Book Name:Imamay kay Fazail

۹۳)

تاج والے دیکھ کر تیرا عِمامہ نور کا

سرجھکاتے ہیں الٰہی بول بالا نور کا

       حضرت عَلَّامہ مُلّا علی قاری عَلَیہ رَحمَۃُ اللّٰہ  الْبَارِی آئینے میں دیکھ کر عمامہ درست کرنے کے متعلق لکھتے ہیں :  جسم اور لباس کی خوبصورتی کے حوالے سے اچھی وضع قطع کے باب میں منقول ہے : اَ نَّہ صَلَّی  اللّٰہ  عَلَیہ وَ سَلَّم کَانَ اِذَا اَرَادَ الخُرُوجَ عَلٰی اَصْحَابِہٖ نَظَرَ فِی الْمَائِ وَ سَوَّی عِمَامَتَہ وَ شَعْرَہ فَقَالَت لَہ عَائِشَۃُ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنہَا اَوَ تَفعَلُ ذَالِکَ ؟ فَقَالَ :  نَعَم، اِنَّ  اللّٰہ  تَعَالٰی یُحِبُّ لِلعَبدِ اَن یَّتَزَیَّنَ لِاخوَانِہ اِذَا خَرَجَ عَلَیہِم یعنی رسولِ اکرم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جب صحابۂ کرام عَلَیہِمُ الرِّضوَان کے پاس تشریف لے جانا چاہتے تو پانی میں دیکھ کر اپنے عمامے اور بالوں کو درست فرماتے۔  حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنہا نے عرض کی، کیا آپ بھی ایسا کرتے ہیں ؟ فرمایا، ہاں ، بے شک  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ پسند فرماتا ہے کہ بندہ اپنے اسلامی بھائیوں کے پاس جانے کے لیے زینت اختیار کرے۔  

        دوسری حدیثِ صحیح میں ہے :  اِنَّ  اللّٰہ  جَمِیلٌ یُحِبُّ الجَمَال یعنی بے شک  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  حسین ہے، حُسن و جمال کو پسند فرماتا ہے۔  ایک اور روایت میں ہے :  اِنَّ  اللّٰہ  نَظِیفٌ یُحِبُّ النَّظَافَۃَ یعنی یقینا  اللّٰہ  تَبَارَکَ وَتَعَالٰی پاک ہے اور طہارت کو پسند فرماتا ہے۔  دوسری حدیثِ پاک میں ہے کہ حضرت سیّدنا جابر رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک شخص کو دیکھا جس کے کپڑے میلے تھے تو فرمایا :  کیا اس کے پاس پانی نہیں جس سے اپنے کپڑے دھولے۔  ایک اور حدیثِ پاک میں ہے :  اِنَّ  اللّٰہ  یُحِبُّ اَنْ یَّرٰی اَثرَ نِعمَتِہِ عَلٰی عَبدِہٖ یعنی  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  پسند فرماتا ہے کہ اپنی نعمت کے آثار اپنے بندے پر دیکھے۔  (المقالۃ العذبۃ فی العمامۃ و العذبۃ، ص ۸)

لوگوں کو غیبت سے بچانے کے لیے عمدہ عمامہ باندھنا

        جلیلُ القدر تابعی حضرت سیّدنا عبد اللّٰہ  بِن مُحَیرِیز رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ کے متعلق حضرت سیّدناخالد بن دُرَیک رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ ایک روز حضرت سیّدنا عبد اللّٰہ  بن مُحَیرِیز رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ نے مجھ سے فرمایا :  لوگوں کی زبانوں کو مجھ سے روکو(یعنی وہ میرے حلیے کے بارے میں طرح طرح کی باتیں کر رہے ہیں ) تو میں نے ان کے لئے عمدہ مصری کپڑے کا عمامہ، چادرا ور قمیص خریدی اور انکی بارگاہ میں پیش کردی۔  آپ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ شام کے وقت مذکورہ کپڑوں میں ملبوس تشریف لائے اور مجھ سے فرمایا :  اب لوگ میرے بارے میں کیا کہتے ہیں ؟ میں نے عرض کی، حضور وہ آپ کی تعریف کر رہے ہیں ، یہ سن کر آپ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ خوش ہو گئے حالانکہ آپ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ اس سے پہلے گند می رنگ کا اونی لباس پہنا کرتے تھے۔

  (حلیۃ الاولیائ، عبد  اللّٰہ  بن محیریز، ۵/ ۱۵۹، رقم : ۶۶۷۵)

