Book Name:Imamay kay Fazail

       حضرت سیّدنا طارق بن شہاب عَلیْہ رَحْمَۃُ اللّٰہ  الوَھَّاب سے مروی ہے کہ جب امیرالمؤمنین حضرت سیّدنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ ملک شام تشریف لائے تو راستے میں ایک اسلامی لشکر کی آپ سے ملاقات ہوئی ، اس وقت آپ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ سر پر عمامہ شریف سجائے ، موزے او ر ازار (تہبند) پہنے ہوئے تھے اور اپنی سواری کی لگام تھامے ہوئے پانی میں اتر گئے( آپ کی اس حالت کو دیکھ کر ) لشکر والوں نے آپ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ سے عرض کیا :  اے امیر المؤمنین! یہاں کئی لشکر اور ملکِ شام کے جرنیل آپ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ سے ملاقات کریں گے اور آپ اس حالت میں ہیں تو حضرت سیّدنا عمر فاروق رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’بیشک  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ نے ہمیں اسلام کے ذریعے عزت عطا فرمائی ہے لہٰذا کوئی بھی اسلام کے علاوہ میں ہرگز عزّت تلاش نہ کرے۔ ‘‘

(المنھاج فی شعب الایمان ، الحادی و السبعون من شعب الایمان ، باب فی الزھد الخ، ۳/ ۳۸۷)  

(3) سیّدنا علی المرتضٰی کا عمامہ

       حضرت سیّدنا ابُولَبِید رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :  میں نے حضرت سیّدنا علی المرتضیٰ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کو دیکھا آپ اپنے خچر پر سوار ہو کر ایک کھیت کے پاس آئے ۔  اس وقت آپ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ تہبند اور ایک چادر زیبِ تن کیے ہوئے تھے اور سر پر عمامہ شریف سجایا ہوا تھا اور موزے پہن رکھے تھے۔  میں نے دیکھا کہ آپ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ نے پیشاب کیا پھر وضو فرمایا اور سر سے عمامہ شریف اتارا۔  میں نے دیکھا کہ آپ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کا سر مبارک میری ہتھیلی کی طرح ہے اور بال مبارک انگلیوں کی لکیروں کی طرح ہیں ۔  پھر آپ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے سر اور موزوں پر مسح فرمایا۔  

(مصنف ابن ابی شیبہ ، کتاب الطھارۃ ، باب من کان لایری المسح علیھاویمسح علی راسہ ، ۱/ ۳۱۵، حدیث : ۲۳۳)

(4)سیّدنا امامِ حسین کا عمامہ

        حضرت امام سُدِّی عَلیْہ رَحْمَۃُ اللّٰہ  الْقَوِی فرماتے ہیں میں نے حضرت سیّدنا امام حسین بن علی رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنہُما کی زیارت کی تو دیکھا کہ آپ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنہ نے ریشم ملا اونی عمامہ شریف باندھا ہوا تھا اور عمامے کے نیچے سے آپ کے کچھ مبارک بال نکلے ہوئے تھے۔  (مجمع الزوائد، کتاب اللباس، باب استعمال الحریر لعلۃ، ۵/ ۲۵۶، حدیث : ۸۶۷۱)     

(5)سیّدنا بلالِ حبشی کا عمامہ

       حضرت امام ابوعبد اللّٰہ  محمد بن عمر واقدی عَلیْہ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  الْقَوِی نقل فرماتے ہیں :  مُؤذِّنِ رسول حضرت سیّدنا بلال حبشی رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ نے معرکۂ فلسطین کے موقع پر اُونی عمامہ شریف باندھ رکھا تھا۔  (فتوح الشام، المعارک فی فلسطین، ۲/۱۷)

(6)سیّدناابو درداء کا عمامہ

        حضرتِ سیّدنا ابو درداء رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ ٹوپی پر عمامہ شریف باندھا کرتے تھے، جس کا شملہ دونوں کندھوں کے درمیان ہوتا۔  (اسدالغابہ، باب العین والواو، عویمر بن عامر، ۴/ ۳۴۱، رقم : ۴۱۳۶)

