سبھی عمامے باندھا کرتے تھے ۔  ایک بار میں حضرت سیّدنا ربیعہ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ کی مجلس میں موجود تھا جس میں اکتیس مرد تھے ان سب نے عمامے باندھ رکھے تھے اور میں بھی انہی (عمامہ باندھنے والوں ) میں سے تھا۔  حضرت سیّدنا امام مالک عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  الخَالِق فرماتے ہیں کہ حضرت سیّدنا ربیع رَحمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ ثُرَیَّا ستاروں کے طلوع ہونے تک عمامہ باندھے رکھتے تھے اور فرماتے :  ’’عمامہ باندھنے سے عقل میں اضافہ ہوتا ہے۔ ‘‘ (شرح البخاری لابن بطال، کتاب اللباس، باب العمائم، ۹/۸۹ ملخصاً)

امام مالک عمامہ باندھ کر حدیث بیان فرماتے

        حضرت سیّدنا امام مالک عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  الخَالِق احادیث مبارکہ کا بے حد ادب و احترام فرماتے ، حدیث پاک بیان فرمانے سے پہلے غسل و خوشبو کا اِلتزام فرماتے ، عمامہ شریف سجاتے پھر لوگوں کے قُلُوب و اَذہان کو فرامینِ مصطفی صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَ اٰلہٖ وَ سَلَّم سنا کر گرماتے چنانچہ

       میرے آقا  اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلسنّت ، مُجَدِّدِ دین و ملت شاہ احمد رضا خان عَلَیہ رَحمَۃُ الرَّحمٰن نقل فرماتے ہیں :  (حضرت سیّدنا) مُطَرِّفْ نے کہا جب لوگ (حضرت سیّدنا)  مالک بن اَنَس (رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ ) کے پاس علم حاصل کرنے آتے، ایک کنیز آ کر پوچھتی :  شیخ تم سے فرماتے ہیں حدیث سیکھنے آئے ہو یافقہ و مسائل؟ اگر انہوں نے جواب دیا فقہ ومسائل، جب توآپ تشریف لاتے اور اگر کہا کہ حدیث، توپہلے غسل فرماتے، خوشبولگاتے، نئے کپڑے پہنتے، طیلسان  اوڑھتے اور عمامہ باندھتے چادر سر مبارک پر رکھتے ان کے لئے ایک تخت مثلِ تختِ عُرُوس بچھایا جاتا اس وقت باہرتشریف لاتے اور نہایت خُشُوع سے اس پر جُلُوس فرماتے اور جب تک حدیث بیان کرتے تھے اگربتی سُلگاتے اور اس تخت پر اسی وقت بیٹھتے تھے جب نبی صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَ اٰلہٖ وَ سَلَّم کی حدیث بیان کرنا ہوتی۔  حضرت سے اس کا سبب پوچھا، فرمایا :  میں دوست رکھتاہوں کہ حدیثِ رسول صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَ اٰلہٖ وَ سَلَّم کی تعظیم کروں اور میں حدیث بیان نہیں کرتا جب تک وضو کر کے خوب سکون و وقار کے ساتھ نہ بیٹھوں ۔  (الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی ، القسم الثانی ، الباب الثالث، ۲/ ۴۵ ، فتاویٰ رضویہ، ۲۶/ ۵۴۷)

افتاء کی عظمت امام ابویوسف کی نظر میں

        صدرالشریعہ ، بدرالطریقہ حضرت علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلیْہ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  الْقَوِی نقل فرماتے ہیں :  (حضرت سیّدنا) امام ابویوسف رَحِمَہُ  اللّٰہ  تَعَالٰی سے فتویٰ پوچھا گیا وہ سیدھے بیٹھ گئے اور



Total Pages: 101

Go To