Book Name:Imamay kay Fazail

المحمدیۃ، المقصد الثالث، النوع الثانی فی لباسہ صلی اللہ علیہ وسلم الخ، ۲/ ۱۴۹) اب باقی رہا مسجد اور غیرِ مسجد کا فرق یہ کسی معتبر کتاب میں نظر سے نہیں گزرا ۔  (فتاویٰ اجملیہ ، ۱/ ۱۷۴)

        اسی طرح شیخ و اُستادِ امیرِ اہلسنّت ، حضرت علامہ مفتی محمد وقارالدین قادری رضوی عَلیْہِ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  الْقَوِی فرماتے ہیں :  عمامہ کھڑے ہو کر باندھنا سنّت ہے، خواہ مسجد میں ہو یا گھر میں ۔  حدیث میں ارشاد ہے کہ جو بیٹھ کر عمامہ باندھے گا یا کھڑے ہو کر پاجامہ پہنے گا تو کسی ایسی مصیبت میں گرفتار ہو گا جس سے چھٹکارا مشکل سے ہو گا۔  (وقارالفتاوی ، ۲/ ۲۵۲)

بیٹھ کر عمامہ باندھنے کا نقصان

       میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بلاعذر عمامہ بیٹھ کر نہیں باندھنا چاہئے۔  حدیث میں ہے :  مَن تَعَمَّمَ قَاعِداً اَو تَسَروَلَ قَائِماً اِبتَلاہُ  اللّٰہ  تَعَالٰی بِبَلائٍ لَا دَوَائَ لَہ یعنی :  جس نے بیٹھ کر عمامہ باندھا یا کھڑے ہو کر شلوار پہنی تو  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ اسے ایسی مصیبت میں مبتلا فرما دے گا جس کی کوئی دوا نہیں ۔  (کشف الالتباس فی استحباب اللباس، ذکر شملہ، ص ۳۹) نیزحضرت امام محمد بن یوسف شامی قُدِّسَ سِرُّہُ السَّامِی نقل فرماتے ہیں :  ’’عمامہ بیٹھ کر باندھنے اور شلوار کھڑے ہو کر پہننے سے محتاجی اور بھول جانے کا مرض پیدا ہوتا ہے۔ ‘‘

 (سبل الھدی والرشاد، جماع ابواب سیرتہ صلی  اللّٰہ  علیہ وسلم فی لباسہ الخ ، الباب الثانی فی العمامۃ والعذبۃ الخ، ۷/ ۲۸۲)

اگر سُنّتیں سیکھنے کا ہے جذبہ

تم آجاؤ دیگا سِکھا مَدَنی ماحول

تُو داڑھی بڑھا لے عمامہ سجا لے

نہیں ہے یہ ہرگز بُرا مَدَنی ماحول

عمامہ باندھنے کے بعض آداب

        خَاتَمُ المُحَدِّثین، حضرتِ علّامہ شیخ عبدُالحقّ مُحَدِّث دِہلوی عَلَیہ رَحمَۃُ  اللّٰہ  الْقَوِی فرماتے ہیں :  عمامہ باطہارت اور قبلہ رو کھڑا ہو کر باندھے اور جب بھی کھولے تو پیچ پیچ کر کے کھولے یکبارگی نہ اتارے جیسے باندھنے میں پیچ پر پیچ دیا تھا اسی طریقے سے کھولے ، عمامہ باندھنے کے بعد آئینہ یا پانی یا اس کی مثل کسی (عکس دار) چیز میں دیکھ کر اس کو درست کرے اور عمامہ شملہ کے ساتھ باندھے ۔  (کشف الالتباس فی استحباب اللباس، ذکر عمامہ، ص، ۳۸)

