Book Name:Imamay kay Fazail

       حضرت علامہ عبد الرء وف مناوی عَلَیہ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی اس حدیث پاک کی شرح میں فرماتے ہیں :  حدیث شریف میں جو عمامے کا فرمایا گیا ہے اس سے مراد وہ عمامہ ہے کہ جسے عرفِ عام میں عمامہ کہا جاتا ہے ۔  اگر کسی نے ٹوپی یا اسی طرح کی کوئی اور چیز پہن کر نماز پڑھی تو وہ اس فضیلت کا حقدار نہیں ہو گا۔  (فیض القدیر، حرف الصاد، ۴/ ۲۹۷، تحت الحدیث :  ۵۱۰۱)     

        حضرت علامہ سید محمد بن جعفر کَتَّانی رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ لکھتے ہیں :  عارف ب اللّٰہ  حَفنِی عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی فرماتے ہیں کہ ان احادیث میں تین عدد (پچیس ، ستر، اور دس ہزار ) کا ذکر فرمایا گیا اس سے معین عدد مراد نہیں بلکہ کثرتِ ثواب مراد ہے۔  (الدعامۃ فی احکام سنۃ العمامۃ ، ص ۹)

اعلٰی حضرت اور سنّتِ عمامہ

       اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلسنّت ، مجدِّدِ دین و مِلَّت شاہ امام احمد رضا خان عَلَیہ رَحمَۃُ اللّٰہ  الرَّحمٰن عمامے سے اس قدر محبت فرماتے تھے کہ کبھی فرض نماز بغیر عمامے کے ادا نہ فرمائی ، چنانچہ خَیرُالاَذکِیَاء ، صدر مدرس الجامعۃ الاشرفیہ ہند حضرت علامہ محمد احمد مِصباحی مُدَّظِلُّہُ العَالِی  لکھتے ہیں :  امام احمد رضا (رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ ) باوجودیکہ بہت حارّ (گرم) مزاج تھے مگر کیسی ہی گرمی کیوں نہ ہو ہمیشہ دستار (عمامے) اور اَنگَرکھے([1]) کے ساتھ نماز پڑھا کرتے تھے خصوصاً فرض تو کبھی صرف ٹوپی اور کُرتے کے ساتھ ادا نہ کیا۔  (امام احمد رضا اور ردِ بدعات و منکرات، ص ۶۲)     

امیرِ اہلسنّت کی عمامے سے محبت

        شیخِ طریقت، امیرِ اہلِسنّت، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّار قادری رضوی  دَامَت بَرَکَاتُہُمُ العَالیَہ عمامہ شریف سے بے حد محبت فرماتے ہیں آپ دَامَت بَرَکَاتُہُمُ العَالیَہ ہمیشہ عمامہ شریف ہی سجائے رکھتے ہیں اور نماز تو باعمامہ ہی ادا فرماتے ہیں آپ کی عمامہ شریف سے محبت کا اندازہ اس واقعے سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک مرتبہ رمضان المبارک میں آپ نماز کے لئے جونہی وضو کر کے فارغ ہوئے ادھر اقامت ہو چکی تھی اور عمامہ شریف سجانے کا وقت نہ مل پایا ، آپ دَامَت بَرَکَاتُہُمُ العَالیَہ عمامہ شریف سینے سے لگائے مسجد میں حاضر ہوئے ، عمامہ شریف سامنے رکھا اور تکبیرِ اولیٰ پانے کے لئے جماعت میں شریک ہو گئے۔  امام صاحب نے جونہی سلام پھیرا آپ دَامَت بَرَکَاتُہُمُ العَالیَہ فوراً کھڑے ہوئے اور ہاتھوں ہاتھ عمامہ شریف سجا لیا۔  

       میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! امیرِاہلسنّت دَامَت بَرَکَاتُہُمُ العَالیَہ کے اس واقعے سے ہمیں یہ مدنی پھول ملا کہ عمامہ شریف سجا کر نماز پڑھنا اگرچہ زیادتیٔ ثواب کا باعث ہے لیکن اگر جماعت قائم ہو گئی ہو تو اب ’’اَلاَہَمُّ فَالاَہَمُّ‘‘ (یعنی پہلے جو سب سے اہم ہے اسے کیا جائے اور پھر جو اس کے بعد اہم ہے اس پر عمل کیا جائے) والے قاعدے پر عمل کرنا چاہئے ۔  جیسا کہ امیرِ اہلسنّتدَامَت بَرَکَاتُہُمُ العَالیَہ جماعت قائم ہو جانے کے بعد بلاتاخیر جماعت میں شامل ہو گئے۔  

جمعہ کے دن عمامہ باندھنے کی فضیلت

       میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! روز ِجمعہ عمامہ شریف باندھ کر نمازِجمعہ پڑھنے والوں پر  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں چنانچہ

