Book Name:Imamay kay Fazail

مکروہ تنزیہی ہے۔  غرائب میں یونہی ہے۔  (فتاوٰی ہندیہ ، کتاب الکراہیۃ ، الباب التاسع فی اللبس الخ، ۵/ ۳۳۳)(فتاویٰ رضویہ ، ۷/ ۳۸۸)

نوٹ :  پائنچے ٹخنوں سے نیچے لٹکانے کے متعلق مزید تفصیل جاننے کے لیے فتاویٰ رضویہ ، ج۲۲ ص۱۶۴تا ۱۶۹ کا مطالعہ کیجئے۔  

عمامہ میں اِسبال کی صورت

        سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن تحریر فرماتے ہیں :  شملے کی اقل (کم از کم) مقدار چار انگشت (یعنی انگلیاں ) ہے اور زیادہ سے زیادہ ایک ہاتھ اور بعض نے نشست گاہ (یعنی بیٹھنے کی جگہ) تک رخصت دی یعنی اس قدر کہ بیٹھنے سے موضعِ جلوس (یعنی بیٹھنے کی جگہ) تک پہنچے، اور زیادہ راجح یہی ہے کہ نصف پشت (یعنی پیٹھ) سے زیادہ نہ ہو جس کی مقدار تقریباً وہی ایک ہاتھ ہے۔  حد سے زیادہ داخلِ اِسراف ہے۔  اور بہ نیتِ تکبر ہو تو حرام ، یونہی نشست گاہ سے بھی نیچا مثلاً رانوں یا زانوں تک یہ سخت شَنِیع ومَمنُوع (یعنی بُرا و منع) ، اور بعض انسانِ بدوضع آوارہ رِندوں (یعنی آوارہ گردوں ) کی وضع (یعنی انداز) ہے۔  ڈیڑھ ہاتھ کا شملہ اگر بہ نیت تکبر نہ ہو تو اسے حرام کہنا نہ چاہئے۔  خصوصاً اس حالت میں کہ بعض علماء نے مَوضعِ جُلُوس تک بھی اجازت دی مگر حرام کہنے والے کو گنہگار بھی نہ کہیں گے جبکہ اس نے حرام بمعنی عام یعنی ممنوع لیا ہو جو مکروہ تحریمی کو شامل ہے۔  (فتاویٰ رضویہ ، ۲۲/ ۱۸۲)

        صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی فرماتے ہیں :  ’’دامنوں اور پائنچوں میں اِسبال یہ ہے کہ ٹخنوں سے نیچے ہوں اور آستینوں میں انگلیوں سے نیچے اور عمامہ میں یہ کہ بیٹھنے میں دبے۔ ‘‘ (بہار ِشریعت ، ۱/ ۶۳۲)

ایک ولیّ  اللّٰہ  سے ترکِ ملاقات!

        حضرت سَنَدُ المُحَقِّقِین، قُدوَۂ اَنام، زُبدۂ ساداتِ کرام، سیّدُ السّادات میر سیّد عبد الواحدقادری چشتی بَلگرامی عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی (متوفّٰی۱۰۱۷ھ) کے ایک دوست سیّد سلطان (رَحمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ ) جو باکرامت ولیُّ  اللّٰہ  تھے اور جن کی کرامتوں میں مردہ زندہ ہوجانے کے واقعات بھی شامل ہیں جو متعدد غیر مسلموں کے ایمان لانے کا سبب بھی بنے۔  ایک بار حضرتِ سیّدنا سیّد میر عبد الواحد بَلگرامی عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی سے ملاقات کا شرف پانے ان کے وطن بَلگرام حاضر ہوئے اور آپ رَحمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ کی تشریف آوری تک وہ فرض نماز میں مشغول ہو گئے۔  دورانِ نماز آپ رَحمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ تشریف لے آئے اور انہیں بغیر عمامہ صرف ٹوپی میں نماز پڑھتے دیکھا، اس کے علاوہ انہوں نے اپنا رومال اپنے کندھوں پر بطریقِ سَدَل([1]) ڈالا ہوا تھا۔  آپ رَحمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ ان کی یہ بے احتیاطی ملاحظہ فرما کر ملاقات کیے بغیر واپس تشریف لے گئے۔  جب انہیں معلوم ہواتو بہت پریشان ہوئے ، چنانچہ انہوں نے آپ رَحمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ کی بارگاہ میں ایک مکتوب روانہ کیا جس میں اپنی کو تاہی پر نادم ہو نے کے ساتھ ساتھ آپ رَحمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ سے ملاقات کی التجائیں بھی کیں ۔  آپ رَحمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ نے انہیں جواباً تحریر فرمایا کہ آپ مُقْتدا (یعنی جن کی پیروی کی جائے) اور رہنما ہیں ۔  یہ بات آپ کے منصب کے مناسب نہیں کہ بغیر کسی رخصت و اجازتِ شرعی کے ذرّہ برابر بھی کوئی کام کریں ۔  اس لیے کہ عوام کی ہدایت و رہنمائی آپ سے متعلق ہے۔  آپ کو اپنے ہر معاملے میں اِحتیاط برتنا اور شریعت کی پابندی کرنا لازمی ہے۔  (ملفوظات مشائخ مارہرہ، ص۱۰)

       میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے کہ ہمارے بزرگانِ دین رَحِمَھُمُ  اللّٰہ  الْمُبِیْن کیسی مدَنی سوچ رکھتے تھے ، یہاں تک کہ مستحبّات (کہ جن کے نہ کرنے پر کوئی سزا نہیں )کے ترک کو بھی نا پسند فرماتے تھے، تبھی آپ رَحمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ نے جب انہیں عمامہ( جو کہ آدابِ نماز سے ہے )کے بغیر نیز سَدَل بھی کیے دیکھا جو کہ نماز کی کراہیّتِ تحریمیہ کا سبب ہے تو فوراً بطورِتادیب آپ رَحمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ نہ صرف وہاں سے تشریف لے گئے بلکہ ان کے مقام و مرتبہ کو خاطر میں لائے بغیر بذریعہ مکتوب ان کی اصلاح کا سامان بھی فرمایا۔  کیونکہ اصل نجاتِ اُخروی کا دارو مدار تو شریعتِ اسلام کی اِتّباع میں ہے۔  کاش کہ ہم بھی اپنے اَسلاف کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے فرائض و واجبات کی پابندی کے ساتھ ساتھ سُنَنُ و مستحبّات پر عمل کا مدَنی ذہن بنالیں ۔  

عمامے میں اعتجار کا مسئلہ

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بعض لوگ بغیر ٹوپی کے اس طرح عمامہ باندھتے ہیں کہ سر ننگا رہتا ہے۔  یہ مکروہ ہے کیونکہ یہ اہلِ کتاب اور فاسق و فاجر لوگوں کا طریقہ ہے، اسے اِعتِجار کہا جاتا ہے۔  

اِعتِجار کی تعریف

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ’’اِعتِجَار ‘‘عربی زبان کالفظ ہے جس کا لغوی معنی : ’’ سر پر عمامہ لپیٹنا یا خواتین کا سر پر دوپٹہ لینا ہے۔ ‘‘ حضرت علامہ حسن بن عمار بن علی شَرُنبُلالی عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  الوَالی اِعتجار کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ’’ سر پر رومال اس طرح باندھنا کہ درمیان کا حصہ ننگا رہے یہ اِعتِجار ہے ‘‘۔

 (نورالایضاح مع مراقی الفلاح، کتاب الصلاۃ ، باب الامامۃ ، فصل فی مکروہات الصلاۃ ، ص ۱۷۹)

        فُقَہائے کرام اور محدثینِ عُظّام رَحِمَہُمُ  اللّٰہ  السَّلام نے اعتجار کے مسئلے پر تفصیلی گفتگو فرمائی ہے ، اس کی مختلف صورتوں کو بھی بیان فرمایا ہے ۔  ذیل میں اس کی تمام صورتیں بالترتیب بیان کی گئی ہیں چنانچہ

        اِعتِجار کا مسئلہ ذکر کرتے ہوئے ملک العلماء علّامہ علاء الدین کاسانی عَلَیہِ رَحمَۃُ الرَّبَّانِی لکھتے ہیں :  وَیُکْرَہُ اَنْ یُصَلِّیَ مُعْتَجِرًا لِمَا رُوِیَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی  اللّٰہ  عَلَیْہِ وَسَلَّم اَ نَّہُ نَہٰی عَنِ الْاِعْتِجَارِ وَاخْتُلِفَ فِی تَفْسِیرِ الِاعْتِجَارِ وَ قِیلَ :  ہُوَ اَنْ یَشُدَّ حَوَالَیْ رَاْسِہِ بِالْمِنْدِیلِ وَیَتْرُکَہَا مِنْہُ وَہُوَ تَشَبُّہٌ بِاَہْلِ الْکِتَابِ ، وَقِیلَ :  ہُوَ اَنْ یَلُفَّ شَعْرَہُ عَلَی رَاْسِہِ بِمِنْدِیلٍ فَیَصِیرُ کَالْعَاقِصِ شَعْرَہُ وَالْعَقْصُ مَکْرُوہٌ

 لِمَا ذَکَرْنَا وَعَنْ مُحَمَّدٍ رَحِمَہُ  اللّٰہ  اَ نَّہُ قَالَ :  لَا یَکُونُ الِاعْتِجَارُ اِلَّا مَعَ تَنَقُّبٍ وَہُوَ اَنْ یَلُفَّ بَعْضَ الْعِمَامَۃِ عَلَی رَاْسِہِ وَیَجْعَلَ طَرَفًا مِنْہَا عَلَی وَجْہِہٖ کَمُعْتَجِرِ النِّسَائِ اِمَّا لِاَجْلِ الْحَرِّ وَالْبَرْدِ اَوْ لِلتَّکَبُّرِ



     یعنی کندھوں پر کپڑے کو اس طرح ڈالنا کہ اس کے دونوں کنارے لٹک رہے ہوں یہ نماز میں مکروہ ہے۔ [1]



Total Pages: 101

Go To