Book Name:Imamay kay Fazail

       اَ لحَمدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ تبلیغِ قراٰن و سنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے تحت مدارس المدینہ میں تجوید کے ساتھ قراٰنِ مجید حفظ و ناظرہ کی سعادت پانے والے ہزاروں مدنی منّے بھی سبز سبز عمامے سجاتے ہیں ۔  

نبیٔ کریم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے عمامہ شریف کا نام

       پیکرِ اَنوار، تمام نبیوں کے سردار، صاحبِ عمامۂ نور بار صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم مختلف مواقع پر علیحدہ علیحدہ عمامہ شریف استعمال فرمایا کرتے تھے نیز آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی عادتِ مبارکہ تھی کہ اپنے استعمال کی اشیاء کے مختلف نام رکھ دیا کرتے تھے جیسا کہ آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی ایک تلوار کا نام اَلبَتَّار اور دوسری کا نام ذوالفقار تھا۔

  (خلاصۃ سیرسیدالبشر، الفصل الثانی والعشرون فی ذکر سلاحہ، ص ۲۵۹، ۲۵۸)

       اسی طرح آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اپنے عمامہ شریف کا بھی نام رکھا ہوا تھا چنانچہ

       مُقَرِّظِ دَولَۃُ المَکِّیَّہ([1])، فَنَا فِی الرَّسُول ، حضرت علامہ یوسف بن اسماعیل نَبہَانی قُدِّسَ سِرُّہُ السَّامِی فرماتے ہیں :  نبیٔ اکرم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے عمامے شریف کا نام’’ سَحاب ‘‘ تھا جو آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیّدنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ  اللّٰہ  تَعَالٰی وَجہَہُ الکَرِیم کو عطا فرما دیا تھا۔

(وسائل الوصول الی شمائل الرسول، الباب الثّالث فی صفۃ لباس رسول  اللّٰہ  صلّی  اللّٰہ  علیہ وسلّم الخ، الفصل الاوّل فی صفۃ لباسہ الخ، ص ۱۱۹)

شان کیا پیارے عمامے کی بیاں ہو یانبی

تیری نعلِ پاک کا ہر ذرَّہ رشکِ طور ہے

        حضرت سیّدنا عبد اللّٰہ  بن محمد بن جعفر اَصبَہَانی روایت نقل فرماتے ہیں کہ نبیٔ اکرم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیّدنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ  اللّٰہ  تَعَالٰی وَجہَہُ الکَرِیم کو (اپنا) عمامہ پہنایا جسے سحاب کہا جاتا تھا ۔  حضرت سیّدنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ  اللّٰہ  تَعَالٰی وَجہَہُ الکَرِیم وہی عمامہ شریف سجائے حاضرِ بارگاہ ہوئے تو آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَ اٰلہٖ وَ سَلَّم نے صحابۂ کرام عَلَیہِمُ الرِّضوَان  سے فرمایا ہٰذَا عَلِیٌّ قَد اَقبَلَ فِی السَّحَابِ یعنی یہ علی ہیں جو کہ’’ سحاب‘‘ میں آئے ہیں ۔  (اخلاق النبی و آدابہ ، ذکر عمامتہ  صَلَّی  اللّٰہ  علیہ وسلَّم، ص ۶۹، حدیث : ۲۹۷)

        تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نبوت صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَ اٰلہٖ وَ سَلَّم عمامہ شریف کے نیچے ٹوپی پہنا کرتے تھے اور (کبھی کبھار) بغیر عمامہ کے صرف ٹوپی بھی پہن لیا کرتے تھے۔  کبھی ایسا ہوتا کہ سرِ اقدس سے ٹوپی اتار کر اپنے آگے سُترہ (یعنی آڑ) بناتے اور پھر اس کے سامنے نماز ادا فرماتے اور اگر کبھی عمامہ شریف موجود نہ ہوتا تو مُقَدَّس سر اور مبارک پیشانی پر رومال باندھ لیا کرتے تھے۔  

(احیاء علوم الدین، کتاب آداب المعیشۃ و اخلاق النبوۃ، بیان آدابہ و اخلاقہ فی اللباس ، ۲/ ۴۶۲)

