Book Name:Imamay kay Fazail

سائے کا پتہ نہیں ، حساب کا دَغدَغَہ (یعنی خوف) ، مَلِکِ قہار کا سامنا ، عالَم اپنی فکر میں گرفتار ہو گا ، مجرمانِ بے یار دامِ آفت کے گرفتار، جدھر جائیں گے سو ا نَفسِی نَفسِی اِذھَبُوا اِلٰی غَیرِی (مسلم ، کتاب الایمان ، باب اثبات الشفاعۃ الخ، ۱/ ۱۸۴) کچھ جواب نہ پائیں گے ،  اس وقت یہی محبوبِ غمگسار کام آئے گا ، قفل شفاعت اس کے زورِ بازو سے کُھل جائے گا ، عمامہ سرِاَقدس سے اتاریں گے اور سربسجود ہوکر ’’یَارَبِّ اُمَّتِی‘‘ فرمائیں گے ۔  (فتاویٰ رضویہ ، ۳۰/ ۷۱۷)

        اَحادِیث و شَمائِل اور سیرت کی کُتُب میں آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے عمامۂ خوشبودار کا مُفَصَّل بیان موجود ہے کہیں حضور عَلَیہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے عمامہ شریف کی لمبائی کا ذکر ہے تو کہیں باندھنے کا اَنداز لکھا ہوا ہے ۔  کہیں عمامہ شریف کے شملے کا ذکرِ خیر ہے تو کہیں آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے عمامہ مبارک کے مختلف رنگوں کو بیان کیا گیا ہے ۔  سب سے پہلے پیارے آقا صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے عمامہ شریف کی لمبائی کا ذکر کیا جارہا ہے۔  

آقا صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے عمامہ مبارک کی لمبائی

       حُضورِ پُرنور ، شَافِعِ یَومُ النُّشُور صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عمامہ مبارک کتنے گز کا تھا اس کے متعلق علمائے کرام و مُحدثینِ عُظّام میں اختلاف ہے۔  بعض علماء و محدثین فرماتے ہیں کہ اس بارے میں کوئی مقدار مُعَیَّن نہیں ہے ، جبکہ بعض نے عمامہ مبارک کی لمبائی بیان فرمائی ہے ۔  چنانچہ میرے آقا اعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنّت، مجدِّدِ دین و ملّت مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیہ رَحْمَۃُ الرَّحمٰن ایک سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں :  ’’عمامہ اَقدس کے طول میں کچھ ثابت نہیں ۔  امام ابن الحاج مکی رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں ’’سات ہاتھ یا اس کے قریب تھا‘‘ اور حفظِ فقیر میں کلماتِ علماء سے ہے کہ کم از کم پانچ ہاتھ ہو اور زیادہ سے زیادہ بارہ ہاتھ اور شیخ عبدالحق کے رسالہ لباس میں اکتیس ہاتھ تک لکھا ہے اور ہے یہ کہ یہ امر عادت پر ہے جہاں علماء وعوام کی جیسی عادت ہو اور اس میں کوئی مَحذُورِ شرعی (یعنی منع ہونے کی شرعی وجہ) نہ ہو اُس قدر اختیار کریں ۔  فَقَد نَصَّ العُلَمَائُ اَنَّ الْخُرُوجَ عَنِ العَادَۃِ شُہرَۃٌ وَمَکرُوہٌ۔  (الحدیقہ الندیۃ شرح الطریقہ المحمدیہ ، الصنف التاسع، ۲/ ۵۸۲) و اللّٰہ  تعالٰی اعلم۔  اہلِ علم نے تصریح کی ہے کہ عادت سے باہر ہونا باعثِ شہرت اور مکروہ ہے۔  و اللّٰہ  تعالٰی اعلم۔  (فتاویٰ رضویہ، ۲۲/ ۱۷۱ملخصاً)

