Book Name:Imamay kay Fazail

باعمامہ نماز پڑھنے کا ثواب

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! عمامے شریف کی سنّت پر قربان ! اس پر عمل کی برکت سے  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ مومن کے اجرو ثواب میں کئی گنا اضافہ فرمادیتا ہے جیسا کہ اُستَاذُالمُحَدِّثِین حضرت علامہ مفتی وصی احمد مُحدِّثِ سُورَتی عَلَیہ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی  فرماتے ہیں : ’’ نمازباعمامہ (یعنی عمامہ باندھ کر پڑھی گئی نماز ) و نماز بے عمامہ (بغیر عمامے کے پڑھی گئی نماز) دونوں یکساں نہیں بلکہ نماز باعمامہ کو فضیلت ہے اور ثواب اِس کا یقیناً زائد ہے، اس واسطے کہ عمامہ کے ساتھ نماز پڑھنا مستحب ہے اور بلا عمامہ (بغیر عمامے کے ) مخالف ِمستحب اور خلافِ ادب ہے۔ ‘‘ (کشف الغمامہ عن سنیۃ العمامہ ، ص ۲)

         نبیٔ کریم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے عمامہ شریف باندھ کر پڑھی جانے والی نماز کے فضائل میں کئی احادیث ارشاد فرمائی ہیں چنانچہ

(1)حضرت  سیّدنا جابر رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ نبیٔ کریم، رَء ُوف ٌ رَّحیم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :  رَکْعَتَانِ بِعِمامَۃٍ خَیْرٌ مِنْ سَبْعِینَ رَکْعَۃً بِلا عِمامَۃٍ یعنی ایسی دو رکعتیں جو عمامہ باندھ کر پڑھی جائیں وہ بغیر عمامے والی ستر رکعتوں سے بہتر ہیں ۔

 (کنز العمال، کتاب المعیشۃ والعادات، فرع فی العمائم، الجز : ۱۵، ۸/ ۱۳۳، حدیث :  ۴۱۱۳۰ ، جامع صغیر، حرف الراء ، الجزالثانی، ص۲۷۳، حدیث :  ۴۴۶۸)

باعمامہ پڑھی گئی نماز کی افضلیت کی وجہ

       حضرت علامہ عبد الرء وف مناوی عَلَیہ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی اس حدیث پاک کی شرح میں فرماتے ہیں :  عمامہ باندھ کر پڑھی گئی نمازیں ننگے سر پڑھی جانے والی نمازوں سے اس لئے افضل ہیں کہ دراصل نماز بادشاہِ حقیقی عَزَّوَجَلَّ کے رُوبرو ادا کی جاتی ہے اور بغیر زیب و زینت اور خوبصورتی کے اُس کی بارگاہ میں حاضر ہونا خلافِ ادب ہے ۔

  (فیض القدیر، حرف الراء، ۴/ ۴۹ ، تحت الحدیث : ۴۴۶۸)

(2)ایک روایت میں خَیْرٌ کے بجائے اَفضَلُ کے الفاظ ہیں ۔  (فردوس الاخبار ، باب الراء ، فصل رکعتان ، ۱/ ۴۱۰، حدیث : ۳۰۵۴)

باعمامہ نماز دس ہزار نیکیوں کے برابر

(3)حضرت  سیّدنا اَنَس بن مالک رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں :  الصَّلاۃُ فِی العِمَامَۃِ تَعدِلُ بِعَشَرَۃِ آلافِ حَسَنَۃٍ یعنی عمامہ باندھ کر پڑھی گئی نماز دس ہزار نیکیوں کے برابر ہے۔ (فردوس الاخبار، باب الصاد، ۲/ ۳۱، حدیث : ۳۶۲۱ مختصراً)

