Book Name:Imamay kay Fazail

        حضرت علامہ سیّد محمد بن جعفر کَتَّانی عَلَیہ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی فرماتے ہیں :  روایات میں عمامہ کا شملہ لٹکانے کے محل (یعنی جگہ)میں اختلاف ہے بعض میں ہے کہ دونوں کندھوں کے درمیان ہو ، بعض میں ہے کہ بائیں کندھے پر ہو اور بعض میں ہے کہ دائیں کندھے پر ہو اور بعض میں ہے کہ دو شملے ہوں ایک آگے کی جانب اور ایک پیچھے کی جانب ۔  بعض نے کہا کہ ان سب صورتوں میں اختلاف سنّت پر عمل کے حصول کی وجہ سے ہے ۔ لیکن ان سب صورتوں میں اولیٰ اور افضل شملے کا دونوں کندھوں کے درمیان رکھنا ہے کیونکہ ایسا کرنا خود نبیٔ ٔکریم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ و َاٰلِہٖ و َسَلَّمَ سے ثابت ہے جیسا کہ مسلم وغیرہ کی حدیثِ مبارکہ میں ہے اور حضرت سیّدنا ثوبان رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہُ کی حدیث’’ کہ حضور صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ و َاٰلِہٖ وَسَلَّمَ جب عمامہ شریف باندھتے تھے تو اس کا شملہ آگے اور پیچھے چھوڑا کرتے تھے ‘‘اس کے مُعارِض (مخالف) نہیں کیونکہ دونوں کندھوں کے درمیان شملہ چھوڑنے والی حدیث زیادہ صحیح اور زیادہ قوی ہے کہ یہ مسلم کی روایت ہے۔  تو خاص طور پر اسی حدیث کو لیا جائے گا اور حدیث ثوبان کو اس پر محمول کریں گے کہ سرکار صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ و َاٰلِہٖ و َسَلَّمَ نے ایسا کبھی کبھار کیا ہے اور یہ بیانِ جواز کے لیے ہے ۔  (الدعامہ فی احکام سنۃ العمامۃ، ص۵۴)

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بائیں طرف شملہ لٹکانا اکثر ساداتِ صوفیا کا طریقہ ہے، جیسا کہ حضرت علامہ ابراہیم بیجوری عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی فرماتے ہیں :  صوفیائے کرام بائیں جانب شملہ لٹکانے کو مستحسن قرار دیتے ہیں کیونکہ یہ دل کی جانب ہے اور (بائیں جانب شملہ رکھنا) اس بات کی یاد دلاتا رہتا ہے کہ دل کومَا سِوَی  اللّٰہ  (یعنی  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ کی یاد کے سوا ہر چیز ) سے خالی رکھنا ہے ۔  (المواہب اللدنیۃ علی الشمائل المحمدیۃ، باب ما جاء فی صفۃ عمامۃ رسول  اللّٰہ ، ص ۱۰۱ واللفظ لہ، سبل الہدی والرشاد، جماع ابواب سیرتہ صلی  اللّٰہ  علیہ وسلم فی لباسہ الخ، الباب الثانی فی سیرتہ صلی  اللّٰہ  علیہ وسلم فی العمامۃ والعذبۃ الخ، ۷/ ۲۷۹)

        علماء و مُحدِّثینِ کرام رَحِمَہُمُ  اللّٰہ  السَّلام نے بائیں جانب شملہ لٹکانے پر مندرجہ ذیل حدیثِ پاک سے استدلال کیا ہے چنانچہ حضرت سیّدنا عبد اللّٰہ  بن بُسر رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ نبی ٔ کریم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ و َاٰلِہٖ و َسَلَّمَ نے جب حضرت علی کَرَّمَ  اللّٰہ  تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کو خیبر روانہ فرمایا تو آپ کے سر پر سیاہ عمامہ باندھا اور اس کا شملہ پیچھے یا فرمایا کہ بائیں کندھے پر لٹکایا۔

 (مجمع الزوائد،  کتاب الجہاد، باب ما جاء فی القسی والرماح والسیوف ، ۵/ ۴۸۸، حدیث : ۹۳۸۱)

        حضرت علامہ محمد بن یوسف شامی عَلَیہ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی فرماتے ہیں :  بائیں جانب شملہ لٹکانا جیسا کہ کثیر ساداتِ صوفیاء کرام کا طریقہ ہے اس کی دلیل طبرانی وغیرہ میں موجود حضرت سیّدنا عبد اللّٰہ  بن بُسر رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہُ کی روایت ہے ۔  شارحِ بخاری حضرت علامہ حافظ ابنِ حجر رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ سے صوفیاء کرام کے بائیں جانب شملہ لٹکانے کی دلیل کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا :  کہ صوفیاء کرام پر اس بات کی دلیل بیان کرنا لازم نہیں کیونکہ یہ (بائیں جانب شملہ لٹکانا ) مباح امور میں سے ہے اور اگر کوئی مباح امور میں سے کسی کو اپنا لے تو اسے منع نہیں کیا جائے گا بالخصوص جبکہ وہ (اس مباح کام) کو اپنا شعار بنا لے۔

