Book Name:Imamay kay Fazail

اللّٰہ  تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے فعل مبارک سے ثابت ہے، نیز (دو شملے لٹکانے میں ) اس بات کا بھی احتمال ہے کہ دونوں طرف (آگے اور پیچھے ) شملہ لٹکانا اس کے لئے سنّت ہو کہ جو دو شملے لٹکانا چاہے اور جو ایک ہی شملہ لٹکانا چاہے تو اس کے لئے افضل یہ ہے کہ دونوں کندھوں کے مابین پشت پر لٹکائے۔  (اشرف الوسائل الی فہم الشمائل ، باب ماجاء فی عمامۃ رسول  اللّٰہ  ، ص ۱۷۲، تحت الحدیث : ۱۱۲)

حکمِ شملہ کے متعلق ایک ضروری وضاحت

        شَارِح صحیح مُسلِم امام ابو زَکریا محی الدین نَوَوِی عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی اپنی کتاب ’’اَلمَجمُوع شَرحُ المُھَذَّب‘‘ میں عمامے کے شملے کے متعلق لکھتے ہیں کہ عمامہ شریف کا شملہ لٹکانا اور نہ لٹکانا دونوں برابر ہیں اور ان دونوں میں سے کسی ایک کو بھی اختیار کرنا مکروہ نہیں ہے (یعنی نہ عمامہ کا شملہ لٹکانے میں کوئی کراہت ہے اور نہ ہی ترک کرنے میں کوئی کراہت ہے ) (المجموع شرح المھذب، ۴/ ۴۵۷) امام کمال الدین محمد بن ابوشریف القُدسی عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی (مُتَوَفّٰی۹۰۵ھ) امام نَوَوِی عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی کے اس کلام کے جواب میں فرماتے ہیں :  عمامے کا شملہ لٹکانا مستحب ہے اور شملہ لٹکانے کو نہ لٹکانے پر ترجیح حاصل ہے جیسا کہ حدیثِ مبارک سے ثابت ہے کہ رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیّدنا عبدالرحمن بن عوف رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کے سر پر عمامہ شریف باندھا اور اس کاشملہ چھوڑ کر فرمایا : ’’ عمامہ ایسے باندھا کرو کہ یہ اَعرَب واَحسن ہے۔ ‘‘ اس حدیثِ پاک سے ثابت ہوا کہ عمامے کا شملہ چھوڑنا مستحب اور اولیٰ ہے جبکہ اس کا ترک یعنی شملہ نہ چھوڑنا خلافِ اولیٰ اور مستحب کا ترک کرنا ہے ۔  امام شیخ کمال الدین محمد بن ابوشریف رَحمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ امام نَوَوِی عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی کے اس قول (کہ شملہ نہ لٹکانے میں کوئی کراہت نہیں ) کی توضیح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ یہاں امام نَوَوِی  کی مراد ایسی کراہت ہے کہ جس کے متعلق حدیث ِمبارک میں نہی وارد ہوئی ہو۔  تو شملہ نہ لٹکانا اس معنی میں مکروہ نہیں ہے کیونکہ اگر شملہ نہ لٹکانے کی حدیث میں ممانعت ہوتی تو شملہ لٹکانے کو (صرف) مستحب اور اولیٰ قرار نہ دیا جاتا  اور اگر (امام نَوَوِی  کی عبارت میں ) مکروہ سے مراد وہ ہے جو خلافِ اولیٰ کو شامل ہوتا ہے جیسا کہ مُتَقَدِّمِین اُصُولِیِّین کی اِصطلاح ہے تو پھر (شملہ نہ لٹکانے) کا مکروہ بھی نہ ہونا ہم تسلیم نہیں کرتے بلکہ اس معنی میں تو یہ مکروہ ہے کیونکہ یہ خلافِ اولیٰ اور مستحب کا ترک کرنا ہے۔  (صوب الغمامۃ فی ارسال طرف العمامۃ، ص۴ مخطوط مصور)   

عمامے کا شملہ کہاں تک رکھنا مسنون ہے؟

        میرے آقا اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان عَلَیہِ رَحمَۃُ الرَّحمٰن ایک سوال (کہ دستار کا شملہ کہاں تک رکھنا مسنون ہے؟ اور کہاں تک رکھنا مباح اور کہاں تک رکھنا ممنوع ہے) کے جواب میں لکھتے ہیں :  شملے کی اَقَل مقدار چار اَنگُشت (یعنی انگلیاں ) ہے اور زیادہ سے زیادہ ایک ہاتھ اور بعض نے نشست گاہ (یعنی بیٹھنے کی جگہ) تک رخصت دی یعنی اس قدر کہ بیٹھنے سے مَوضعِ جُلُوس (یعنی بیٹھنے کی جگہ) تک پہنچے اور زیادہ راجح یہی ہے کہ نصف پشت سے زیادہ نہ ہو جس کی مقدار تقریباً وہی ایک ہاتھ ہے۔  حد سے زیادہ داخلِ اِسرَاف ہے۔  (فتاویٰ رضویہ ، ۲۲/ ۱۸۲)

