Book Name:Imamay kay Fazail

       خلیفۂ اعلیٰ حضرت ، مَلِکُ العُلَماء سیّد محمد ظفرالدّین بہاری عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  الْبارِی سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان عَلیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کا معمول نقل فرماتے ہوئے لکھتے ہیں :  چنانچہ (اعلیٰ حضرت کے ) عمامہ مبارکہ کا شملہ سیدھے شانہ پر رہتا، عمامہ مبارکہ کے پیچ سیدھی جانب ہوتے ، عمامہ مقدسہ کی بندش اس طور پر ہوتی کہ بائیں دست مبارک میں گردش اور داہنا دست مبارک پیشانی پر ہر پیچ کی گرفت کرتا تھا۔  

        ایک روز جناب سیِّد محمود جان صاحب نوری مرحوم و مغفور نے حضور (اعلیٰ حضرت) کے عمامہ باندھنے پر عرض کیا :  حضور! عمامہ باندھنے میں الٹا ہاتھ کام کرتاہے؟ فرمایا :  اگر سیدھا ہاتھ ہٹالیا جائے ، تو الٹے ہاتھ سے باندھ تو لیجئے۔  اصل بندش تو سیدھے ہی ہاتھ سے ہوتی ہے۔  (حیاتِ اعلیٰ حضرت ، ۱/ ۱۴۴)   

عمامہ باندھنے کی نیتیں

        شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علاّمہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطارؔ قادری رَضَوی دَامَت بَرَکَاتُہُمُ العَالِیَہ ہر نیک اور جائز کام سے پہلے اچھی اچھی نیتیں کرنے کی نہ صرف ترغیب دلاتے رہتے ہیں بلکہ آپ دَامَت بَرَکَاتُہُمُ العَالِیَہ نے کئی نیک کاموں کی نیتیں تحریر بھی فرمائی ہیں انہی سے رہنمائی لیتے ہوئے عمامہ شریف باندھنے کی کچھ نیتیں ذکر کی گئی ہیں چنانچہ

’’وقتِ نزول حضرت عیسیٰ (عَلَیْہِ السَّلام) کا عمامہ سبز رنگ کا ہو گا ‘‘ کے 34 حروف کی نسبت سے عمامہ شریف باندھنے کی 34 نیّتیں

(1)…رضائِ الٰہیعَزَّوَجَلَّ پانے کی خاطر عمامہ باندھوں گا۔ (2)… نبیٔ پاک صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم(3) فرشتوں اور (4)صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی سنّت پر عمل کی نیت سے عمامہ باندھوں گا۔ (5)…احیائِ سنّت کی نیت سے عمامہ باندھوں گا۔  (6)…قبلہ رُو ، (7) کھڑے ہو کر عمامہ باندھوں گا۔  (8)…بِسم  اللّٰہ  شریف پڑھ کر عمامہ باندھوں گا۔  (9)…دائیں جانب سے عمامہ باندھنے کی ابتداء کروں گا۔  (10)…ٹوپی پر عمامہ باندھوں گا۔  (11)… ممکن ہوا تو نرم ٹوپی پر عمامہ باندھوں گا تاکہ ہر بار اتارنے پر بار بار عمامہ باندھنے کے ثواب کا حقدار بن سکوں ۔  (12)… خوبصورت عمامہ شریف سجا کر دوسروں کی ترغیب کا سامان کروں گا۔ (13)…سنّت کے مطابق شملہ چھوڑوں گا۔  (14)…عمامہ شریف سجا کر دوسروں کو بھی یہ سنّت اپنانے کی دعوت دوں گا۔  (15)…  حتیَّ المَقدُور باعمامہ رہنے کی سعی کروں گا۔  (16)…باعمامہ نماز پڑھ کر ۷۰ گنا زیادہ نماز کی فضیلت حاصل کروں گا۔  (17)…عمامہ شریف کے ذریعے دینی و دنیوی فوائد حاصل کروں گا۔  (18)… عمامہ شریف کی سنّت اپنا کر عشقِ رسول کا عملی اظہار کروں گا۔  (19)…شعائرِ اسلام ہونے کے سبب عمامہ سجا کر اس کا پرچار کروں گا۔  (20)…فرمانِ اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ العِزَّت کے مطابق گنبد نما عمامہ باندھوں گا۔  (21)…شریعت کی بیان کردہ صفات والا عمامہ باندھوں گا۔  ( جیسے چھ ۶ گز سے زیادہ نہ ہو وغیرہ)(22)…عمامے کو حتیَّ المَقدُور صاف ستھرا رکھوں گا۔  (23)…خوشبودار رکھوں گا۔ (تاکہ لوگوں پر اچھا اثر پڑے اور وہ بھی اس سنت کی طرف مائل ہو) (24)…عمامے شریف کے سنّت ہونے کے سبب اس کی تعظیم کروں گا۔  (25)…تلاوتِ قرآن مجید (26)…اور احادیثِ کریمہ کا مطالعہ کرتے وقت ان کی تعظیم اور بزرگوں کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے عمامہ شریف سجانے کا خصوصی التزام کروں گا۔  (27)…دینی کتب کامطالعہ کرتے وقت ان کی تعظیم کے لئے عمامہ باندھوں گا۔  (28)…کسی عالم کی مجلس میں حاضر ہونے سے قبل عمامہ باندھوں گا۔  (29)… کسی بھی ولی  اللّٰہ  کے مزار شریف پر حاضری سے قبل عمامہ باندھوں گا۔  (30)…  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّکے کسی ولی کا عمامہ شریف میسر آیا تو اسے سر پر رکھ کر برکتیں حاصل کروں گا۔  (31)… عمامے شریف اور ٹوپی کو تیل سے بچانے کے لئے (32)…سر بند کی سنّت بھی اپناؤں گا۔  (33)… عمامہ شریف باندھنا آتا ہو تو باندھنا نہ جاننے والے اسلامی بھائیوں کو سکھا کر حصولِ ثواب کا حق دار بنوں گا۔  ( 34)… عمامہ کا رنگ سبز گنبد کی نسبت سے کھِلتا ہوا سبز رکھوں گا۔  

