Book Name:Imamay kay Fazail

ہی ہے۔  اس بات کا بھی خیال رہے کہ عمامے کی لمبائی اور چوڑائی میں اپنے زمانے اور علاقے کے عمامہ پہننے والے لوگوں کا خیال کرے کیونکہ عُرف و عادت سے زیادہ (بڑا عمامہ) باندھنا مکروہ ہے۔

  (فیض القدیر، حرف العین، ۴/ ۵۱۵، تحت الحدیث :  ۵۷۲۵)

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بغیر ٹوپی کے عمامہ شریف باندھنا بھی جائز ہے اور یہ ہمارے پیارے پیارے آقا  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّم سے ثابت بھی ہے جیسا کہ حضرت سیّدنا ابن عباس رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنہُما بیان فرماتے ہیں :  کَانَ یَلْبَسُ القَلَانِسَ تَحتَ العَمَائِمِ وَبِغَیْرِ الْعَمَائِمِ وَ یَلْبَسُ العَمَائِم بِغَیرِالقَلَانِسِ یعنی رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّم عمامہ شریف کے نیچے ٹوپی پہنتے تھے اور عمامہ کے بغیر ٹوپی اور ٹوپی کے بغیر عمامہ شریف بھی پہنتے تھے۔

 (کنز العمال، کتاب الشمائل، قسم الاقوال، الجز : ۷، ۴/ ۴۶، حدیث :  ۱۸۲۸۲، تاریخ الخمیس فی احوال انفس نفیس ، الفصل الاول فی المتفرقات ، واما لباسہ وثیابہ ومتاعہ علیہ السلام ، ۲/ ۱۹۰)

        اسی طرح خَاتَمُ المُحَدِّثین، حضرت علّامہ شیخ عبدُالحقّ مُحَدِّث دِہلوی عَلَیہ رَحمَۃُ  اللّٰہ  الْقَوِی فرماتے ہیں :  آں حَضرَت صَلَّی  اللّٰہ  عَلَیہِ وَ اٰلہٖ وَسَلَّم گاہ عِمَامَۂ بے کُلَاہ مِیپَوشِید وَ گاہ بَاکُلَاہ وَ گاہ کُلَاہ بے عِمَامَہ یعنی سرکارِ مدینہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم بعض اوقات بغیر ٹوپی کے عمامہ شریف باندھ لیا کرتے، کبھی ٹوپی پر عمامہ مبارک باندھتے تو کبھی کبھار صرف ٹوپی بھی زیبِ سر فرما لیا کرتے تھے۔  (شرح سفر السعادۃ ، ص ۴۳۶) میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یاد رکھئے اگرچہ ٹوپی کے بغیر عمامہ باندھنا بھی جائز ہے لیکن ٹوپی پر عمامہ شریف باندھنا افضل ہے جیسا کہ حضرت علّامہ مناوی عَلَیہ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی نے اس کی صراحت فرمائی ہے۔  

عمامے کے ہر پیچ پر نیکی

(10) حضرت سیّدنا مُعاذ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ حضور صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :  عمامے عرب کے تاج ہیں تو عمامہ باندھو تمہاری بردباری (قوتِ برداشت) میں اضافہ ہو گا اور جو عمامہ باندھے اسے ہر پیچ کے بدلے ایک نیکی عطا ہو گی اور جب ( دوبارہ پہننے کے ارادے سے) اتارے تو ہر پیچ کھولنے پر ایک گناہ مٹادیا جائے۔  

(کنز العمال، کتاب المعیشۃ والعادات، فرع فی العمائم، الجز : ۱۵، ۸/ ۱۳۳، حدیث : ۴۱۱۳۸ مختصراً)

        میرے آقا اعلیٰ حضرت ، امام اہلِ سنّت، شاہ احمد رضا خان عَلَیہ رَحمَۃُ الرَّحمٰن  اس روایت کو یوں نقل فرماتے ہیں :  عمامے عرب کے تاج ہیں تو عمامہ باندھو تمہاراوقار بڑھے گا اور جو عمامہ باندھے اس کے لئے ہر پیچ پر ایک نیکی ہے اور جب (بلا ضرورت یا ترک کے قصد پر) اتارے تو ہر اتارنے پر ایک خطا ہے یا جب (بضرورت بلا قصدِ ترک بلکہ باارادہ معاودت([1])) اتارے تو ہر پیچ اتارنے پر ایک گناہ اترے۔  دونوں معنی محتمل ہیں ۔  و اللّٰہ  تعالٰی اعلم والحدیث اشد ضعفا فیہ ثلثۃ مترکون متھمون عمرو بن الحصین عن ابی علاثۃ عن ثویر (فتاویٰ رضویہ ، ۶/ ۲۱۴)