سربند بھی سنّت ہے

       میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جب بھی تیل لگائیں توعمامہ کے نیچے سربند باندھیے۔  ہمارے پیارے پیارے آقا مدینے والے مصطفی صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَ اٰلہٖ وَسلَّم کی طبیعت مبارکہ انتہائی نَفاسَت پسند تھی اسی لئے آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَ اٰلہٖ وَسلَّم جب بھی سر مبارک میں تیل ڈالتے تو اپنے عمامہ مبارک اور اس کی ٹوپی شریف اور دیگر لباس کو تیل کے اثر سے بچانے کے لئے سر اقدس پرایک کپڑا لپیٹ لیاکرتے اورچونکہ تیل مبارک کا استعمال بہت زیادہ ہوتا اس لئے وہ مبارک کپڑا تیل شریف والا ہو جاتا۔  چنانچہ حضرت سیّدنا اَنَس بن مالک رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :  کَانَ رَسُولُ  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُکْثِرُ الْقِنَاعَ کَاَنَّ ثَوْبَہُ ثَوْبُ زَیَّاتٍ یعنی رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَ اٰلہٖ وَسلَّم اکثر قِناع (سربند) استعمال فرماتے ، یہ رومال مبارک تیل والے کے کپڑے کی طرح تیل سے تر ہوا کرتا تھا۔  

(الشمائل المحمدیہ ، باب ماجاء فی تقنع رسول  اللّٰہ ، ص ۸۸، حدیث : ۱۱۹)

تیل کی بوندیں ٹپکتی نہیں بالوں سے رضا

صبحِ عارِض پہ لُٹاتے ہیں ستارے گیسو

       میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! گزشتہ حدیث مبارک سے معلوم ہوا کہ تیل ڈالنے کے بعد ٹوپی اور عمامہ کے نیچے کوئی کپڑا یا رومال رکھنا یا باندھنا سنّت ہے ۔  حضرت سیّدنا امام ترمذی عَلیْہ رَحْمَۃُ اللّٰہ  الْقَوِی نے سر بند باندھنے کی سنّت سے متعلق ’’شمائل ترمذی ‘‘میں ایک باب باندھا ہے ۔      

سرکار صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمَ کے سربند کی برکت

        امیرالمؤمنین حضرت سیّدنا عمر بن العزیز رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کے پاس سرکار صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے کچھ تبرکات تھے ان تبرکات میں سے ایک قَطِیفَہ تھا (یہ وہ کپڑا تھا کہ جسے سرکار صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سرپر باندھتے) اس میں حضوراکرم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سر مبارک (میں لگے تیل) کی تراوَت (تَرا -وَت)کا اثر موجود تھا (یعنی تری تھی) ایک شخص بہت بیمار تھا اور اسے شفا نہ ہوتی تھی ۔ اس نے امیرالمؤمنین حضرت سیّدنا عمر بن العزیز  رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ سے عرض کیا تو انھوں نے اس قَطِیفَہ کو تھوڑا سا دھویا اور اس کا پانی اس کی ناک میں ٹپکا دیا ۔ وہ بیمار تندرست ہو گیا۔

  (مدارج النبوت، ۲/ ۶۰۸)

آئینے میں دیکھ کر عمامہ درست کرنا

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! عمامے کا خوبصورت ہونا کسی کے دل میں سنّت کی عظمت پیدا کر سکتا ہے لہٰذا ہمیں حدیثِ پاک اِنَّ  اللّٰہ  جَمِیلٌ یُحِبُّ الجَمَال یعنی :  ’’  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ جمیل ہے اور خوبصورتی کو پسند فرماتا ہے ۔ ‘‘ (مسلم ، کتاب الایمان، باب تحریم الکبر وبیانہ، ص ۶۰، حدیث :  ۱۴۷) کے مطابق اپنے عمامہ شریف کو ضرور درست کر لینا چاہئے جیسا کہ ہمارے پیارے پیارے آقا ، مدینے والے مصطفی صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فرمایا کرتے تھے چنانچہ     

        سرکارِ والا تَبار، بے کسوں کے مددگار صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جب اپنے دولت کدے سے باہر تشریف لانے کا ارادہ فرمایا تو اپنے عمامہ شریف اور گیسوؤں کو درست فرمایا اور آئینہ میں اپنا مبارک چہرہ ملاحظہ فرمایا تو حضرت سیّدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنہا نے عرض کی :  یارسول  اللّٰہ  (صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)! کیا آپ بھی ایسا کر رہے ہیں ؟ تو آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :  ہاں !  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ بندے کا اُس وقت کا بننا سنورنا پسند فرماتا ہے جب وہ اپنے بھائیوں کے پاس جانے لگے۔  (اتحاف السادۃ المتقین، کتاب ذم الجاہ والریاء ، بیان حقیقۃ الریاء الخ ، ۱۰/



Total Pages: 101

Go To