Book Name:Imamay kay Fazail

عمامہ شریف حسن و جمال کا ذریعہ

( 4)حضرت علامہ شہاب الدین محمد اَلاَبشِیہِی عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی روایت نقل فرماتے ہیں :  تَعَمِّمُوا تَزدَادُوا جَمَالاً یعنی عمامے باندھو! تمہارے حسن و جمال میں اضافہ ہو گا۔

(المستطرف، الباب السادس والاربعون فی الخلق وصفاتہم الخ، ۲/ ۵۲)

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! واقعی عمامہ شریف باندھنے سے حسن و جمال میں اضافہ ہوجاتاہے جیسا کہ حضرت سیّدنا عبد اللّٰہ  بن بُرَیدَہ اَسلَمِی رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ ایک رات حضرت سیّدنا عمر فاروق رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ ایک گھر کے قریب سے گزرے تو ایک عورت نے اَشعار میں ایک شخص (نصر بن حجاج جس کا تعلق بنی سُلَیم سے تھا) کا ذکر کیا ، جو کہ بہت حسین و جمیل تھا۔  آپ نے صبح اسے دربار میں طلب فرمایا ، یہ خوبصورت بالوں اور حسین چہرے والا شخص تھا۔  آپ نے اسے بال کٹوانے کا حکم فرمایا اس نے کٹوا دیئے مگر اس کی پیشانی کھل جانے کے باعث اور حسین لگنے لگا آپ نے اسے عمامہ شریف باندھنے کا حکم دیا (تاکہ اس کی پیشانی چھپ جائے) اس نے عمامہ باندھا تو اس کے حُسن میں اور اضافہ ہو گیا بالآخر آپ نے اسے بصرہ بھیج دیا۔

 (طبقات ابن سعد ، باب ذکر استخلاف عمر، ۳/ ۲۱۶، ملتقطاً)

        اسی طرح امیر المؤمنین حضرت سیّدنا عثمان ذُوالنُّورین رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ کے متعلق علامہ احمد بن محمد اُندلُسی عَلَیہ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی نقل فرماتے ہیں کہ اَجمَلُ النَّاسِ اِذَا اعْتَمَّ یعنی آپ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ جب عمامہ شریف باندھتے تو سب سے زیادہ حسین و جمیل نظر آتے۔  (عقد الفرید ، کتاب العسجدۃ الثانیۃ ، باب نسب عثمان و صفتہ، ۵/ ۳۶)

مُجھے لگتا ہے وہ میٹھا، مُجھے لگتا ہے وہ پیارا

عِمامہ سَر پہ، زُلفیں اور داڑھی جو سجاتا ہے

 عمامے تاج ہیں

(5) حضرت سیّدنا اَ بُو المَلِیح رَحمۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ اپنے والد سے روایت فرماتے ہیں کہ رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :  اِعْتَمُّوا تَزْدَادُوا حِلْماً وَ العَمائِمُ تِیجَانُ العَرَب یعنی عمامہ باندھو تمہاری بردباری (قوتِ برداشت) میں اضافہ ہوگا اور عمامے عرب کے تاج ہیں ۔  یہی حدیث حضرت سیّدنا ابن عبا س رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہُمَا سے بھی مروی ہے۔  

(شعب الایمان، باب فی الملابس ، فصل فی العمائم ، ۵/ ۱۷۵، حدیث :  ۶۲۶۰، کنز العمال، کتاب المعیشۃ والعادات، فرع فی العمائم، الجز : ۱۵، ۸/ ۱۳۳، حدیث :  ۴۱۱۲۸)

        حضرت علامہ عبد الرء وف مناوی عَلَیہ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی اس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں :  ’’اہلِ عرب کے لئے عمامے تاجِ شاہی کی حیثیت رکھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ دیہات میں عماموں والے تھوڑے ہی ہوتے ہیں اکثر لوگ ننگے سر یا ٹوپی پہنتے ہیں ۔ ‘‘ (فیض القدیر، حرف الہمزۃ، ۱/ ۷۰۹، تحت الحدیث : ۱۱۴۳ملخصًا)

(6)امیر المؤمنین حضرت سیّدنا علی المرتضی کَرَّمَ  اللّٰہ  تَعَالٰی وَجْھَہُ الکَرِیم سے روایت ہے کہ رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا اَلعَمائِمُ تِیجَانُ العَرَب([1]) یعنی عمامے عرب کے تاج ہیں ۔  

(جامع صغیر ، حرف العین، الجز الثانی، ص ۳۵۳، حدیث : ۵۷۲۳ مختصراً)

