Book Name:Imamay kay Fazail

        نماز میں کسی کپڑے یا عمامہ سے اس طرح نقاب کرنا جس سے ناک چھپ جائے جیسے عورتیں نقاب کرتی ہیں ۔  حضرت سیّدنا امام محمدبن حسن شیبانی قُدِّسَ سِرُّہ ُ السَّامِی سے منقول قول میں اسی صورت کو اعتجار قرار دیا ہے اور دیگر فقہائے کرام نے بھی اسے اعتجار کی ایک صورت بتایا ہے۔  اس کے مکروہ ہونے کی وجہ بیان کرتے ہوئے خَاتَمُ المُحَقِّقِین حضرت علامہ محمد امین ابن عابدین شامی عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی ارشاد فرماتے ہیں کہ نماز میں ناک اور منہ کا چھپا لینا مجوسیوں سے مشابہت کی وجہ سے مکروہ ہے ۔  

(درمختار و ردالمحتار، کتاب الصلوۃ، باب ما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیہا، مطلب : الکلام علی اتخاذ المسبحۃ، ۲/ ۵۱۱)

        حضرت علامہ ابن نُجیم مصری عَلیْہ رَحْمَۃُ اللّٰہ  الْقَوِی لکھتے ہیں :  (اعتجار کی یہ صورت اس لئے مکروہ ہے کہ ) حضرت سیّدنا عبد اللّٰہ  ابن عباس رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہُما  فرماتے ہیں :  لَا یُغَطِّی الرَّجُلُ اَنْفَہُ وَ ہُوَ یُصَلِّی یعنی کوئی بھی شخص اس طرح نماز نہ پڑھے کہ اس کی ناک چھپی ہوئی ہو۔  (بحرالرائق، کتاب الصلاۃ، باب ما یفسد الصلاۃ الخ ، ۲/ ۲۵)

ایک ضروری وضاحت

        فقیہ مِلّت حضرت علّامہ مفتی جلال الدین احمد امجدی عَلیْہ رَحْمَۃُ اللّٰہ  الْقَوِی کے ’’ دارالافتاء فیض الرسول براؤں شریف سے جاری شدہ1012 فتاویٰ کا مستند ذخیرہ بنام ’’فتاویٰ فیض الرسول‘‘ کے حصہ اول صفحہ369 پر اور یہی فتویٰ ’’فتاویٰ فیض الرسول‘‘ حصہ سوم صفحہ 110 تا 111 پر موجود ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ٹوپی پہنے رہنے کی حالت میں بھی اعتجار ہوتا ہے۔  لیکن یہ فتویٰ آپ نے ۱۳۹۱؁ ھ میں تحریر فرمایا تھا اور اس وقت تک آپ کی یہی تحقیق تھی جب کہ بعد میں آپ کی یہ تحقیق بدل گئی تھی اور آپ نے بھی حضرت صدر الشریعہ، بدر الطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلیْہ رَحْمَۃُ اللّٰہ  الْقَوِی کے مؤقف کی طرف رجوع فرما لیا تھا لہٰذا بعد میں جو فتویٰ لکھوایا بمع استفتاء درج ذیل ہے ۔  

مسئلہ :  عمامہ سر پر اس طور پر باندھا کہ بیچ میں ٹوپی زیادہ کھلی رہی تو نماز مکروہ تحریمی ہوگی یا تنزیہی؟ بینوا توجروا ۔  

الجواب :  حضرت صدر الشریعہ عَلَیْہِ الرَّحْمَۃ  تحریر فرماتے ہیں :  ’’لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ٹوپی پہنے رہنے کی حالت میں اعتجار ہوتا ہے مگر تحقیق یہ ہے کہ اعتجار اسی صورت میں ہے کہ عمامہ کے نیچے کوئی چیز سر کو چھپانے والی نہ ہو۔ ‘‘ (فتاویٰ امجدیہ ، ۱/ ۳۹۹)

        اس کے حاشیہ میں حضرت مفتی شریف الحق امجدی قُدِّسَ سِرُّہُ العَزِیز تحریر فرماتے ہیں ۔  ’’اختار ما فی الظھیریۃ واما ما قال العلامۃ السید الطحطاوی فی حاشیۃ المراقی المراد انہ مکشوف عن العمامۃ لا مکشوف اصلا لانہ فعل مالا یفعل

        ’’ففیہ نظر ‘‘ : ’’لان کثیرا من جفات الاعراب یلفون المندیل و العمامۃ حول الراس مکشوف الھامۃ بغیر قلنسوۃ ‘‘

