Book Name:Imamay kay Fazail

وسلم فی لباسہ الخ، الباب الثانی فی سیرتہ صلی  اللّٰہ  علیہ وسلم فی العمامۃ والعذبۃ الخ، ۷/ ۲۷۸)

 (5)حضرت سیّدنا عاصِم بن محمد رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ  کے والد فرماتے ہیں :  میں نے حضرت سیّدنا ابن زبیر رَضِی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنہُما کو سیاہ عمامہ شریف باندھے دیکھا آپ نے ایک ہاتھ کے قریب عمامے کاشملہ اپنی پشت پر لٹکا رکھا تھا۔  (مصنف ابن ابی شیبہ ، کتاب اللباس، باب فی العمائم السود ، ۱۲/ ۵۳۸، حدیث : ۲۵۴۵۶)     

 (6)حضرت سیّدنا ہِشام رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :  ’’میں نے حضرت سیّدنا ابنِ زبیر رَضِی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنہُما کو عمامہ باندھے دیکھا آپ نے اپنے عمامے کے دونوں شملے اپنے سامنے لٹکا رکھے تھے۔ ‘‘ (مصنف ابن ابی شیبہ ، کتاب اللباس، باب فی ارخاء العمامۃ بین الکتفین ، ۱۲/ ۵۴۲، حدیث : ۲۵۴۷۸)

 (7)اُمُّ المومنین حضرت سیّدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْھا فرماتی ہیں :  نبیٔ کریم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ و َاٰلِہٖ و َسَلَّم نے حضرت عبدالرحمن بن عوف رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہُ کو میرے گھر کے صحن میں عمامہ شریف باندھا اور عمامے سے درخت کے پتوں کے برابر حصہ چھوڑا ۔  پھر فرمایا :  میں نے اکثر فرشتوں کو عمامے باندھے دیکھا۔  (تاریخ ابن عساکر ، ۲۲/ ۸۱)

سنّتِ سلام و سنّتِ عمامہ

        حضرتِ سیّدناغیاث بن ابو شَبِیب رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :  بچپن میں جب ہم قَیروان ([1]) میں تھے تو صحابیٔ رسول حضرت سیّدنا سفیان بن وَہَب رَضَیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ جب کبھی ہمارے پاس سے گزرتے تو ہمیں سلام کرتے اور یوں عمامہ شریف سجائے ہوتے کہ اس کا شملہ آپ کی پشتِ انور پر لٹک رہا ہوتا تھا۔(اسدالغابہ، باب السین والفائ، سفیان بن وہب، ۲/ ۴۸۰، رقم : ۲۱۲۹)   

       میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! سلام کرنا بلا شبہ ہمارے پیارے آقا مکّی مدنی مصطفی صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَ اٰلہٖ وَ سَلَّم کی بہت ہی عظیم سنّت ہے۔  جس میں بڑوں کے علاوہ چھوٹوں کو بھی سلام کیا جاتا ہے جیسا کہ صحابیٔ رسول رَضَیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کے عملِ مبارک سے ظاہر ہوا۔  لہٰذا ہمیں بھی اپنے بزرگوں کی طرح چھوٹے بچوں کو سلام کرنے کی بھی عادت بنانی چاہیے تاکہ انہیں بھی اس سنّتِ عظیمہ کی سوجھ بوجھ پیدا ہو اور وہ بھی اس سنّت کو عام کرنے میں اپنا کردار ادا کر سکیں ۔  اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت دَامَت بَرَکَاتُہُمُ العَالِیَہ کے عطا کردہ مدَنی انعامات میں سے ایک انعام یہ بھی ہے کہ ’’کیا آج آپ نے گھر، دفتر، بس، ٹرین وغیرہ میں آتے جاتے اور گلیوں سے گزرتے ہوئے راہ میں کھڑے یا بیٹھے ہوئے مسلمانوں کو سلام کیا۔ ‘‘

صلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب!         صلَّی  اللّٰہ  تعالٰی علٰی محمَّد

