Book Name:Imamay kay Fazail

        دارالعلوم مُعِینیہ عثمانیہ اَجمیر شریف کے ایک امتحان کے موقع پر سابق صدر امور مذہبی حیدر آباد دکن نے اکابر علماء حضرت مولانا پیر سیّد مہر علی شاہ گولڑوی ، استاذالعلماء مولانا مشتاق احمد کانپوری ، حضرت مولانا سیّد سلیمان اشرف چیٔرمین اسلامک اسٹڈیز مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے دریافت کیا کہ حضورِ انور صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَ اٰلہٖ وَ سَلَّم کے عمامہ شریف میں کتنے پیچ ہوتے تھے۔  مولانا سیّد سلیمان اشرف نے فرمایا : ’’ اس کا جواب صرف مولانا شاہ احمد رضا بریلوی قُدِّسَ سِرُّہُ دیتے مگر افسوس کہ وہ اب اس دنیا میں نہیں ۔ ‘‘ مولانا کے اس فرمان کی تمام علماء نے تائید کی ۔

 (مکتوبات امام احمد رضا بریلوی ، ص ۱۸ ملخصا)

عمامہ کتنا بڑا ہونا چاہئے؟

        میرے آقا اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان عَلَیہ رَحمَۃُ الرَّحمٰن ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں :  ’’ عمامہ میں سنّت یہ ہے کہ ڈھائی گز سے کم نہ ہو ، نہ چھ گز سے زیادہ۔ ‘‘

 (فتاویٰ رضویہ، ۲۲/ ۱۸۶)

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بسا اوقات عمامہ شریف نہ ہونے کی صورت میں کچھ لوگ سر پر رومال یا اسی طرح کا کوئی کپڑا لپیٹ لیتے ہیں اس کے متعلق اعلیٰ حضرت عَلَیہ رَحمَۃُرَبِّ العِزَّت فرماتے ہیں :  ’’ رومال اگر بڑا ہو کہ اتنے پیچ آ سکیں جو سر کو چھپا لیں تو وہ عمامہ ہی ہو گیا اور چھوٹا رومال جس سے صرف دو ایک پیچ آ سکیں لپیٹنا مکروہ ہے اور بغیر ٹوپی کے عمامہ بھی نہ چاہئے نہ کہ رومال۔  حدیث میں ہے :  فَرقُ مَا بَینَنَا وَ بَینَ المُشرِکِینَ العَمَائِمُ عَلَی القَلَانِس (ابواداؤد، کتاب اللباس، باب فی العمائم، ۴/ ۷۶، حدیث : ۴۰۷۸) یعنی :  ہم میں اور مشرکوں میں ایک فرق یہ ہے کہ ہمارے عمامے ٹوپیوں پر ہوتے ہیں ۔  و اللّٰہ  تَعَالٰی اعلم(فتاویٰ رضویہ ، ۷/ ۲۹۹)

        امامِ اہلسنّت، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان عَلَیہ رَحمَۃُ الرَّحمٰن کےاس فتوے کو خلیفۂ اعلیٰ حضرت ، صدرالشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی کے فتوے سے بآسانی سمجھا جا سکتا ہے چنانچہ ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں :  ’’تین پیچ اگر اس کپڑے سے لپیٹے جائیں تو عمامہ کے حکم میں ہے ورنہ کچھ نہیں ۔ ‘‘ (فتاویٰ امجدیہ، ۱/ ۱۹۹)

        حضرت علامہ امام اِبنِِ حَجَر مَکِّی عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی عمامہ شریف کی مقدار کے متعلق سوال کے جواب میں فرماتے ہیں :  عمامہ شریف کی وہ مقدار کہ جس سے حدیث میں مذکور عمامہ کی فضیلت حاصل ہو یہ ہے کہ جسے عُرف میں عمامہ کہا جائے چاہے اس کی مقدار قلیل ہو یا کثیر ، عمامہ شریف باندھنے کا ثواب ملے گا۔  مزید حضرت علامہ ابنُ الحاج مالکی عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ ٹوپی پہننے سے عمامے کا ثواب نہیں ملے گا کیونکہ اسے عرف میں عمامہ نہیں کہا جاتا۔  (الفتاوی الفقہیۃ الکبرٰی، ۱/ ۱۶۹ ملتقطاً)

       صدرالشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی اپنی مشہورِ زمانہ تالیف بہارِ شریعت میں مِرقَاۃ شرح مِشکوٰۃ کے حوالے سے لکھتے ہیں :  حضورِ اَقدَس صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَسَلَّم کا چھوٹا عمامہ سات ہاتھ کا اور بڑا عمامہ بارہ ہاتھ (یعنی چھ گز) کا تھا۔  (مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، کتاب اللباس ، الفصل الثانی، ۸/ ۱۴۸، تحت الحدیث : ۴۳۴۰) مزید فرماتے ہیں :  بس اسی سنّت کے مطابق عمامہ رکھے، اس (یعنی چھ گز) سے زیادہ بڑا نہ رکھے۔  بعض لوگ بہت بڑے عمامے باندھتے ہیں ، ایسا نہ کرے کہ سنّت کے خلاف ہے۔  مارواڑ(1) کے علاقے میں بہت سے لوگ پگڑیاں باندھتے ہیں ، جو بہت کم چوڑی ہوتی ہیں اور چالیس پچاس گز لمبی ہوتی ہیں ، اس طرح کی پگڑیاں مسلمان نہ باندھیں ۔  (بہارِ شریعت، ۳/ ۴۱۹)

عمامہ کی چوڑائی

       خاتِمُ المُحَدِّثین، حضرتِ علّامہ شیخ عبدُالحقّ مُحَدِّث دِہلوی عَلَیہ رَحمَۃُ  اللّٰہ  الْقَوِی فرماتے ہیں :  عمامے کی چوڑائی نصف ہاتھ تک ہونی چاہئے یا اس سے کچھ کم یا زیادہ۔  اس کمی بیشی میں کوئی حرج نہیں ۔(کشف الالتباس فی استحباب اللباس، ذکر عمامہ، ص۳۸)

آقا صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم عمامہ کس طرح باندھتے؟

        حضرت سیّدنا ابوعبدالسلام رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سیّدنا عبد اللّٰہ  ابن عمر رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہُما سے دریافت کیا کہ رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم عمامہ شریف کس طرح باندھتے تھے؟ تو آپ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہُما نے فرمایا کہ نبیٔ اکرم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم عمامہ شریف کے کپڑے کو سر پر گول گھما کر لپیٹتے اور اس کے ایک سرے کو پیچھے کی جانب گُھرس لیا کرتے، جبکہ شملہ دونوں کندھوں کے درمیان لٹکاتے تھے۔  (شعب الایمان، باب فی الملابس الخ، فصل فی العمائم، ۵/ ۱۷۴، حدیث :  ۶۲۵۲، مجمع الزوائد، کتاب اللباس، باب ما جاء فی العمائم، ۵/ ۲۱۰، حدیث : ۸۵۰۱)

کس طرح نہ ہو منبعٔ انوار عمامہ

پہنے ہوئے ہیں سیّدِ ابرار عمامہ

       حضرت سیّدنا اَ بُوکَبشَہ اَنمَارِی رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :  کَانَت عِمَامۃُ رَسُولِ  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  عَلَیہِ وَسَلَّم بُطْحَۃً تَعنِی لَاطِئَۃً یعنی رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عمامہ شریف سرِ اقدس سے بالکل ملا ہوتا تھا۔  (یعنی اونچا اور اُبھرا ہوا عمامہ شریف نہ باندھتے تھے)

 (جامع الاصول فی احادیث الرسول، الکتاب الاول فی اللباس الخ، الفصل الاول فی آداب اللبس الخ ، النوع الاول فی العمائم الخ، ۱۰/ ۵۸۳، حدیث :  ۸۲۴۲)

        مُحَقِّق عَلَی الِاْطلاق ، خاتِمُ المُحَدِّثین، حضرتِ علّامہ شیخ عبدُالحقّ مُحَدِّث دِہلوی عَلَیہ رَحمَۃُ  اللّٰہ  الْقَوِی فرماتے ہیں :  ’’وطریق عمامہ بستن آنحضرت صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم گرد بود گنبد نما چنانچہ علماء و شرفاء عرب بآں دستور می بندند‘‘ یعنی نبیٔ اکرم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم عمامہ شریف اس طرح باندھتے کہ وہ گول گنبد نما ہوتا (یعنی عمامہ کی شکل گنبد نما ہوتی) چنانچہ علماء و شرفائے عرب اسی طرح عمامہ باندھتے ہیں ۔  (کشف الالتباس فی استحباب اللباس، طریق عمامہ بستن، ص ۴۰)

 اعلٰی حضرت کا عمامہ باندھنے کا انداز

        میرے ا ٓقائے نعمت، سرکارِ اعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنّت مولانا شاہ احمد رضا خان عَلَیہ رَحْمَۃُ الرَّحمٰن فرماتے ہیں :  ’’اس (عمامے) کی بندش گنبد نما ہو جس طرح فقیر باندھتا ہے۔ ‘‘

 (فتاویٰ رضویہ، ۲۲/ ۱۸۶)

 



Total Pages: 101

Go To