Book Name:Imamay kay Fazail

کو تحفۃً دوں گا۔  (۲۱)اس کتاب کے مطالَعہ کا ثواب ساری اُمّت کو ایصال کروں گا (۲۲) کتابت وغیرہ میں شَرْعی غلَطی ملی تو نا شرین کو تحریری طور پَر مُطَّلع کروں گا(مصنّف یاناشِرین وغیرہ کو کتا بوں کی اَغلاط صِرْف زبانی بتاناخاص مفید نہیں ہوتا)

  ااچھی اچھی نیّتوں سے متعلق رَہنمائی کیلئے ، امیرِ اہلسنّت دَامَت بَرَکاتُہُمُ العَالیہ کا سنّتوں بھرا منفرِد بیان ’’نیّت کا پھل‘‘اور نیتوں سے متعلق آپ کے مُرتّب کردہ  کارڈ  یا پمفلٹ مکتبۃ المدینہ کی کسی بھی شاخ سے ھدیّۃًحاصِل فرمائیں ۔     

سر ڈھانپنا عقلمندی ہے

        مسلمان اپنی تہذیب و تمدن ، رَسم و رَواج اور رہن سہن کے طریقوں میں دیگر مذاہب کے لوگوں سے ممتاز ہوتا ہے ۔ اِسلام نے باطنی حسن کے ساتھ ساتھ ظاہری خوبصورتی کی جانب بھی توجہ دلائی ہے ۔  اللّٰہ  تعالٰی نے اپنی بارگاہ میں حاضری کے وقت زینت اختیار کرنے کا حکم ارشاد فرمایا چنانچہ ارشادِ باری  تَعَالٰی  ہے :

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ خُذُوْا زِیْنَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَّ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا وَ لَا تُسْرِفُوْا ۚ-اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ۠(۳۱)

ترجمۂ کنزالایمان : اے آدم کی اولاد اپنی زینت لو جب مسجد میں جاؤ اور کھاؤ اور پیؤاور حد سے نہ بڑھوبے شک حد سے بڑھنے والے اسے پسند نہیں (الاعراف ، پ ۸ ، الآیۃ : ۳۱)

        اس آیتِ کریمہ کے تحت صدرالافاضل مفتی محمد نعیم الدین مراد آبادی عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  الہَادِی فرماتے ہیں : یعنی لباسِ زینت اور ایک قول یہ ہے کہ کنگھی کرنا خوشبو لگانا داخلِ زینت ہے ۔ مسئلہ : اور سنّت یہ ہے کہ آدمی بہتر ہَیئت کے ساتھ نماز کے لئے حاضر ہو کیونکہ نماز میں ربّ سے مُناجات ہے تو اس کے لئے زینت کرنا عِطر لگانا مُستحَب جیسا کہ سِتر، طہارت واجب ہے ۔

        غور فرمائیے! اگر دو افراد نماز پڑھ رہے ہوں ایک ننگے سر اور دوسرا عمامہ و ٹوپی سے سر کو ڈھانپے ہوئے ہے تو ہر ذی شعور یہی کہے گا کہ ان میں سے عمامہ و ٹوپی پہن کر نماز پڑھنے والا زینت اختیا ر کئے ہوئے ہے ۔ کیونکہ عمامہ شریف سر کی زینت، پابندیٔ سنّت کی پہچان، مومن کی آن و بان اور علماء و فقہاء ، بزرگان سلف و خلف کی شان ہے اسے چھوڑنا سببِ نقصان ہے جبکہ ننگے سر رہنے کی عادت، ننگے سر راستوں میں چلنا اور اسی طرح مساجد میں نماز کے لئے داخل ہو جانا سلف صالحین کے عرف میں اچھی عادت نہیں سمجھی جاتی تھی۔  علماء وصلحاء تو سر ڈھانپ کر رہتے ہی تھے، عام شرفاء بھی اسے تہذیب اورشرافت کا حصہ سمجھتے تھے یہی وجہ ہے کہ حضرت علامہ ابن جوزی عَلیْہِ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  الْقَوِی فرماتے ہیں :  عقلمند آدمی سے یہ بات پوشیدہ نہیں ہے کہ ننگے سر رہنا اچھی عادت نہیں ، کیوں کہ اس میں ترکِ ادب اور مُرَوَّت کی خلاف ورزی پائی جاتی ہے۔  (تلبیس ابلیس، ص۳۱۹) سر ڈھانپنے کی کس قدر اہمیت ہے اس کا اندازہ اس روایت سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے چنانچہ حضرت وَاثِلَہ بن اَسقَع رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ’’دن میں سر ڈھانپناعقلمندی ہے‘‘ (کنز العمال، کتاب المعیشۃ والعادات، فرع فی العمائم، الجز : ۱۵، ۸/ ۱۳۳، حدیث : ۴۱۱۳۶مختصراً) لہٰذا ہمیں چاہئے نہ صرف نماز کے وقت اپنے رب کے حضور سر ڈھانپ کر حاضر ہوں بلکہ ہر وقت ہی عمامہ شریف سجائے رکھا کریں ۔  