سرکار اکثر باعمامہ رہتے

        اُستَاذُالمُحَدِّثِین حضرت علامہ مفتی وصی احمد مُحدِّثِ سُورَتی عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی فرماتے ہیں :  ’’سرورِ عالم حضورِ اَقدَس صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم نے ہمیشہ باعمامہ نماز پڑھائی اور کسی صحیح حدیث میں وارد نہیں کہ آپ نے بغیر عمامہ امامت فرمائی بلکہ عادت شریف اور خَصلَتِ مُنِیف یہ تھی کہ ہر حالت میں سفر و حضر، گھر کے اندر اور گھر کے باہر، نماز و غیر نماز میں نری (صرف) ٹوپی سر پر نہ دیتے اورسرِ انور سے عمامے کو رشکِ ماہ و مہر فرماتے رہتے، حتی کہ(بسا اوقات) وضو فرماتے وقت بھی عمامہ کو نہ توڑتے اسے سرِ منور سے اتار کر رکھتے، اس وجہ سے علماء نے عمامہ کو مطلقاً خاص کر نماز میں سنّت قرار دیا۔ ‘‘ (کشف الغمامہ عن سنیۃ العمامہ، ص ۱۴)

سرکار کا مسح فرمانے کا ایک انداز

       حضرت سیّدنا عطاء رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ سے روایت ہے کہ رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے  وُضو فرمایا تو آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے عمامہ شریف باندھ رکھا تھا، پس آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنا عمامہ شریف اوپر اُٹھایا اور سرِ اقدس کے اگلے حصے کا مسح فرمایا۔    (طبقات ابن سعد ، ذکر لباس رسول  اللّٰہ  الخ، ۱/ ۳۵۲)

سرکار کا مسح فرمانے کا دوسراطریقہ

       حضرت سیّدنا عطاء رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ سے ہی روایت ہے کہ رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے  وُضو فرمایا تو آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے عمامہ مبارک کوکھول کر سرِ انور سے اُتارا اور سرِ اقدس کے اگلے حصے کا مسح فرمایا۔  (معرفۃ السنن والآثار، کتاب الطہارۃ، باب فریضۃ الوضوء فی غسل الوجہ ، ۱/ ۱۶۰، حدیث : ۵۹ مختصراً)     

عِمامہ وغیرہ کو بدبُو سے بچانے کا طریقہ

        شیخِ طریقت، امیرِ اہلِسنّت، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری رضوی دَامَت بَرَکَاتُہُمُ العَالیَہ اپنی مشہورِ زمانہ تالیف ’’فیضانِ سنّت‘‘ جلد اوّل کے صفحہ 1223 پر عمامے شریف کے متعلق چند آداب اور احتیاطیں لکھتے ہوئے فرماتے ہیں :  بعض اسلامی بھائی کافی بڑے سائز کا عمامہ شریف باندھنے کا جذبہ تو رکھتے ہیں مگر صفائی رکھنے میں کوتاہی کر جاتے ہیں اور یوں بسا اوقات لاشُعُوری میں مسجِد کے اندر ’’بدبُو‘‘پھیلانے کے جُرم میں پھنس جاتے ہیں ۔  لہٰذا مَدَنی التِجا ہے کہ عمامہ، سر بند شریف اور چادر استِعمال کرنے والے اسلامی بھائی موسِم کے اعتِبار سے یا ضَرورتاً مزید جلدی جلدی انہیں دھونے کی ترکیب بناتے رہیں ، ورنہ مَیل کُچیل، پسینہ اورتَیل وغیرہ کے سبب ان چیزوں میں بد بو ہوجاتی ہے، اگر چِہ خود کو محسوس نہیں ہوتی مگر دوسروں کو بد بُو کے سبب کافی گِھن آتی ہے، خود کو اس لئے پتا نہیں چلتا کہ جس کے پاس زیادہ دیر تک کوئی مخصوص خوشبو یا بد بو ہو اِس سے اُس کی ناک اَٹ جاتی ہے ۔  

عمامہ کیسا ہونا چاہئے؟

        شیخِ طریقت، امیرِ اہلِسنّت دَامَت بَرَکَاتُہُمُ العَالیَہ مزید فرماتے ہیں :  سَخت ٹوپی پر بندھے بندھائے عمامے کا استِعمال اس کے اندر بد بُو پیدا کر سکتا ہے۔  اگر ہو سکے توباریک مَلمَل کے ہلکے پُھلکے کپڑے کا عمامہ شریف استِعمال کیجئے اور اس کیلئے کپڑے کی ایسی ٹوپی پہنئے جو سر سے چِپڑی ہوئی ہو۔  کہ ایسی ٹوپی پہننا بھی سُنّت ہے۔  بندھا بندھایا عمامہ شریف سر پر رکھ لینے اور اُتار کر رکھ دینے کے بجائے باندھتے وقت سنّت کے مطابِق ایک ایک پیچ کر کے باندھئے اور اِسی طرح کھولنے کی ترکیب کیجئے اِس طرح کرنے سے بحکمِ احادیث ہر بار باندھتے ہوئے ہر پیچ پر ایک نیکی اور ایک نور ملے گااور ہر



Total Pages: 101

Go To