باعمامہ نماز پچیس بے عمامہ نمازوں کے مساوی

(4)حضرت  سیّدنا میمون بن مہران رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ نے حدیث بیان کی کہ میں حضرت سیّدنا سالم بن عبد اللّٰہ  بن عمر رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہُم کی خدمت میں حاضر ہواتو انہوں نے حدیث اِملا کرائی پھر میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا :  اے ابوایوب! کیا تجھے ایسی حدیث کی خبر نہ دوں جو تجھے پسند ہو، میری طرف سے روایت کرے اور اسے بیان کرے۔  میں نے عرض کیا کیوں نہیں ، تو حضرت سیّدنا سالم بن عبد اللّٰہ  بن عمر رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہُم نے فرمایا میں اپنے والد ماجد حضرت سیّدنا عبد اللّٰہ  بن عمر رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہُما کے حضور حاضر ہوا تو وہ عمامہ شریف باندھ رہے تھے، جب باندھ چکے تو میری طرف اِلتِفات کرکے فرمایا :  تم عمامے کو دوست رکھتے ہو؟ میں نے عرض کی کیوں نہیں ! فرمایا :  اسے (یعنی عمامے کو) دوست رکھو عزّت پاؤ گے اور جب شیطان تمہیں دیکھے گا تم سے پیٹھ پھیر لے گا۔  میں نے رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو فرماتے سنا کہ عمامے کے ساتھ ایک نفل نماز خواہ فرض بے عمامہ کی پچیس نمازوں کے برابر ہے اور عمامہ کے ساتھ ایک جمعہ بے عمامہ کے ستّر جمعوں کے برابر ہے۔  پھر حضرت سیّدنا ابن عمر رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہُما نے فرمایا :  اے فرزند! عمامہ باندھ ! کہ فرشتے جمعہ کے دن عمامے باندھ کر آتے ہیں اور سورج ڈوبنے تک عمامے والوں پر سلام بھیجتے رہتے ہیں ([1]) ([2])۔  (تاریخ ابنِ عساکر، ۳۷/ ۳۵۵ واللفظ لہ ، جامع صغیر، حرف الصاد ، الجز الثانی، ص ۳۱۴، حدیث : ۵۱۰۱)

 



1     امام جلال الدین سیوطی عَلَیہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ القَوِی نے یہ حدیث نقل کرنے کے بعدصح‘‘ کا لفظ لکھا ہے جو صحیح کا مُخَفَّف ہے، یعنی ان کے نزدیک یہ حدیث صحیح ہے۔ نیزآپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اسی کتاب کی ابتداء میںاس بات کی تصریح بھی فرمائی ہے کہ میں اس میں موضوع روایات درج نہیں کروں گا۔ (جامع صغیر ، ص۵)

2   سیدی اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلسنّت ،مجدد دین و ملت شاہ امام احمد رضا خان عَلَیہ رَحمَۃُ الرَّحمٰن، اُستَاذُالمُحَدِّثِین حضرت علامہ مفتی وصی احمد مُحدِّثِ سُورَتی عَلَیہ رَحمَۃُ اللّٰہِ القَوِی  کی جانب سے اس حدیث کے موضوع یا ضعیف ہونے کے متعلق پوچھے گئے سوال کاجواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں :حق یہ ہے کہ یہ حدیث موضوع نہیں۔ (کیونکہ) اس کی سند میں نہ کوئی وَضَّاع ہے نہ مُتَّہَم بِالوَضَع نہ کوئی کَذَّاب نہ مُتَّہَم بِالکِذب نہ اُس میں عقل یا نقل کی اصلاً ًمخالفت لاجرم اُسے اِمَامِ جَلِیل خَاتِمُ الحُفَّاظ جَلَالُ المِلَّۃِ وَالدِّین سُیُوطِی نے ’’جَامِع صَغِیر‘‘ میں ذکر فرمایا جس کے خطبہ میں ارشاد کیا تَرَکْتُ القِشْرَ، وَاَخَذْتُ اللُّبَابَ، وصُنْتُہٗ عَمَّاتَفَرَّدَ بِہٖ وَضَّاعٌ اَوْکَذَّابٌ میں نے اس کتاب میں پوست چھوڑ کر خالص مغز لیاہے اور اسے ہر ایسی حدیث سے بچایا جسے تنہا کسی وَضّاع یا کَذّاب نے روایت کیا ہے۔(جامع صغیر ، ص۵)