شملے کی اقسام

        میرے آقا اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان عَلَیہِ رَحمَۃُ الرَّحمٰن دَستُورُ اللِّبَاس کے حوالے سے مزید نقل فرماتے ہیں :  فَتَاوٰی حُجَّۃ اور جَامِع میں نقل کیا گیاہے کہ شملہ کی چھ اقسام ہیں :  (۱)قاضی کے لئے 35 اَنگُشت کے بمقدار (۲)خطیب کے لئے بمقدار 21 اَنگُشت (۳)عالم کے لئے بمقدار 27 اَنگُشت (۴) متعلم کے لئے بمقدار 17اَنگُشت (۵) صوفی کیلئے بمقدار 7 اَنگُشت (۶)عام آدمی کے لئے بمقدار 4 اَنگُشت۔  (فتاویٰ رضویہ ، ۲۲/ ۱۸۲)     

رسول  اللّٰہ  کے عمامہ شریف کا شملہ

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہمارے پیارے آقا صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے عمامہ شریف کا شملہ مختلف اوقات میں مختلف ہوا کرتا تھا کبھی مبارک کندھوں کے درمیان، کبھی ایک دائیں شانے مبارک کی جانب تو دوسرا پشتِ انور پر ہوتا، کبھی تحنیک فرماتے تھے چنانچہ

رسول  اللّٰہ  کے عمامہ کا ایک شملہ

        میٹھے میٹھے مصطفی صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم بسا اوقات ایک شملہ لٹکاتے جو کہ مبارک کندھوں کے درمیان ہوتا جیسا کہ

        حضرت سیّدنا عبد اللّٰہ  ابن عمررَضِی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنہُما  روایت فرماتے ہیں :  کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی  اللّٰہ  عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا اعْتَمَّ سَدَلَ عِمَامَتَہُ بَیْنَ کَتِفَیْہ یعنی نبیٔ کریم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم جب عمامہ باندھتے تو شملہ کندھوں کے درمیان لٹکاتے۔  حضرت سیّدنا نافع رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنہُ فرماتے ہیں کہ حضرت سیّدنا عبد اللّٰہ  ابن عمر رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنہُما  بھی شملہ کندھوں کے درمیان لٹکاتے تھے۔  حضرت سیّدنا عبید اللّٰہ  رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنہ فرماتے ہیں :  میں نے حضرت سیّدنا قاسم اور حضرت سیّدنا سالم رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنہُما  کو بھی ایسے ہی کرتے دیکھا۔  حضرت سیّدنا امام ترمذی عَلَیہ رَحمَۃُ  اللّٰہ  الْغَنِی فرماتے ہیں :  یہ حدیث حسن غریب ہے۔  (ترمذی، کتاب اللباس، باب فی سدل العمامۃ بین الکتفین، ۳/ ۲۸۶، حدیث : ۱۷۴۲)

       حضرت علامہ مُلَّا علی قاری عَلَیہ رَحمَۃُ اللّٰہ  الْبَارِی نے اسی صورت کو افضل قرار دیا ہے۔  (جمع الوسائل ، باب ما جاء فی عمامۃ رسول  اللّٰہ ، ۱/ ۲۰۶)

        مُفسِّر شہیر حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی عَلیْہ رَحْمَۃُ اللّٰہ  الْقَوِی اس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں :  یعنی عمامہ شریف کا کنارہ مبارکہ جسے فارسی میں شِملَہ اور عربی میں عَذَبَہ کہتے ہیں نصف پیٹھ تک ہوتا تھا اور دونوں کندھوں کے درمیان لٹکا رہتا تھا خواہ پیٹھ پر یا سینہ پر، مگر سینہ پر ہونا افضل ہے یعنی سامنے۔  (مراٰۃ المناجیح ، ۶/ ۱۰۵)

سَیِّدُ الْمَلٰئِکَہ کا ایک شملے والا عمامہ

        حضرت سیّدنا تَمِیم بن سَلَمَہ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :  ایک روز میں سرکارِ دو عالم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں حاضر تھا۔  ایک شخص جس نے عمامہ شریف باندھ رکھا تھا اور اس کا شملہ اپنے پیچھے لٹکا یا ہوا تھا ، آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس سے اٹھ کر چلا گیا۔  میں نے اس شخص کے بارے میں اِستِفسَار کیا تو آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :  یہ جبریلِ امین (عَلَیْہِ السَّلَام) تھے۔  (اسدالغابہ، حرف التائ، تمیم بن سلمۃ، ۱/ ۳۲۳، رقم : ۵۲۵)

دو شملوں والا عمامہ

 



Total Pages: 101

Go To