Book Name:Imamay kay Fazail

کیا عمامہ صرف علماء ہی باندہیں ؟

        حضرت علامہ مفتی محمد وقارُا لدین قادری رضوی عَلیْہِ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  الْقَوِی ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں :  عمامہ صرف علماء و مشائخ ہی کے لئے نہیں بلکہ تمام مسلمانوں کے لئے سنّت ہے اور عمامہ کی فضیلت اور عمامہ باندھ کر نماز پڑھنے کی فضیلت احادیث میں بیان کی گئی ہے اس لئے ہر بالغ مرد کے لئے عمامہ باندھنا ثواب کا کام ہے اور اچھے کام کی عادت ڈالنے کے لئے بچوں کو بھی اس کی تعلیم دینی چاہئے۔  (وقارالفتاوی ، ۲/ ۲۵۲)

       بَحرُالعُلُوم حضرت علامہ مفتی عبدالمنان اعظمی  عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی ایک سوال (عام مسلمان یعنی غیر عالم کو عمامہ باندھنا سنّت ہے یا نہیں ؟) کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں :  ہر مسلمان چاہے عالم ہویا غیرِ عالم اسے عمامہ باندھنا سنّت ہے، امام بیہقی رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ نے شُعَبُ الایمَان میں حضرت (سیّدنا) عُبادہ بن صامِت رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کی کہ رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ عمامہ باندھنا اِختیار کرو کہ یہ فرشتوں کا نشان ہے، اور اس کو پیٹھ کے پیچھے لٹکالو۔  (شعب الایمان، باب فی الملابس ، فصل فی العمائم، ۵/ ۱۷۶، حدیث : ۶۲۶۲، بہار شریعت ، ۳/ ۴۰۴) اسی میں (صفحہ ۴۱۸) میں ہے کہ عمامہ باندھنا سنّت ہے۔  ان احکام سے یہی ظاہر ہے کہ مسلمان خواہ عالم ہو یا چاہے جاہل سب کو عمامہ باندھنے کا حکم ہے۔  (فتاویٰ بحرالعلوم، ۵/ ۴۱۱)

عمامہ کس عمر میں باندھا جائے؟

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یقینا عمامہ شریف کے فضائل جان کر تو بچّے ، بوڑھے ، جوان سبھی کا عمامہ سجانے کو جی چاہتا ہے لیکن بعض اوقات گھر میں مدنی منّے عمامہ سجانے کا کہتے ہیں تو انہیں منع کر دیا جاتا ہے کہ ابھی تمہاری عمامہ باندھنے کی عمر نہیں ہوئی، جب داڑھی آجائے تو عمامہ باندھنا۔  حالانکہ یہ خیال درست نہیں کیونکہ عمامہ شریف باندھنے کی شرعی طور پر کوئی عمر مقرر نہیں کی گئی بلکہ ہمارے پیارے پیارے آقا، مدینے والے مصطفی صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے خود اپنے مبارک ہاتھوں سے ایک حقیقی مدنی منّے کے سر پر عمامہ شریف باندھا تھا چنانچہ

مَدَنی منّے کی دستار بندی

       حضرت علامہ احمد بن علی بن حجر عسقلانی عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی نقل فرماتے ہیں کہ حضرت قُرْط ( یا قُرَیط) بن ابو رِمثَہ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنہ نے اپنے والد کے ہمراہ (مدینۂ مُنَوَّرَہ) ہجرت کی، جب یہ لوگ نبیٔ اکرم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ابورِمثَہ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنہ سے فرمایا :  یہ تمہارا بیٹا ہے ؟ ابو رِمثَہ نے عرض کی :  جی ہاں میں اس کا گواہ ہوں ، آپ نے فرمایا یہ تجھ پر اِلزام نہیں لگائے گا نہ اس پر اِلزام ہوگا اور حضور صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت قُرط رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنہ کو بلا کر اپنی گود میں بٹھایا، ان کے لیے برکت کی دعا کی، سر پر ہاتھ پھیرا اور انہیں سیاہ عمامہ شریف باندھا۔  (الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ، حرف القاف، القسم الثانی فی ذکر من لہ رؤیۃ ، ۵/ ۳۹۱، رقم :  ۷۲۸۸)