حضورکا نورانی عمامہ

        امیرالمؤمنین حضرت سیّدنا عثمان غنی رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کی شہادت کے بعد حضرتِ سیّدنا عبد اللّٰہ  ابن عباس رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہُما نے ایک خواب دیکھا چنانچہ آپ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہُما ارشاد فرماتے ہیں : میں نے حضورِاکرم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو خواب میں ایک چتکبرے گھوڑے پر سوار کہیں تشریف لے جاتے دیکھا۔  آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سرِ انور پر نورانی عمامہ شریف جگمگارہا تھا۔  قَدَمَین شَرِیفَین میں سبزگھاس سے بنے ایسے مبارک جوتے پہن رکھے تھے جن کے تَسمے چمکدار موتیوں سے مُزَیَّن تھے نیز آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جنّتی درخت کی ایک شاخ بھی تھام رکھی تھی ۔  میں نے سرکارِ مدینہ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں سلام عرض کیا۔  آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جواب عنایت فرمایا۔ پھر میں نے عرض کی :  یارسول  اللّٰہ ! (صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) میرے ماں باپ آپ پر قربان ، میں آپ کی زیارت کے لیے بے تاب ہوں جبکہ آپ جلدی میں کہیں تشریف لے جا رہے ہیں ؟ یہ سن کر نبیٔ پاک صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میری طرف متوجہ ہوئے اور مسکرا کر ارشاد فرمایا :  بیشک عثمان (رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ )کو جنت میں عالیشان دولہا بنایا گیا ہے، میں اسی دعوت میں جارہاہوں ۔

  (الریاض النضرۃ فی مناقب العشرۃ، ذکر لعن قتلۃ عثمان ودعائہ علیہم، ۱/ ۲۳۰)

پیچ کرتا ہے فدا ہونے کو لمعَہ نور کا

گِردِ سر پھرنے کو بنتا ہے عمامَہ نور کا

عید کے دن عمامہ شریف

       حضرت سیّدنا جَعْفَر بن مُحَمَّد رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ کہتے ہیں :  کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی  اللّٰہ  عَلَیہِ وَ سَلَّم یَعْتَمُّ فِی کُلِّ عِید یعنی :  نبیٔ کریم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہر عید پر عمامہ شریف باندھا کرتے تھے۔

  (سنن کبری للبیہقی، کتاب صلاۃ العیدین، باب الزینۃ للعید، ۳/ ۳۹۷، حدیث : ۶۱۳۸)

قیامت میں سرِاقدس پر عمامہ

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! عمامہ شریف کی سنّت  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں کس قدر مقبول ہے کہ بروزِ محشر بھی اپنے پیارے محبوب صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَ اٰلہٖ وَ سَلَّم کو عمامہ شریف سے مُشَرَّف فرمائے گا چنانچہ

        اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلسنّت امام احمد رضا خان عَلَیہ رَحمَۃُ اللّٰہ  الرَّحمٰن فرماتے ہیں :  قیامت کے روز کہ عجب سختی کا دن ہے ، تانبے کی زمین ، ننگے پاؤں ، زبانیں پیاس سے باہر، آفتاب سروں پر،



    1یعنی دَولَۃُ المَکِّیَّہ کی تائید اور اس کے مصنف کی تعریف کرنے والے۔ دَولَۃُ المَکِّیَّہ امامِ اہلسنّت سیدنا اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان عَلیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کی نبی ٔ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے علمِ غیب پر وہ معرکۃ الآرا کتاب ہے جو آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے مکۃ المکرمہ کے علماء و مفتیانِ کرام کے کہنے پر بغیر کتابوں کے فقط اپنی قوتِ حافظہ سے عربی زبان میں صرف آٹھ گھنٹوں میں لکھی تھی۔ اس کتاب کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس پر81 عرب علماء و مفتیانِ کرام کی تقاریظ ہیں۔(تاریخ لدولۃ المکیۃ ،ص ۹۸)   



Total Pages: 101

Go To