(1)حضرت  سیّدنا ابودَردَا رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :  اِنَّ  اللّٰہ  تَعَالٰی وَمَلائِکتَہٗ یُصَلُّونَ عَلی اَصْحَابِ العَمائِمِ یَوْمَ الجُمُعَۃِ یعنی بے شک  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ اور اس کے فرشتے جمعہ کے روز عمامہ باندھنے والوں پر درود بھیجتے ہیں ۔  (کنزالعمال، کتاب الصلاۃ، الفصل الثالث فی آداب الجمعۃ، الجز : ۷، ۴/ ۳۰۲، حدیث :  ۲۱۱۶۲، مجمع الزوائد، کتاب الصلاۃ ، باب اللباس للجمعۃ، ۲/ ۳۹۴، حدیث :  ۳۰۷۵)

(2)حضرت  سیّدنا ابو طالب مکی اور سیّدنا امام محمد غزالی ([2]) رَحِمَہُمَا  اللّٰہ  تَعَالٰی نے یہی روایت حضرت سیّدنا وَاثِلہ بن اَ سقَع رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ سے روایت فرمائی ہے۔  (قوت القلوب، الفصل الحادی والعشرون ۱/ ۱۱۹، احیاء علوم الدین، الباب الخامس فضل الجمعۃ الخ، بیان آداب الجمعۃ الخ، ۱/ ۲۴۵)  

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ حدیث پاک میں  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ اور اس کے فرشتوں کا جمعہ کے دن عمامہ شریف باندھنے والوں پر درود بھیجنے کا ذکر ہے یاد رہے اس سے معروف دُرود مراد نہیں بلکہ  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ کا اپنے بندوں پر درود بھیجنے کا مطلب ہے رحمت نازل فرمانا اور فرشتوں کے درود بھیجنے کا مطلب ہے اِستِغفار کرنا (یعنی مغفرت طلب کرنا)۔

 (فتح الباری، کتاب الدعوات، باب الصلاۃ علی النبی، ۱۲/ ۱۳۱)  

        حضرت علامہ محمد بن عمر نَوَوِی شافعی عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی  فرشتوں کے درود پڑھنے کی شرح یوں فرماتے ہیں کہ :  فرشتے عمامے والوں کے لئے برکت کی دعا اور استغفار کرتے ہیں ۔  

(تنقیح القول الحثیث شرح لباب الحدیث ، الباب الثانی عشر فی فضائل العمائم ، ص ۲۲)

(3) حضرت علامہ علی بن سلطان المعروف ملاعلی قاری  عَلَیہ رَحمَۃُ  اللّٰہ  البَارِی عمامہ شریف پر لکھے گئے اپنے رسالے میں روایت نقل فرماتے ہیں :  بے شک  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ اور اس کے فرشتے جمعہ کے روز عمامہ پہننے والوں کے لئے استغفار فرماتے ہیں ۔  (المقالۃ العذبۃ فی العمامۃ و العذبۃ، ص ۱۰، الدعامۃ فی احکام سنۃ العمامۃ، ص ۹)   

جمعہ کے دن عمامہ باندھنے والوں پر فرشتوں کا سلام

(4)حضرت سیّدنا عبد اللّٰہ  ابن عمر رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہُما نے ( اپنے بیٹے سالم سے)فرمایا :  اے فرزند! عمامہ باندھ ! کہ فرشتے جمعہ کے دن عمامے باندھ کر آتے ہیں اور سورج ڈوبنے تک عمامے والوں پر سلام بھیجتے رہتے ہیں ۔  (تاریخ ابنِ عساکر ، ۳۷/  ۳۵۵)

با عمامہ نمازِ جمعہ کی ادائیگی مرحبا

(5)حضرت سیّدنا ابن عمر رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہُما سے روایت ہے کہ رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :  عمامہ کے ساتھ ایک جمعہ بے عمامہ کے ستّر جمعوں کے برابر ہے۔  (جامع صغیر ، حرف الصاد، الجز الثانی، ص ۳۱۴، حدیث : ۵۱۰۱ مختصراً)

 



1     اچکن کی وضع کا ایک بَرکا لباس جسے گھنڈی کے ذریعے گلے کے پاس جوڑ دیتے ہیں ، گرمی میں پہننے کا اکہرا اور جاڑے میں دوہرا روئی دار۔

2    اَ لْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ دعوتِ اسلامی کے علمی و تحقیقی شعبے المدینۃ العلمیہ کے مدنی علماء کو  ان دونوں ہستیوں کی کتب قوت القلوب، احیاء العلوم کا ترجمہ کرنے کی سعادت حاصل ہے۔ 



Total Pages: 101

Go To