       حضرت علامہ عبد الرء وف مناوی عَلَیہ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی اس حدیث پاک کی شرح میں فرماتے ہیں :  عماموں کو تاج اس لئے فرمایا کہ اس میں عزت ، خوبصورتی ، ہیبت اور وقار ہے، جیسا کہ بادشاہوں کے تاج انہیں دوسروں سے ممتاز کر دیتے ہیں (اسی طرح عمامہ بھی عام لوگوں سے ممتاز کر دیتا ہے )۔  (فیض القدیر، حرف العین، ۴/ ۵۱۵، تحت الحدیث :  ۵۷۲۳)

(7)حضرت سیّدنا ابن عباس رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہُما فرماتے ہیں کہ رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیّدنا علی کَرَّمَ  اللّٰہ  تَعَالٰی وَجْھَہُ الکَرِیم کے سر پر اپنا عمامہ جس کا نام آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ’’سَحاب‘‘ رکھا تھا وہ باندھا تو فرمایا :  اے علی! ’’عمامے عرب کے تاج ہیں ۔ ‘‘ (کنز العمال، کتاب المعیشۃ والعادات، آداب التعمم، الجز :  ۱۵، ۸/ ۲۰۵، حدیث :  ۴۱۹۰۵ مختصراً)

عمامے مسلمانوں کے تاج ہیں

(8)امیر المؤمنین حضرت سیّدنا علی المرتضی کَرَّمَ  اللّٰہ  تَعَالٰی وَجْھَہُ الکَرِیم سے روایت ہے کہ رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :  مسجدوں میں بغیر عمامے اور عمامے باندھ کر آیا کرو اس لئے کہ عمامے مسلمانوں کے تاج ہیں ۔  (کنزالعمال، کتاب المعیشۃ والعادات، فرع فی العمائم، الجز :  ۱۵، ۸/ ۱۳۳، حدیث : ۴۱۱۳۵)

        حضرت علامہ عبد الرء وف مناوی عَلَیہ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی فرماتے ہیں :  اس حدیث پاک کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح ممکن ہو مسجد میں آؤ ، چاہے ٹوپی پہن کر یا سربند اور عمامہ شریف باندھ کر اور (عمامہ نہ ہونے کی وجہ سے) جمعہ اور جماعت کو ہرگز ترک نہ کرو۔  مزید فرماتے ہیں کہ ’’ایک اور روایت میں ہے  (عمامے ) مسلمانوں کی نشانی اور علامت ہیں یعنی جیسے تاج بادشاہوں کی نشانی ہوتے ہیں اسی طرح عمامے مسلمانوں کی نشانی ہیں ۔  (فیض القدیر، حرف الھمزۃ، ۱/ ۸۹، تحت الحدیث :  ۳۰ملتقطًا)

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اس حدیث پاک سے یہ بھی معلوم ہوا کہ عمامے نہ صرف عربوں کے تاج ہیں بلکہ تمام مسلمانوں کے تاج ہیں لہٰذا ہم سب کو چاہیے کہ ان (عماموں ) میں اپنی عزت و آبرو سمجھیں اور ان پر مُدَاوَمَت (ہمیشگی) اختیار کریں ۔  

ٹوپی اور عمامہ

(9)حضرت سیّدنا رُکانہ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ حضور صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :  اَ لْعِمَامَۃُ عَلَی القَلَنْسُوَۃِ فَصْلٌ مَّابَیْنَنَا وَبَیْنَ المُشْرِکِینَ یُعْطٰی یَوْمَ القِیَامَۃِ بِکُلِّ کَوْرَۃٍ یُّدَوِّرُہَا عَلٰی رَاْسِہٖ نُوراً یعنی ٹوپی پر عمامہ باندھنا ہمارے اور مشرکین کے درمیان اِمتیازی علامت ہے، عمامہ باندھنے والے (مسلمان) کو اپنے سر پر باندھے جانے والے ہر پیچ کے بدلے قیامت کے دن ایک نور عطا کیا جائے گا۔  (کنز العمال، کتاب المعیشۃ والعادات، فرع فی العمائم، الجز : ۱۵، ۸/ ۱۳۲، حدیث :  ۴۱۱۲۶)

       حضرت علامہ عبد الرء وف مناوی عَلَیہ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی اس حدیثِ پاک کی شرح میں فرماتے ہیں کہ عمامہ ٹوپی پر باندھا جائے یا صرف سر پر، عمامے کی سنّت ادا ہو جائے گی اگرچہ افضل ٹوپی پر



1     امام جلال الدین سیوطی عَلَیہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ القَوِی نے یہ حدیث نقل کرنے کے بعد ’’صح‘‘ کا لفظ لکھا ہے جو صحیح کا مُخَفَّف ہے، یعنی ان کے نزدیک یہ حدیث ’’صحیح‘‘ ہے۔  



Total Pages: 101

Go To