Book Name:Imamay kay Fazail

کرتے وقت بھی اِس بات کا خصوصی خیال رکھا گیا ہے۔  

جمع شدہ مواد کی ترتیب واُسلوب :  اس کتاب میں مواد کی ترتیب واُسلوب کے حوالے سے درج ذیل اُمور کو پیشِ نظر رکھا گیا :  کتاب کی ترتیب میں تحقیقی و اِصلاحی دونوں اَسالیب کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے مشکل اور پیچیدہ الفاظ سے احتراز کرتے ہوئے عام فہم زبان استعمال کی گئی ہے۔  البتہ جہاں ضرورتاً اصطلاحات یا مشکل الفاظ ذکر کیے گئے ہیں وہاں ہلالین () میں اُن کا ترجمہ یا تسہیل کردی گئی ہے۔  مواد کو مرتب کرتے ہوئے مختلف روایات و واقعات کے تحت اِصلاحی مدنی پھول بھی پیش کیے گئے ہیں ۔ انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام، صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اور اولیائے عظام رَحِمَہُمُ  اللّٰہ  السَّلَام کے اسمائے مبارکہ کے ساتھ دعائیہ کلمات کا التزام کیا گیا ہے۔ کئی مقامات پر مفید اور ضروری حواشی بھی لگائے گئے ہیں ۔  راویوں کے اسماء اور دیگر کئی مشکل اَلفاظ پر اِعراب کا بھی التزام کیا گیا ہے نیز بعض الفاظ کا دُرُست تلفظ کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔  کتاب کی اِجمالی وتفصیلی دونوں طرح کی فہرستیں بنائی گئیں ہیں ، اجمالی فہرست میں تمام ابواب اور ان کے تحت آنے والی جلی سرخیاں (Main Headings) کو ذکر کیا گیا ہے، جبکہ تفصیلی فہرست میں ابواب اور جلی سرخیوں سمیت تمام خفی سرخیوں (Sub Headings) کو بھی ذکر کیا گیا ہے نیز اِجمالی فہرست کتاب کے شروع میں اور تفصیلی فہرست آخر میں دی گئی ہے۔  

عربی عبارات کا ترجمہ :  کتاب میں عربی وفارسی عبارات کے ترجمے کے حوالے سے درج ذیل اُمور کو پیش نظر رکھا گیا :  عبارات کا لفظی ترجمہ کرنے کے بجائے بامحاورہ ترجمہ کیا گیا ہے۔ ترجمہ کرتے وقت شروح و لغات کی طرف بھی رجوع کیا گیا ہے۔  احادیث و روایات کے ترجمہ میں طویل سند بیان کرنے کے بجائے فقط آخری راوی کے ذکر پر اکتفاء کیا گیا ہے نیز بعض مقامات پر ایک ہی موضوع کی مختلف روایات کو بھی ضرورتاً بیان کیا گیا ہے۔ دورانِ ترجمہ مشکل مقامات پر المدینۃالعلمیۃ کے شعبہ تراجم کتب کے ماہر مترجمین مدنی علمائے کرام سے بھی مشاورت کی گئی ہے۔  

عربی عبارات کا تقابل : اس کتاب میں عربی عبارات کے تقابل کے حوالے سے درج ذیل اُمور کو پیش نظر رکھا گیا ہے :  عربی کتب سے جوترجمہ کیا گیا ہے اُس کا اصل کتاب سے انتہائی احتیاط کے ساتھ تقابل کیا گیا ہے۔  عبارت ذکر کرنے کے بعد جس کتاب کا حوالہ دیا گیا ہے اُسی کتاب سے تقابل کیا گیا ہے۔  قرآنی آیات اور اُن کے ترجمے کابھی اصل نسخے سے تقابل کرلیا گیا ہے۔  

عربی عبارات کی تفتیش :  کتاب میں مواد کو ترتیب دیتے وقت کئی ایسی عبارتیں سامنے آئیں جن میں مختلف نسخوں کی وجہ سے یا بعض عبارات کے چھوٹ جانے کے وجہ سے اختلاف پایا گیا لہٰذا اُن عبارتوں کی روایت و درایت دونوں اعتبار سے قدیم مطبوعہ نسخوں یا مخطوطات کی مدد سے تفتیش کی گئی اور پھر مشاورت سے درست عبارت کو لے لیا گیا نیز اُس عبارت کا حوالہ دیتے ہوئے اُس نسخے کی وضاحت بھی کردی گئی ہے۔  

عبارات کی تخریج :  کتاب میں بھی مختلف آیات ِمبارکہ، احادیث ِمبارکہ، اقوال صحابۂ کرام و بزرگانِ دین وغیرہا کی تخاریج کا التزام کیا گیا ہے۔  تخاریج کے حوالے سے درج ذیل اُمور کو پیش نظر رکھا گیاہے :  