نیا عمامہ و لباس پہننے کی دعا

       حضرت سیّدنا ابوسعیدخُدری رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم جب نیا کپڑا پہنتے، اُس کا نام لیتے قمیص یا عمامہ پھر یہ دعا پڑھتے : ’’ اَللّٰھُمَّ لَکَ الْحَمْدُ اَنتَ کَسَوْتَنِیْہِ اَسْأَلُکَ مِن خَیْرِہٖ وَخَیْرَ مَا صُنِعَ لَـہٗ وَاَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّہٖ وَشَرِّ مَا صُنِعَ لَـہٗ([1])۔  (ابوداؤد، کتاب اللباس ، باب ما یقول اذا لبس ثوبا جدیدا ، ۴/ ۵۹، حدیث : ۴۰۲۰)  

عمامہ باندھنے کا طریقہ مَسنُونہ

       میرے آقا اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان عَلَیہ رَحمَۃُ الرَّحمٰن سے جب مدرسہ منظر الاسلام (بریلی شریف، ہند) کے ایک طالبِ علم عَینُ الیَقِین نے عمامہ باندھنے کا مسنون طریقہ پوچھا تو آپ نے ارشاد فرمایا :  حدیث میں ہیـ :  کَانَ رَسُولُ  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَسَلَّم یُحِبُّ التَّیَامُنَ فِی کُلِّ شَیئٍ حَتّٰی فِی تَنَعُّلِہٖ۔  (نصب الرایۃ ، کتاب الطہارات ، احادیث التثلیث الواردۃ الخ ، ۱/ ۸۰ مختصراً ، مسلم ، کتاب الطہارۃ، باب التیمن فی الطہور و غیرہ ، ص ۱۵۶، حدیث : ۲۶۸ بالفاظ متقاربۃ) رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَ سَلَّم ہر بات میں دہنی طرف سے ابتداء کو پسند فرماتے یہاں تک کہ جوتا پہننے میں ۔  لہٰذا مناسب یہ ہے کہ عمامہ کا پہلا پیچ سر کی دہنی جانب جائے۔  و اللّٰہ  تَعَالٰی اعلم (فتاویٰ رضویہ ، ۲۲/ ۱۹۹)

        حضرت امام اِبنِِ حَجَر مَکِّی شَافَعِی عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی اپنے فتاوٰی میں علامہ ابنُ الحاج مالکی عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ عمامہ باندھنے میں دیگر سنّتوں کا بھی اِلتِزام کیا جائے جیسے سیدھی جانب سے شروع کرنا، بِسْمِ  اللّٰہ  پڑھنا ، لباس کی دعا پڑھنا نیز عمامہ کی متعلقہ سنّتوں مثلاً تَحنِیک، شملہ چھوڑنا اور سات ہاتھ یا اس کے برابر ہونا۔  پس لازم ہے کہ شلوار بیٹھ کر پہنو اور عمامہ کھڑے ہو کر باندھو۔  (الفتاوی الفقہیۃ الکبرٰی، ۱/ ۱۶۹ ملتقطاً)

عمامہ کھڑے ہو کر باندھئے

       میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! عمامہ شریف کھڑے ہو کر باندھنا چاہئے ، مسجد میں باندھیں یا گھر میں ۔  چنانچہ بَدرُالفُقَہاء حضرت علامہ مفتی محمد اجمل قادری رضوی عَلیْہِ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  الْقَوِی لکھتے ہیں :  عمامہ کھڑے ہو کر باندھا جائے ، مَوَاہِبِ لَدُنیَہ شریف میں ہے :  فَعَلَیکَ بِاَن تَتَسَروَلَ قَاعِداً وَ تَتَعَمَّمَ قَائِماً یعنی تجھ پر لازم ہے کہ پاجامہ بیٹھ کر پہن اور عمامہ کھڑے ہو کر باندھ ۔ (المواہب اللدنیۃ بالمنح



[1]      ترجمہ :اے اللّٰہ! تمام تعریفیں تیرے ہی لئے ہیں، تو نے ہی مجھے یہ لباس پہنایا ۔میں تجھ سے اس کی بھلائی کی التجا کرتا ہوں اور جس مقصدکے لئے اسے بنایا گیا ہے اس کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں، اور میں تجھ سے اس کے شر اور جس مقصد کے لئے اسے بنایا گیا ہے اس کے شر سے پناہ مانگتا ہوں۔



Total Pages: 101

Go To