Book Name:Imamay kay Fazail

بار اُتارنے میں (جبکہ دوبارہ باندھنے کی بھی نیّت ہو تو) ایک ایک گناہ اُترے گا (ماخوذ از کنزالعمال، الجز۱۵، ۸/ ۱۳۳ ، حدیث :  ۴۱۱۳۸، ۴۱۱۲۶) اور بار بار ہوا لگنے کی وجہ سے اِنْ شَآءَاللہ  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ بد بُو بھی دُور ہوگی۔  عمامہ و سر بند شریف، چادر اور لباس وغیرہ کو اُتار کر دھوپ میں ڈالنے سے بھی پسینے وغیرہ کی بد بُو دُور ہو سکتی ہے۔ نیز ان پر اچّھی اچّھی نیّتوں کے ساتھ عُمدہ عِطر لگاتے رہنا بھی بدبُو کو دُور کر سکتا ہے۔  (فیضانِ سنّت ، ۱/ ۱۲۲۳)

لباس سُنّتوں سے ہو آراستہ اور

عِمامہ ہو سر پر سجا یاالٰہی

سبھی مُشت داڑھی و گَیسو سجائیں

                بنیں عاشقِ مصطَفٰے یاالٰہی (وسائلِ بخشش ، ص۸۶)

صَلُّوا  عَلَی الْحَبِیب !        صلَّی  اللّٰہ  تعالٰی علٰی محمَّد   

علماء کا عمامہ کیسا ہونا چاہئے؟

        فُقَہائے کرام نے علماء و مُفتِیانِ عُظّام کے لئے مخصوص لباس پہننے کو مستحب قرار دیا ہے تاکہ لوگ اس لباس کے ذریعے انہیں بآسانی پہچان سکیں اور مسائل پوچھیں چنانچہ دُرِّمُختَار میں ہے : ’’ یَحسُنُ لِلفُقَھَائِ لَفُّ عِمَامَۃٍ طَوِیلَۃٍ وَلُبسُ ثِیَابٍ وَاسِعَۃٍ‘‘ یعنی فقہاء کے لیے اچھا عمل یہ ہے کہ وہ بڑا عمامہ باندھیں اور کھلا لباس پہنیں ۔  علامہ سیّد محمد امین ابن عابدین شامی قُدِّسَ سِرُّہُ السَّامِی اس عبارت کے تحت فرماتے ہیں :  علمائے کرام بڑے عمامے باندھیں تاکہ اس سے ان کی پہچان ہو اور اگر کسی شہر میں چھوٹا عمامہ باندھنا ہی علماء کا عُرف ہو تو وہاں چھوٹا عمامہ باندھیں تاکہ ان کا عالم ہونا ظاہر ہو اور لوگ پہچان کر ان سے امورِ دین کے بارے میں مسائل پوچھیں ۔  (درمختارو رد المحتار، کتاب الحظر و الاباحۃ، فصل فی اللبس، ۹/ ۵۸۶)

       کروڑوں حَنَفیوں کے عظیم پیشوا ، اِمامُ الائمہ حضرتِ سیِّدُنا امامِ اعظم ابو حنیفہ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنہ نے اپنے اصحاب سے ارشاد فرمایا :  عَظِّمُوْا عَمَائِمَکُمْْ یعنی اپنے عماموں کو بڑا کرو اور وَوَسِّعُوْا اَکْمَامَکُم یعنی اپنی آستینوں کو وسیع کرو۔  علامہ بُرہانُ الدِّین زَرنُوجی عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی فرماتے ہیں :  ’’سیّدنا امامِ اعظم عَلَیہ رَحمَۃُ  اللّٰہ  الاَکرَم نے یہ اس لیے ارشاد فرمایا کہ لوگ علم اوراہلِ علم کو حقیر نہ جانیں ۔ ‘‘ (تعلیم المتعلم ، فصل فی النیۃ فی حال التعلم، ص ۳۲)   

شملے کی شرعی حیثیت و مقدار

       میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! عَذَبَہ یعنی شملہ عمامے کا ہی ایک حصہ ہے جس کی مقدار اور شرعی حیثیت کے متعلق مُحَدِّثینِ کرام نے مُفَصَّل کلام فرمایا ہے بلکہ خود صحابۂ کرام عَلَیہِمُ الرِّضوَان سے بھی بعض لوگوں نے اس کی کیفیت اور مقدار کے متعلق سوالات کیے ہیں جیسا کہ حدیثِ مبارک میں ہے چنانچہ

       حضرت سیّدنا عثمان بن عطاء خُراسانی علَیْہ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  الغَنِی اپنے والد سے روایت فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضرت سیّدنا عبد اللّٰہ  بن عمر رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہُما کے پاس مسجدِ منیٰ میں آیا اور آپ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہُما سے عمامے کا شملہ لٹکانے کے متعلق سوال کیا تو حضرت سیّدنا عبد اللّٰہ  بن عمر رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہُما نے فرمایا :  بے شک رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسلَّم نے ایک لشکر روانہ فرمایا جس پر حضرت عبد الرحمن بن عوف رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کو امیر مقرر فرمایا اور انہیں جھنڈا بھی عطا فرمایا، پھر حضرت سیّدنا عبد اللّٰہ  بن عمر رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہُما نے حدیث بیان فرمائی کہ حضرت سیّدنا عبدالرحمن بن عوف رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ نے ایک سیاہ رنگا ہوا سُوتی عمامہ باندھ رکھا تھا تو رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسلَّم نے انہیں بلایا ، ان کا عمامہ کھولا پھر اپنے مبارک ہاتھوں سے اس طرح عمامہ باندھا کہ جس کا شملہ چار انگل یا اس سے کچھ زائد لٹکایا ، پھر ارشاد فرمایا :  اس طرح عمامہ باندھو بے شک یہ سب سے خوبصورت اور حسین انداز ہے۔