عمامے ترک کر دینے کا نقصان

(11) حضرت سیّدنا عمران بن حُصین رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں :  اَلعَمَائِمُ وَقَارٌ لِّلمُؤمِن وَ عِزٌّ لِّلعَرَبِ فَاِذَا وَضَعَتِ العَرَبُ عَمَائِمَھا وَضَعَت عِزَّھا یعنی عمامے مسلمانوں کے وقار اور عرب کی عزت ہیں تو جب عرب عمامے باندھنا چھوڑ دیں گے تواپنی عزت اتار دیں گے۔

  (کنزالعمال، کتاب المعیشۃ والعادات، فرع فی العمائم، الجز : ۱۵، ۸/ ۱۳۳، حدیث :  ۴۱۱۳۹)

(12)حضرت سیّدنا ابن عباس رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہُما سے روایت ہے :  رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :  اَلعَمَائِمُ تِیجَانُ العَرَب فَاِذَا وَضَعُوا الْعَمَائِمَ وَضَعَ  اللّٰہ  عِزَّہُمیعنی عمامے عرب کے تاج ہیں ، پس جب وہ (یعنی عرب ) عمامے اتار دیں گے تو  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ ان کی عزت کو ختم فرما دے گا۔  (فردوس الاخبار، باب العین، ۲/ ۹۱، حدیث : ۴۱۰۹)

       حضرت علامہ عبد الرء وف مناوی عَلَیہ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی اس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں :  ’’عماموں کو تاج اس لئے فرمایا ہے کہ یہ تاج کے قائم مقام ہیں ۔ ‘‘

 (فیض القدیر، حرف العین، ۴/ ۵۱۵، تحت الحدیث : ۵۷۲۴)

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یقیناً عمامہ شریف ایسی عزت ، مرتبے اور شان والی چیزہے کہ جو شخص عمامہ شریف کی پابندی کرتا ہے وہ بھی عزت، مرتبے اور شان والا ہو جاتا ہے ، کیونکہ نبیٔ کریم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اسے عربوں اور مسلمانوں کا تاج فرمایا ہے۔  لہٰذا ہمیں اپنے تاجوں (عماموں ) کی حفاظت کے لئے انہیں سر پر سجانا چاہئے۔  

(13) حضرت سیّدنا خالد بن مَعدان عَلَیہ رَحمَۃُ الرَّحمٰن مرسلًا روایت فرماتے ہیں کہ رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم صدقے کے کچھ کپڑے لے کر تشریف لائے اور انہیں صحابۂ کرام عَلَیہِمُ الرِّضوَان میں تقسیم فرما کر ارشاد فرمایا :  اِعْتَمُّوا خَالِفُوا عَلی الاُمَمِ قَبْلَکُمْ یعنی عمامے باندھو اگلی امتوں (یہود و نصاریٰ ) کی مخالفت کرو (کہ وہ عمامہ نہیں باندھتے)۔

  (شعب الایمان، باب فی الملابس الخ ، فصل فی العمائم، ۵/ ۱۷۶، حدیث : ۶۲۶۱)

عمامہ باندھنے کی ترغیب

(14)حضرت سیّدنا عُبادہ بن صامِت رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ نبیٔ پاک صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :  عَلَیْکُمْ بِالْعَمَائِمِ فَاِنَّہَا سِیمَا الْمَلَائِکَۃِ وَاَرْخُوالہَا خَلْفَ ظُہُورِکُمْ یعنی تم پر عمامے لازم ہیں بے شک عمامے ملائکہ کی علامت ہیں اور عمامے کا شملہ پیٹھ کے پیچھے لٹکاؤ۔ ‘‘یہی روایت حضرت سیّدنا عبد اللّٰہ  بن عمر رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہُما سے بھی مروی ہے۔  (شعب الایمان، باب فی الملابس ، فصل فی العمائم، ۵/ ۱۷۶، حدیث : ۶۲۶۲ واللفظ لہ، معجم کبیر، باب العین، عبد  اللّٰہ  بن عمر بن خطاب، ۱۲/ ۲۹۲، حدیث : ۱۳۴۱۸)

اس حدیث پاک کے تحت حضرت علامہ سیِّد محمد بن جعفر کَتَّانی عَلَیہ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی لکھتے ہیں :  عارف ب اللّٰہ  حَفنِی عَلَیہ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی فرماتے ہیں کہ عمامے فرشتوں کی نشانی ہیں ، بدر کے روز فرشتے زرد عمامے سجائے ، شملے لٹکائے نازل ہوئے تھے ۔  مزید فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم امتیوں سے فرشتوں کی صفات سے مُتَّصِف ہونے کا تقاضا فرما رہے ہیں ۔  

(الدعامۃ فی احکام سنۃ العمامۃ، ص ۸)

عمامہ مسلمانوں اور غیر مسلموں میں فرق کرنے والا

 



       یعنی جب دوبارہ باندھنے کے ارادے سے ضرورت کی بنا پر عمامہ شریف اتارے تو ہر پیچ کھولنے پر ایک گناہ معاف کیا جائے۔ [1]



Total Pages: 101

Go To