        شیخِ طریقت ، امیرِ اہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی عمامہ شریف عام کرنے کی بے مثل خدمات اور آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کے قلبی لگاؤ کو سامنے رکھتے ہوئے اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ تبلیغِ قرآن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کی مجلس المدینۃ العلمیۃ کے’’ شعبہ امیرِ اہلِ سنّت‘‘ کو عمامہ شریف کے متعلق کام سونپا گیا۔  تصنیف و تالیف سے وابستہ اسلامی بھائی جانتے ہیں کہ کسی بھی ایسے موضوع پر کتاب لکھنا یا مرتب کرنا جس پر پہلے ہی سے کئی کتب لکھی جا چکی ہوں ایک مشکل کام ہے۔  لیکن پہلے سے لکھی گئی کتابوں کی خوبیوں اور دیگر تمام اُمور کو سامنے رکھتے ہوئے جدید دور کے تقاضوں کے مطابق اُسی موضوع پر ایک نئی کتاب ، علمی وتحقیقی طرز پر مرتب کی جائے تو اُس کی افادیت بڑھ جاتی ہے۔  اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ    اِس کتاب پر شعبہ امیرِ اہلِ سنّت (المدینۃ العلمیۃ) کے تین اِسلامی بھائیوں ابوسلمان محمد عدنان چشتی المدنی، ابوالخیر عبدالماجد عطاری المدنی اور ابوالقاسم عثمان فاروقی عطاری المدنی سَلَّمَہُمُ  اللّٰہ  الْغَنِی نے کام کرنے کی سعادت حاصل کی ہے۔  

امیرِ اہلسنّت کی روحانی توجہ

        مبلغِ دعوتِ اسلامی، رکنِ مرکزی مجلسِ شوریٰ، نگران مجلس المدینۃ العلمیہ ابوماجد محمد شاہد عطاری مدنی مُدَّظِلُّہُ العَالٰی کے بیان کا خلاصہ ہے کہ شیخِ طریقت ، امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی عمامہ شریف سے محبت اور اس سنّت کو عام کرنے کی کڑھن کے پیشِ نظر جب کتاب ’’عمامے کے فضائل‘‘پر کام کی ابتدا کی گئی تو ایک رات میں نے خواب میں امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی زیارت کی تو المدینۃ العلمیہ میں عمامے کے فضائل پر کئے جانے والے کام کی خوشخبری بھی سنائی۔     

 امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے حوصلہ افزائی فرماتے ہوئے دُعاؤں سے نوازا اور خواب ہی میں عمامہ شریف کے متعلق ایک کتاب بھی عطا فرمائی۔  

  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری بے حسا ب مغفِرت ہو

صلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب!     صلَّی  اللّٰہ  تعالٰی علٰی محمَّد

        اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ اِس کتاب پر اَوّل تا آخرمختلف مراحل میں کام کیا گیا ہے جو اِس کتاب کی خصوصیات میں شمار کیے جاسکتے ہیں ، تفصیل کچھ یوں ہے :

مواد جمع کرنے کا مرحلہ :  کتاب ’’عمامہ کے فضائل‘‘ کے مواد کے سلسلے میں درج ذیل اُمور کو پیش نظر رکھا گیا :  اولاً :  کتب احادیث اور سیرت وشمائل میں موجودعمامہ شریف کے فضائل و مسائل پر مشتمل احادیث و روایات کو اصل کتابوں سے جمع کیا گیا۔  اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ  کتاب ’’عمامہ کے فضائل‘‘ میں کم و بیش 250 کتب و رسائل اور مخطوطات کے حوالہ جات دئیے گئے ہیں ۔  ثانیاً : خاص عمامہ شریف کے حوالے سے عربی، فارسی، اُردو اور سندھی زبان میں لکھی گئی کتب سے استفادہ کیا گیا۔  مطبوعہ کتب و رسائل کے علاوہ مختلف علمائے اہلِ سنّت کَثَّرَ ھُمُ  اللّٰہ  تَعَالٰی سے رابطے کر کے غیر مطبوعہ کتب ورسائل کے مخطوطات بھی حاصل کئے گئے جس کے لئے نگران مجلس المدینۃ العلمیہ نے خصوصی تعاون فرمایا۔  بعض کتب و مخطوطات کی عدم دستیابی کے سبب اُن کے کمپیوٹر نسخے انٹرنیٹ سے بھی ڈاؤن لوڈ کیے گئے۔  ثالثاً :  المدینۃ العلمیۃ کی کتب سے مواد کے لیے مجلس المدینۃ العلمیہ اور مجلس آئی ٹی کی  جدید دور کے تقاضوں کے مطابق انٹرنیٹ کے ذریعے مختلف ویب سائٹ سے بھی مواد لیا گیا ہے۔  خامساً : مواد جمع کرتے وقت اِس بات کا خصوصی خیال رکھا گیا ہے کہ موضوع و من گھڑت روایات سے احتراز کیا جائے، نیز مواد جمع کرنے کے بعد تخریج



Total Pages: 101

Go To