(7)باعمامہ انصار صحابۂ کرام

        حضرت سیّدنا رِیاح بن حارِث نَخْعِی رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :   ایک روز ہم حضرت سیّدنا علی المرتضی شیرِ خُدا کَرَّمَ  اللّٰہ  تَعَالٰی وَجہَہُ الکَرِیم کی صحبتِ بابرَکت میں حاضر تھے کہ اِسی دوران انصار صحابۂ کرام عَلَیْھِم الرِّضْوان کا ایک گروہ سروں پر عمامے شریف کے تاج سجائے آپ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کی خدمتِ اَقدَس میں حاضر ہوا اور ان الفاظ کے ساتھ سلام عرض کیا ’’السَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَوْلَانَا‘‘ اے ہمارے آقا و مولا آپ پر سلام ہو۔  یہ سن کر حضرت سیّدنا علی المرتضیٰ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ نے تعجب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا :  میں تمہارا مَولیٰ ہوں اور تم لوگ عربی قوم سے ہو؟ انہوں نے عرض کی جی ہاں ہم لوگ عربی ہیں اور ہم نے نبیٔ اکرم، نورِ مُجَسّم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے آپ کی بابت یہ ارشاد سنا ہے :  ’’مَنْ کُنْتُ مَوْلَاہُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاہُ  اللّٰہ مَّ وَالِ مَنْ وَالَاہُ وَعَادِ مَنْ عَادَاہُ‘‘ یعنی جس کا میں مَولیٰ ہوں تو علی بھی اس کے مَولیٰ ہیں ۔  الٰہی جو ان سے محبت کرے تو اس سے محبت فرما اور جوان سے دشمنی کرے تو اس سے دشمنی فرما۔  (پھر اس کے بعد انہوں نے کہا)اور یہ ہمارے درمیان میزبانِ رسول حضرتِ سیّدنا ابوایوب انصاری رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ موجود ہیں ۔  یہ سن کر آپ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے چہرۂ مبارک سے عمامے شریف کا نقاب ہٹاتے ہوئے فرمایا :  میں نے رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ فرماتے سنا ہے :  ’’مَنْ کُنْتُ مَوْلَاہُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاہُ،  اللّٰہ مَّ وَالِ مَنْ وَالَاہُ وَعَادِ مَنْ عَادَاہُ‘‘ (ترجمہ اوپر گزر چکا ہے۔ ) (معجم کبیر، ریاح بن الحارث عن ابی ایوب، ۴/ ۱۷۳، حدیث : ۴۰۵۳)

(8)چار باعمامہ صحابۂ کرام

        حضرت سیّدنا مسلم بن زِیاد عَلیْہ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  الوَھَّاب فرماتے ہیں :  میں نے رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے چار اصحاب حضرت سیّدنا اَنَس بن مالک، حضرت سیّدنا فَضَالہ بن عُبَید، حضرت سیّدنا اَبُوالمُنِیب اور حضرت سیّدنا فَرُّوخ بن سَیَّار یا سَیَّار بن فَرُّوخ رِضوَانُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہِمْ اَجْمَعِیْن کو دیکھا ہے وہ حضرات اپنے عمامے شریف کے شملے پیچھے کی جانب لٹکاتے تھے۔  

(شعب الایمان ، باب فی الملابس والاوانی، فصل فی العمائم، ۵/ ۱۷۶، حدیث : ۶۲۶۴مختصراً)

(9)چار ہزار باعمامہ اصحاب

        حضرت سیّدنا اَصبَغ بِن نُباتَہ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں :  میں نے حضرت سیّدنا علی المرتضیٰ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کو عید کے دن عمامہ شریف سجائے ایک مقام سے نکلتے دیکھا آپ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کے ہمراہ چار ہزار ایسے لوگ بھی تھے جن سب نے عمامے شریف سجا رکھے تھے۔  (السنن الکبری للبیہقی، کتاب صلوۃ العیدین ، باب الزینۃ للعید، ۳/  ۳۹۸، حدیث : ۶۱۴۲)

تابعینِ عُظّام کے عمامے

       میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! تابعینِ عُظّام  نبیٔ اکرم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے سچے عاشق اور ان کی اتباع کرنے والے تھے۔  اسی لئے بے شمار صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے عمائمِ مبارکہ کے ساتھ ساتھ تابعینِ عُظّام کے عماموں کا ذکربھی ملتا ہے چنانچہ

منصور بن زاذان کا عمامہ

 



Total Pages: 101

Go To