        اس سے ظاہر ہوا کہ صورت مسؤلہ میں نماز مکروہ تنزیہی ہوگی نہ کہ تحریمی تو اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ عالمگیری و شامی وغیرہ کی عبارت کا مطلب یہ ہے کہ وَسطِ رَأس بالکل مَکشُوف ہو ٹوپی وغیرہ کوئی چیز بیچ میں نہ ہو۔  و اللّٰہ  تعالٰی اعلم

الجواب صحیح : جلال الدین احمد الامجدی        کتبہ :  محمد عماد الدین قادری(فتاویٰ فقیہ ملت ، ۱/ ۱۸۴)

طُرّہ رکھنے کا حکم

       میرے آقا  اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلسنّت ، مجددِ دین و ملت شاہ احمد رضا خان عَلَیہ رَحمَۃُ الرَّحمٰن ایک سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں : ’’ یہ جو بعض لوگ طُرَّہ کے طو ر پر چند انگل اونچا (شملہ) سر پر چھوڑتے ہیں اس کا ثبوت میری نظر میں نہیں ، نہ کہیں ممانعت، تو اباحتِ اَصلیہ پر ہے۔  (یعنی جائزہے ) ۔  مگر اس حالت میں کہ یہ کسی شہرمیں آوارہ و فُسَّاق لوگوں کی وضع (یعنی طریقہ) ہو تو اس عارِض (پیش آنے والے) کے سبب اس سے اِحتراز (بچنا) ہو گا۔  و اللّٰہ  تَعالٰی اعلم (فتاویٰ رضویہ ، ۲۲/ ۲۰۰)

کب عمامے کا شملہ نہ چھوڑناچاہئے؟

       میرے آقا  اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلسنّت ، مجددِ دین و ملت شاہ احمد رضا خان عَلَیہ رَحمَۃُ الرَّحمٰن تحریر فرماتے ہیں :  عمامہ کا شملہ چھوڑنا یقیناسنّت مگر جہاں جُہّال (یعنی اَن پڑھ لوگ) اس پر ہنستے ہوں وہاں علمائے مُتَاخرِین نے غیرِحالتِ نماز میں اس سے بچنا اختیار فرمایا جس کا مَنشاء وہی حفظِ دینِ عوام (یعنی لوگوں کے دین کی حفاظت ) ہے۔  (فتاویٰ رضویہ ، ۱۲/ ۳۱۴)

صحابۂ کرام کے عمامے

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نبیٔ اکرم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سچے مُحب اور آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اقوال و افعال کی اتباع کرنے والے تھے۔  اسی لئے آقائے دوجہاں صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو جب بھی کوئی عمل کرتا پاتے اس کی اتباع و پیروی اپنے لیے سعادت سمجھتے تھے۔  یہی وجہ ہے کہ احادیثِ مبارکہ میں جہاں نبیٔ کریم ، رء وف رحیم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے عمامہ ٔ پرنور کا بیانِ پُر سرور ہے وہیں بے شمار صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے عمائمِ مبارکہ کا دِل کَش تذکرہ بھی موجود ہے چنانچہ

(1)صحابۂ کرام باعمامہ رہتے

       حضرت عُبیدُ  اللّٰہ  رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ  فرماتے ہیں :  ہمیں ہمارے اساتذۂ کرام نے بتایا کہ ہم صحابۂ کرام عَلَیْھِم الرِّضْوان کی زیارت کیا کرتے تھے وہ نُفُوسِ قُدسِیَہ اپنے سروں پر عمامے شریف کے تاج سجاتے تھے جن کے شملے ان کے دوش ہائے مبارک (یعنی کندھوں ) کے درمیان لٹکے ہوتے۔  (مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب اللباس، باب فی ارخاء العمامۃ بین الکتفین، ۱۲/ ۵۴۲، حدیث : ۲۵۴۷۷)     

(2)سیّدنا فاروقِ اعظم کا عمامہ

       حضرت سیّدنا سائب بن یزید عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  المَجِید فرماتے ہیں :  میں نے عید کے دن حضرت سیّدنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کی زیارت کی آپ نے عمامہ یوں باندھ رکھا تھا کہ اس کا شملہ آپ کی پشت پر لٹک رہا تھا۔  (شعب الایمان، باب فی الملابس الخ، فصل فی العمائم، ۵/ ۱۷۴، حدیث : ۶۲۵۵)

 



Total Pages: 101

Go To