عربی کتاب کی عربی اور اردو کتاب کی اردو رسم الخط میں تخریج دی گئی ہے البتہ عربی کتب میں اُن کے اصل اور طویل عربی نام کے بجائے معروف اور مختصر نام دیے گئے ہیں ۔  تخریج میں کتاب کا مکمل حوالہ (کتاب، باب، فصل، نوع، رقم الحدیث، جلد اور صفحہ وغیرہ کے ساتھ) اس طرح دیا گیا ہے کہ پڑھنے والا بآسانی اُس مقام تک پہنچ جائے۔  تخریج کرتے ہوئے جن کتب کا حوالہ دیا گیا ہے، موضوعات کے اعتبار سے اُن کے اسماء ، شہر طباعت، مصنفین کے اَسماء باعتبار تاریخ وفات کی تفصیل آخر میں فہرست ماخذ ومراجع میں دے دی گئی ہے۔  اگر کسی وجہ سے ایک کتاب کے دو مختلف مطبوعہ نسخوں کا حوالہ دیا گیا ہے تو اُن دونوں نسخوں کی نشاندہی بھی آخر میں کر دی گئی ہے۔  تخاریج میں کسی بھی کتاب کا ایسا حوالہ درج نہیں کیا گیا جو ہمارے پاس کسی بھی حوالے سے موجود نہ ہو۔  ’’عمامہ کے فضائل‘‘ میں کم وبیش750 تخاریج کی گئی ہیں ۔  

کتاب کی پروف ریڈنگ :   قرآن پاک کے علاوہ اگرچہ کوئی بھی کتاب غلطیوں سے مبراء (محفوظ) نہیں ہو سکتی لیکن کسی کتاب میں غلطیوں کی کثرت اس کی اہمیت کو کم کرنے کا سبب بن سکتی ہے اس لئے ’’عمامہ کے فضائل ‘‘کی پروف ریڈنگ پر خاص توجہ دی گئی ہے۔  

شرعی تفتیش : اِس کتاب کو دارُالافتاء اہلسنّت کے مدنی علمائے کرام دَامَتْ فُیُوْضُھُم نے شرعی حوالے سے مقدور بھر ملاحظہ کر لیا ہے۔  

         اِنْ شَآءَ  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّا س کتاب کا بغور مطالَعَہ ’’اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کی مَدَنی سوچ ‘‘پانے کا سبب بنے گا۔ لہٰذا مدنی ماحول کی اہمیت اُجاگر کرنے کے لئے دوسرے اسلامی بھائیوں کو بھی اس کی ترغیب دلایئے۔         اللّٰہ  تعالٰیہمیں ’’اپنی اورساری دنیاکے لوگوں کی اصلاح کی کوشش‘‘ کے لئے مدنی انعامات پرعمل اورمدنی قافلوں کامسافربنتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے اور دعوتِ اسلامی کی تمام مجالس بشمول مجلس اَلْمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیَۃ کو دن پچیسویں رات چھبیسویں ترقی عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

شعبہ امیرِاَہلسنّت      مجلس اَلْمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیّہ (دعوتِ اسلامی)

۲۵صفرالمظفر۱۴۳۵ھ بمطابق 29دسمبر 2013ء  

 اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

                           اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِ اللّٰہ  مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

دُرُود پاک کی فضیلت

       سرکارِ ابدقرار ، صاحبِ عمامۂ نور بار صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا اِرشاد خوشبودار ہے : ’’ ثَلَاثَۃٌ یَومَ الْقِیَامَۃِ تَحْتَ عَرْشِ  اللّٰہ  یَوْمَ لَا ظِلَّ اِلَّا ظِلَّہٗ‘‘ یعنی قیامت کے روزجبکہ اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ کے عرش کے سِوا کوئی سایہ نہ ہوگا، تین طرح کے لوگ  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ کے عرش کے سائے میں ہوں گے۔  عرض کیا گیا :  یارسولَ  اللّٰہ !  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم وہ کون لوگ ہوں گے؟ ارشاد فرمایا :  (۱)’’مَنْ فَرَّجَ عَنْ مَکْرُوْبِ اُمَّتِی یعنی وہ شخص جو میرے کسی اُ مَّتِی کی پریشانی دُور کردے۔ ‘‘(۲) ’’وَمَنْ اَحْیَا سُنَّتِی، میری سُنَّت کو زِندہ کرنے والا۔ ‘‘ (۳)’’وَمَنْ اَکْثَرَ الصَّلَاۃَ عَلَیَّ اور مجھ پر کثرت



Total Pages: 101

Go To