 (شعب الایمان، الاربعون من شعب الایمان وہو باب فی الملابس الخ ، فصل فی العمائم ، ۵/ ۱۷۴، حدیث :  ۶۲۵۴)

        شِملے کی شرعی حیثیت بیان کرتے ہوئے حضرت علامہ امام شیخ کمال الدین محمد بن ابوشریف قُدسی عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی (مُتَوَفّٰی، ۹۰۵ھ) فرماتے ہیں :  ’’عمامے کا شملہ لٹکانا مستحب ہے۔ ‘‘

 (صوب الغمامۃ فی ارسال طرف العمامۃ ، ص ۴ مخطوط مصور)

       حضرت امام محمد بن یوسف شامی قُدِّسَ سِرُّہُ السَّامِی نقل فرماتے ہیں :  ’’عمامہ شریف یوں باندھنا کہ جس میں نہ تو شملہ لٹکایا ہو اور نہ ہی تَحنِیک کی گئی ہو اس کو علماء مکروہ جانتے ہیں ۔ ‘‘ (سبل الھدی والرشاد، جماع ابواب سیرتہ صلی  اللّٰہ  علیہ وسلم فی لباسہ الخ ، الباب الثانی فی العمامۃ والعذبۃ الخ ، ۷/ ۲۸۱)

        خَاتَمُ المُحَدِّثِین حضرت علامہ شیخ عبد الحق محدث دہلوی عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی فرماتے ہیں :  شملہ لٹکانا مستحب اور سننِ زوائد (یعنی سنّتِ غیر مؤکدہ) میں سے ہے۔  اسے ترک کرنے میں کوئی گناہ نہیں اگرچہ شملہ لٹکانے میں ثواب و فضیلت زیادہ ہے اور ’’اَلرَّوضَۃ‘‘ میں ہے :  عما مے کا شملہ دونوں کندھوں کے درمیان پشت پر لٹکانا مستحب ہے، سنّتِ مؤکدہ نہیں ۔  ’’فَتَاوٰی حُجَّۃ ‘‘اور ’’جَامِع ‘‘ میں لکھا ہے کہ شملے کے ساتھ دورکعت (نماز پڑھنا) بغیر شملے کے ستر رکعات (نماز پڑھنے ) سے افضل ہے۔  (کشف الالتباس فی استحباب اللباس ، ذکر شملہ ، ص ۳۹ ملخصًا)

        امامِ اہلِ سنّت ، سیّدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان عَلَیہِ رَحمَۃُ الرَّحمٰن ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں :  عمامہ کا شملہ رکھنا سنّتِ عمامہ کی فرع اور سنّتِ غیر مؤکدہ ہے۔  یہاں تک کہ مرقاۃ میں فرمایا :  قَد ثَبَتَ فِی السِّیَر بِرِوایاتٍ صَحِیحَۃٍ اَنَّ النَّبِی صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَسَلَّم کَان یَرخٰی عَلامتَہ اَحیَاناً بَینَ کَتِفَیہِ وَ اَحیَاناً یَلبَسُ العِمَامَۃَ مِن غَیرِ عَلامَۃٍ فَعُلِم اَنَّ الاِتیَانَ بِکُلِّ وَاحِدٍ مِّن تِلکَ الاُمُورِ سُنّّۃٌ (یعنی) کتب سِیر میں روایاتِ صحیحہ سے ثابت ہے کہ نبیٔ اکرم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَسَلَّم کبھی عمامہ کا شملہ دونوں کاندھوں کے درمیان چھوڑتے کبھی بغیر شملہ کے باندھتے۔  اس سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ ان امور میں سے ہر ایک کو بجا لانا سنّت ہے۔  (مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، کتاب اللباس ، الفصل الثانی ۸/ ۱۴۶، تحت الحدیث : ۴۳۳۹)  اس (شملے) کے ساتھ استہزا (مذاق) کو کفر ٹھہرایا کَمانَص عَلیہِ الفُقَھائُ الکِرَام وَاَمَرُوابِتَرکِہ حَیثُ یَستَھزِئُ بِہ العَوامُ کَیلَا یَقَعوا فِی الھَلاکِ بِسُوئِ الکَلام۔ (فتاویٰ رضویہ، ۶/ ۲۰۸)     

        حضرت علامہ شہاب الدین احمد بن حجر مکی شافعی  عَلَیہ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی شَمائِلِ تِرمِذِی کی شرح میں فرماتے ہیں :  افضل یہ ہے کہ عمامے کا شملہ کندھوں کے درمیان ہو کیونکہ یہ خود نبی ٔاکرم صَلَّی  



Total Pages: 101

Go To