       حضرت عَلَّامہ مُلّا علی قاری عَلَیہ رَحمَۃُ اللّٰہ  الْبَارِی بعض محدثین سے نقل فرماتے ہیں کہ نبیٔ اکرم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے عمامہ شریف کی لمبائی یا چوڑائی کے متعلق ہمیں کوئی معلومات نہ مل سکی۔  (المقالۃ العذبۃ فی العمامۃ و العذبۃ، ص ۱۲) چند سطور بعد مزید فرماتے ہیں باقی رہا عمامہ کا طول و عرض تو اس کے متعلق حضرت سید جمال الدین مُحَدِّث رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنی کتاب ’’رَوضَۃُ الاَحبَاب‘‘ میں بیان کیا ہے کہ احادیث و سیرت کی کتب میں اس کی تصریح نہیں ملتی۔  لیکن ہمارے بعض علمائے حنفیہ نے ذکر فرمایا کہ ’’جو عمامہ آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ہمیشہ زیبِ سر فرماتے تھے وہ سات ذِرَاع کا تھااور جمعہ اور عیدین کے موقع پر بارہ ذِرَاع کا ہوتا۔ ‘‘ اس کی تائید امام جَزَرِی عَلَیہ رَحمَۃُ  اللّٰہ  الْقَوی کے قول سے بھی ملتی ہے جوا نہوں نے ’’ تَصحِیحُ المَصابِیح‘‘ میں بیان کیا ہے کہ میں نے کُتُب ِتاریخ و سِیَر کا مطالعہ اس لئے کیا تاکہ معلوم کر سکوں کہ آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے عمامہ شریف کی مقدار کیا تھی؟ مگر معلوم نہ ہو سکا، حتی کہ میرے بڑے مُعتَمَد اور ثِقَہ ساتھی نے بیان کیا کہ امام محی الدین نَوَوِی عَلَیہ رَحمَۃُ اللّٰہ  الْقَوی نے ذکر کیا ہے کہ نبیٔ اکرم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے دو عمامے تھے (1) چھوٹا عمامہ اور ( 2) بڑا عمامہ۔  چھوٹا عمامہ سات ذراع کا اور بڑا بارہ ذِرَاع کا ہوتا تھا۔  آپ مزید فرماتے ہیں کہ اس مذکورہ کلام سے معلوم ہوا کہ طول و عرض کے معاملہ میں ایسا کوئی کلام نہیں جس پر اعتماد کیا جاسکے لہٰذا عمامے کی لمبائی اپنے رہائشی علاقے کے علماء کی غالب اکثریت کی عادت کے مطابق رکھنی چاہیے۔  

حضور عَلَیہ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کا عمامہ درمیانہ تھا

        حضرت علامہ مُلَّا علی قاری عَلَیہ رَحمَۃُ اللّٰہ  الْبَارِی آخر میں فرماتے ہیں :  اس مذکورہ بالا کلام سے اِجمالی طور پر یہ بھی معلوم ہو گیا کہ آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ  وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عمامہ شریف نہ تو اتنا بڑا ہوتا کہ سر مبارک کو تکلیف دے اور اسے باندھنا اور سنبھالنا تکلیف دہ ہو جیسا کہ ہمارے زمانے میں دیکھا جا سکتا ہے اور نہ ہی اتنا چھوٹا ہوتا کہ گرمی، سردی سے سر کی حفاظت نہ کرسکے، بلکہ عمامہ مبارک درمیانہ ہوتا تھا۔  (المقالۃ العذبۃ فی العمامۃ و العذبۃ، ص ۱۴)

        مُحَقِّق عَلَی الِاْطلاق ، خاتِمُ المُحَدِّثین، حضرتِ علّامہ شیخ عبدُالحقّ مُحَدِّث دِہلوی عَلَیہ رَحمَۃُ  اللّٰہ  الْقَوِی فرماتے ہیں :  ’’کہا گیا ہے کہ رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا گھر میں باندھنے کا عمامہ شریف سات یا آٹھ ذِرَاع (گز) کا ہوتا جبکہ پانچوں نمازوں کے وقت بارہ گز، عید کے روز چودہ گز اور جنگ میں پندرہ گز تک کا عمامہ مبارک زیبِ سر فرماتے۔ ‘‘

(کشف الالتباس فی استحباب اللباس، ذکر عمامہ، ص ۳۸)

        یاد رہے!  ایک ذراع (ہاتھ) چوبیس انگلیوں کی تعداد کے برابر ہے جو موجودہ پیمانوں کے لحاظ سے تقریباً ڈیڑھ فٹ بنتا ہے۔  اس طرح سات ہاتھ والا عمامہ ساڑھے تین گز جبکہ بارہ ہاتھ لمبی مقدار چھ گز بنے گی، جبکہ میٹروں میں بالترتیب سوا تین اور ساڑھے پانچ گز تقریباًہو گی۔  (سبز عمامے کی برکتوں سے کذاب جل اٹھے، ص ۴۵)

کیا عمامے کی ہو بیاں عظمت   تیری نعلین تاجِ سر آقا   

تاجِ شاہی کا میں ، نہیں طالِب   کردو رحمت کی اِک نظر آقا

       اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلسنّت امام احمد رضا خان عَلَیہ رَحمَۃُ اللّٰہ  الرَّحمٰن بھی اوسط (درمیانے سائز) کا عمامہ باندھا کرتے تھے۔  (امام احمد رضا اور ردِ بدعات و منکرات، ص ۲۰۰)

        شیخِ طریقت، امیرِاہلِسنّت، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّار قادری رضوی  دَامَت بَرَکَاتُہُمُ العَالیَہ بھی نہ صرف خود درمیانے سائز کا عمامہ شریف باندھتے ہیں بلکہ اپنے بیانات اور مدنی مذاکروں میں بارہا فرماتے ہیں :  بہت بڑا عمامہ نہیں باندھنا چاہئے بلکہ عمامہ شریف درمیانے سائز کا ہو۔  اگر عمامہ شریف بڑا محسوس ہو تو اسے لمبائی میں درمیان سے کاٹ کر دو عمامے بنا لیجئے۔  

آقا کے عمامہ شریف کے پیچ کتنے تھے؟

 



Total Pages: 101

Go To