 تابعین کے عماموں کے شملے

 (1)حضرت سیّدنا امام مالک عَلَیہ رَحمَۃُ  اللّٰہ  الخَاِلق فرماتے ہیں :  میں نے اپنے زمانے میں کسی کو بھی دونوں کندھوں کے مابین شملہ لٹکاتے نہیں دیکھا بلکہ سبھی نے عمامے کا شملہ اپنے سامنے لٹکایا ہوتا تھا۔  یہ قول نقل کرنے کے بعد امام محمد بن یوسف شامی قُدِّسَ سِرُّہُ السَّامِی فرماتے ہیں کہ امام مالک کا یہ قول دلالت کرتا ہے کہ تابعینِ عُظّام عماموں کے شملے سامنے لٹکایا کرتے تھے۔   (سبل الہدی والرشاد، جماع ابواب سیرتہ صلی  اللّٰہ  علیہ وسلم فی لباسہ الخ، الباب الثانی فی سیرتہ صلی  اللّٰہ  علیہ وسلم فی العمامۃ والعذبۃ الخ، ۷/ ۲۷۸) علامہ بدرالدین عینی حنفی عَلَیہ رَحمَۃُ   اللّٰہ  القَوِی نے اتنا اضافہ فرمایا ہے کہ امام مالک عَلَیہ رَحمَۃُ  اللّٰہ  الخَاِلق نے فرمایا :  میں نے عامر بن عبد اللّٰہ  بن زبیر رَضِی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنہُم کے سوا کسی کو پیٹھ پر شملہ لٹکائے نہیں دیکھا۔  مزید فرمایا یہ حرام نہیں ہے ، لیکن سامنے کی جانب شملہ لٹکانا زیادہ اچھا ہے۔  (عمدۃ القاری، کتاب اللباس، باب العمائم، ۱۵/ ۲۲)

 (2)حضرت علامہ ابوعبد اللّٰہ  محمد بن محمد بن محمد مالکی المعروف ابن الحاج   عَلَیہ رَحمَۃُ   اللّٰہ  الوَہَّاب حضرت سیّدنا امامِ مالک رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ کا قول نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں : ’’ تعجب ہے ان لوگوں پر کہ جو آئمہ مُتَقَدِّمین اور سلفِ صالحین کی ایسی واضح نصوص کے باوجود بھی عمامہ کا شملہ سامنے لٹکانے کو بدعت قرار دیتے ہیں ۔ ‘‘ (المدخل ، فصل فی اللباس، الجزء الاول، ۱/ ۱۰۴)

 (3)حضرت سیّدنا اسماعیل رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :  ’’میں نے حضرت سیّدنا قاضی شُرَیح رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ کو عمامہ شریف باندھے دیکھا آپ نے اس کا شملہ پیچھے لٹکا رکھا تھا۔ ‘‘

 (مصنف ابن ابی شیبہ ، کتاب اللباس، باب فی ارخاء العمامۃ بین الکتفین ، ۱۲/ ۵۴۴، حدیث : ۲۵۴۸۴)

 (4)حضرت سیّدنا سُلیمان بن مُغِیرَہ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :  میں نے حضرت سیّدنا ابونَضرہ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ کو سیاہ عمامہ سجائے دیکھا جس کا شملہ آپ نے گردن سے نیچے لٹکا رکھا تھا۔  (مصنف ابن ابی شیبہ ، کتاب اللباس، باب فی ارخاء العمامۃ بین الکتفین ، ۱۲/ ۵۴۴، حدیث : ۲۵۴۸۶)

عمامے کا شملہ دائیں جانب رکھنا

        نُور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہِ وَ اٰلہٖ وَسَلَّم جب بھی کسی صحابی رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کو کسی علاقے کا والی (حاکم) بناتے تو اپنے مبارک ہاتھوں سے انہیں عمامہ شریف اس طرح باندھتے کہ اس کا شملہ دائیں جانب ہوتا۔  چنانچہ حضرت سیّدنا ابو امامہ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہِ وَ اٰلہٖ وَسَلَّم جب بھی کسی کو والی بنا کر بھیجتے تو انہیں عمامہ شریف باندھتے اور اس کا شملہ داہنی طرف کان کی جانب لٹکاتے۔  (معجم کبیر، باب الصاد ، صدی بن العجلان ابو امامۃ الباہلی، ۸/ ۱۴۴، حدیث : ۷۶۴۱)

       حضرت علامہ عبد الرء وف مناوی عَلَیہ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی اس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں :  سرکار ِ مدینہ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہِ وَ اٰلہٖ وَسَلَّم کا اپنے ہاتھوں سے عمامہ شریف باندھنے اور عمامے کے شملے کو دائیں جانب رکھنے میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جس شخص کو لوگوں کے اُمور کا حاکم بنایا جائے اسے چاہئے کہ اپنی ظاہری وضع قطع اور خوبصورتی کا خاص خیال رکھے تاکہ لوگوں کی نظروں میں بھَلا لگے اور لوگ اس سے مُتَنَفِّر نہ ہوں بلکہ اپنی حاجات میں اس کی طرف رجوع کریں اور اس حدیثِ مبارک سے شملے کا مستحب ہونا بھی ثابت ہوتا ہے ۔  حضرت علّامہ جلال الدّین سیوطی شافعی عَلَیہ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی نے عمامے کا شملہ چھوڑنے کو اس امت کا خاصہ فرمایا ہے۔  (فیض القدیر، باب کان ، ۵/ ۲۴۴، تحت الحدیث : ۶۹۲۶)

عمامے کا شملہ بائیں جانب رکھنا

 



      یہ  افریقہ میں مراکش کا ایک شہر ہے۔ [1]



Total Pages: 101

Go To