مدینہ شریف کے باعمامہ مدنی منّے

       حضرت سیّدنا ابراہیم بن سعد عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  الاَحَد فرماتے ہیں :  میرے والد صاحب کے اس اس طرح کے عمامے تھے میں ان کی تعداد نہیں جانتا۔  والد صاحب نہ صرف خود عمامہ شریف پابندی سے باندھتے تھے بلکہ مجھے بھی عمامہ باندھا کرتے تھے حالانکہ میں ابھی بَچّہ ہی تھا۔  (آپ مزید فرماتے ہیں کہ) میں بچّوں کو عمامے سجائے دیکھا کرتا تھا۔  

(طبقات ابن سعد ، الطبقۃ الرابعۃ من التابعین من اہل المدینۃ، ۵/ ۳۴۸)

امام مالک کا بچپن سے عمامہ باندھنا

       حضرت سیّدنا عبد العزیز اویسی عَلَیہ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی فرماتے ہیں :  امام مالک رَحمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ نے فرمایا :  ہمیں عمامہ شریف باندھنا ترک نہیں کرنا چاہئے اور میں تو اس وقت سے عمامہ شریف باندھ رہا ہوں جب کہ میرے چہرے پر ایک بال بھی نہیں آیا تھا۔  (تاریخ اسلام ، ۸/ ۴۲۱، فیض القدیر، حرف الصاد، ۴/ ۲۹۷، تحت الحدیث :  ۵۱۰۱)

       خلیفۂ اعلیٰ حضرت ، حضرت علامہ عبدالحی کَتَّانی رَحمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ فرماتے ہیں :  اہلِ حجاز اب بھی چھوٹے بچوں کو عمامہ باندھتے ہیں ، گویا یہ ان کا زمانہ قدیم سے دَستُور چلا آ رہا ہے، مزید فرماتے ہیں مدارک میں ہے حضرت سیّدنا ابو مُصعَب رَحمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ نے فرمایا :  میں نے حضرت سیّدنا امام مالک عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  الْخَالِق کو فرماتے سنا آپ نے فرمایا مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میں اس وقت سے عمامہ شریف باندھ رہا ہوں جبکہ میرے چہرے پر ایک بال بھی نہ آیا تھا۔  ہم میں سے ہر ایک رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تعظیم و عظمت کے پیشِ نظر عمامہ شریف باندھ کر ہی مسجد ِ نبوی زَادَھَا  اللّٰہ  شَرَفاً وَّ تَعْظِیْماً میں داخل ہوتا تھا۔  (نظام حکومۃ النبویۃ، باب فی تعمیم الامام للصبی، ۱/ ۲۶۷ ملتقطًا)

عمامے کی بچپن سے عادت ڈالئے

       بَحرُالعُلُوم حضرت علامہ مفتی عبدالمنان اعظمی  عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی سے بچوں کے عمامہ باندھنے کے متعلق کیے گئے سوال و جواب ذیل میں مذکور ہیں چنانچہ

(۱) بچوں کو عمامہ باندھنا کیسا ہے؟

(۲) ایک صاحب نے بچوں کے سر سے عمامہ اتروادیا اور کہا کہ بچوں کو عمامہ نہیں باندھنا چاہیے۔  

الجواب :  عمامہ باندھنا سنّت ہے، تو بچپن سے ہی اس کی عادت ضرور ڈالنی چاہیے جس نے بچوں کا عمامہ کُھلوا دیا اس سے پوچھئے یہ کہاں لکھا ہے اور مجبور کیجئے کہ اپنی بات قرآن و حدیث یا اقوالِ فُقَہاء سے ثابت کرے تو اسے پتا چلے گا کہ بے علم کا فتویٰ بتانا کتنی بڑی جہالت ہے۔  غالباً شَرحُ شِرعَۃِ الاِسلام ([1]) میں لکھا ہے : ’’ لُبسُ العِمَامَۃِ حِلمٌ وَ وَقَارٌ وَ ھِیَ تِیجَانُ العَرَب‘‘ عمامہ کاپہننا حلم و وقار ہے، اور یہ اہلِ عرب کا تاج ہے ، عمامہ عرب والوں کا مخصوص لباس ہے اور حضور صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ واٰلہ وَسَلَّم نے اسے فرشتوں کا لباس بتایا ہے، الغرض ان روایتوں سے عمامہ کی فضیلت مطلقاً ثابت ہوتی ہے اور بچوں کو عمامہ نہ پہنانے کی کوئی روایت نہیں ہے۔  و اللّٰہ  تَعَالٰی اعلم (فتاویٰ بحرالعلوم، ۵/ ۴۱۱ تا ۴۱۳)

 



مفاتیح الجنان شرح شرعۃ الاسلام ، فصل فی سنن اللباس الخ ، ص ۳۱۸     [1]



Total Pages: 101

Go To