                حَافِظ (اِبنِ حَجَر عَسقَلَانِی عَلیْہ رَحْمَۃُاللّٰہِ الْقَوِی )نے لسان (لِسَانُ المِیْزَان) میں (اس حدیث پر کلام کرتے ہوئے ) فرمایا: یہ حدیث مُنکَر بلکہ مَوْضُوْع ہے ۔ اعلیٰ حضرت عَلَیہِ رَحمَۃُ رَبِّ العِزَّت اس کاجواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں: اس روایت میں ایسی کسی چیز کا بیان نہیں جسے عقل وشرع محال گردانے (جانے) اور نہ ہی اس  ’’ کی سند میں وَضَّاع ، کَذَّاب اور مُتَّہَم ہے محض راوی کے مجہول ہونے سے اس حدیث کوچھوڑنے کا فیصلہ نہیں کیا جاسکتا حتی کہ فضا ئل میں قابلِ استدلال ہی نہ رہے چہ جائے کہ وہ موضوع ہو ۔ اس کے بعد آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے کئی ایسی روایات نقل فرمائیں کہ جن کے راویوں پر محدثین نے شدید جرح فرمائی بعض کو کَثِیرُ الخَطَا اور فَاحِشُ الوَہم کہا مگر محدثین نے ایسی روایات کو ناصرف باقی رکھا بلکہ فضا ئلِ اعمال کے باب میں انہیں معتبر بھی جانا۔(ان مَجرُوح روایات کو فضائلِ اعمال میں معتبر جاننے اور فضائلِ عمامہ کی روایات کو موضوع قرار دینے والوں کے جواب میں )اعلیٰ حضرت عَلَیہِ رَحمَۃُ رَبِّ العِزَّت فرماتے ہیں: میری سمجھ سے باہر ہے یہی قول (کہ یہ مجروح روایات فضائل میں معتبر ہیں )عمامہ والی حدیث میں کیوں نہیں کیا گیا حالانکہ یہ حدیث بھی فضائلِ اعمال سے متعلق ہے اور اس سے بارگاہِ الہٰی کے ادب پر شوق دلایا گیا ہے اور اس میں کوئی بھی ایسی بات نہیں جسے شرع و عقل محال قرار دیتی ہو بلکہ اس میں کوئی راوی بھی ایسا نہیں جسے موضوعات کا راوی قرار دیا گیا ہو، تو اس روایت پر بُطلان بلکہ موضوع ہونے کا حکم (محض اس بنا پر کہ بعض روایات  ایسے راویوں سے ہیں جنہیںحافظ ابن حجر نہیں جانتے یا فلاں فلاں نے ان کا ذکر نہیں کیا)کیسے درست ہوسکتا ہے ؟اپنی عقل سے روایات کوموضوع یا ضعیف قرار دینے والوں کو تنبیہ کرتے ہوئے اعلیٰ حضرت عَلَیہِ رَحمَۃُ رَبِّ العِزَّت فرماتے ہیں: جاہل اگر حدیث کو محض بہوائے نفس موضوع کہے واجبُ التعزیرہے اور کتبِ معُتَمَدہ فقہیہ کو نہ ماننا جہالت وضَلالت اور اس حدیث کے بیان کرنے والے پر لعنت کا اِطلاق خود اس کے لئے سخت آفت کہ بحکم احادیثِ صحیح جولعنتغیر مستحق پر کی جاتی ہے کرنے والے پر پلٹ آتی ہے وَالعَیَاذُ بِاللّٰہِ تَعَالٰی اور مسلمانوں کے عمامے قصداً اتروا دینا اور اسے ثواب نہ جاننا قریب ہے کہ ضروریاتِ دین کے انکار اور سنّتِ قطعیہ متواترہ کے استخفاف کی حد تک پہنچے ایسے شخص پر فرض ہے کہ اپنی ان حرکات سے توبہ کرے اور از سرنو کلمہ اسلام پڑھے اور اپنی عورت کے ساتھ تجدید نکاح کرے  (فتاویٰ رضویہ ،۶/۲۱۵تا۲۲۰ ملخصاً)

 



Total Pages: 101

Go To