   (سبل الہدی والرشاد، جماع ابواب سیرتہ صلی  اللّٰہ  علیہ وسلم فی لباسہ الخ، الباب الثانی فی سیرتہ صلی  اللّٰہ  علیہ وسلم فی العمامۃ والعذبۃ الخ، ۷/ ۲۷۹، الدعامہ فی احکام سنۃ العمامۃ ، ص۵۶)   

       شارحِ بخاری حضرت امام احمد بن محمد قَسطلانی عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی لکھتے ہیں :  حافظ زین الدّین عراقی (عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  البَاقِی) فرماتے ہیں :  بائیں جانب شملہ لٹکانا مَشروع (یعنی شریعت میں جائز) ہے۔  (ارشاد الساری ، کتاب اللباس ، باب العمائم ، ۱۲/ ۶۱۲، تحت الحدیث : ۵۸۰۶)

        خَاتَمُ المُحَدِّثین، حضرت علامہ شیخ عبد الحق محدث دہلوی رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :  بعض (علمائ) بائیں جانب (شملہ) لٹکانا مناسب جانتے ہیں ، مگر اس کی سند قوی و معتبر نہیں ہے اگرچہ بعض علماء نے اس باب میں اس کی دلیلیں لکھی ہیں ۔  (کشف الالتباس فی استحباب اللباس، ۳۹)

شملہ اور مسئلۂ اِسبال

        سیِّدُ المُبَلِّغین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عبرت نشان ہے :  اِسبال تہبند، قمیص اور عمامہ میں بھی ہوتا ہے۔  جو تکبُّر کی وجہ سے ان میں سے کوئی چیز گھسیٹے گا  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ بروزِقیامت اس پر نظرِ رحمت نہیں فرمائے گا۔  (ابو داؤد، کتاب اللباس، باب فی قدر موضع الازار، ۴/ ۸۳، حدیث : ۴۰۹۴)

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ حدیث مبارک میں تین چیزوں (تہبند، قمیص اور عمامہ) میں اِسبال کا ذکر ہے۔  اِسبال کا لغوی معنی ہے :  ’’چھوڑنا اور لٹکانا‘‘۔  اِسبال کی شرعی تعریف کرتے ہوئے صدر الشریعہ ، بدرالطریقہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی فرماتے ہیں :  اِسبال کپڑا حدِمُعتَاد سے بافراط دراز رکھنا منع ہے ۔  (بہار ِشریعت، ۱/ ۶۳۲)  یعنی عام طور پر عادۃً جتنا کپڑا لٹکایا جاتا ہے اس سے زیادہ لٹکانا اِسبال ہے۔  تینوں چیزوں میں اِسبال کی تفصیل درج ذیل ہے چنانچہ

 قمیص وغیرہ میں اِسبال کی صورت

        مُفَسِّرِ شَہِیر، حَکِیمُ الاُ مَّت مفتی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن اس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں :  صرف نیچا تہبند ہی مکروہ و ممنوع نہیں بلکہ عمامہ کا شملہ، کُرتے کا دامن بھی اگر ضرورت سے زیادہ نیچا ہو تو وہ بھی ممنوع ہے اور اس پر بھی یہی وعید ہے مزید فرماتے ہیں کہ عمامہ کا شملہ نصف پیٹھ تک چاہئے بعض نِشَست گاہ تک رکھتے ہیں یہ ممنوع ہے اور قمیض کا دامن بعضے عرب ٹخنوں کے نیچے رکھتے ہیں (یہ بھی) ممنوع ہے ۔  ( مراٰۃ المناجیح ، ۶/ ۱۰۲)

شلوار و تہبند میں اسبال کی صورت

        صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی فرماتے ہیں :  پائنچوں میں اِسبال یہ ہے کہ ٹخنوں سے نیچے ہوں ۔  (بہار ِشریعت ، ۱/ ۶۳۲)

        سیّدی اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا  خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں کہ اِزار (یعنی تہبند) کا گِٹّوں سے نیچے رکھنا اگر برائے تکبُّر ہو تو حرام ہے اور اس صورت میں نماز مکروہ تحریمی ورنہ صرف مکروہ تنزیہی اور نماز میں بھی اس کی غایت (اِنتہا) خلافِ اولیٰ (ہے)۔  صحیح بخاری شریف میں ہے :  ’’صدیقِ اکبر رَضِیَ اﷲُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی :  یَارَسُولَ  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمَ میرا تہبند لٹک جاتا ہے جب تک میں اس کا خاص خیال نہ رکھوں ۔  فرمایا :  لَستَ مِمَّن یَّصنَعَہ خُیَلٓاء (تم ان میں نہیں ہو جوبراہِ تکبّر ایسا کریں )

(بخاری، کتاب اللباس ، باب فی جرازارہ من غیرخیلاء ، ۴/ ۴۵، حدیث : ۵۷۸۴)

فتاویٰ عالمگیریہ میں ہے :  اِسبَالُ الرَّجُلِ اِزَارَ ہٗ اَسفَلَ مِنَ الکَعبَینِ اِن لَّم یَکُن لِلخُیَلَائِ فَفِیہِ کَرَاھَۃُ تَنزِیہٍ کَذَا فِی الغَرَائِب یعنی کسی آدمی کاٹخنوں سے نیچے تہبند لٹکا کر چلنا اگر تکبر کی بناپر نہ ہو تو



Total Pages: 101

Go To