Book Name:Imamay kay Fazail

(طبقات ابن سعد، غزوۃ رسول  اللّٰہ  صلی  اللّٰہ  علیہ و سلم الی حنین، ۲/ ۱۱۵)

        حضرت علامہ علی بن بُرہانُ الدِّین حَلَبِی عَلَیہ رَحْمَۃ  اللّٰہ  الْقَوِی نے بھی نقل فرمایا ہے کہ غزوہ ٔحنین کے روز فرشتوں نے سرخ عمامے یوں باندھ رکھے تھے کہ ان کے شملے کندھوں کے درمیان لٹک رہے تھے۔  (سیرت حلبیہ، باب ذکر مغازیہ، غزوۃ حنین، ۳/ ۱۶۲)

        حضرت سیّدنا عبد اللّٰہ  بن عباس رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنہُما فرماتے ہیں کہ رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :  غزوہ ٔ حنین کے دن فرشتوں کی نشانی سرخ عمامے تھی۔

 (تفسیر ابن کثیر، پ ۴، آل عمرٰن، تحت الآیۃ :  ۱۲۵، ۲/ ۹۸)

                                                حضرت سیّدنا عبد اللّٰہ  بن عباس رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنہُما سے ہی روایت ہے کہ حُنین کے روز فرشتوں نے سبز سبز عمامے سجا رکھے تھے۔  (تفسیر بغوی ، پ ۹، الانفال، تحت الآیۃ :  ۹، ۲/۱۹۶)

یومِ اُحد فرشتوں کے سرخ عمامے

        حضرت سیّدنا عبد اللّٰہ  بن عباس رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنہُما  فرماتے ہیں کہ رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :  غزوہ ٔاُحد کے دن فرشتوں کی نشانی سرخ عمامے تھی۔

 (معجم کبیر، عن عطاء عن ابن عباس ، ۱۱/ ۱۵۵، حدیث : ۱۱۴۶۹)

جبریلِ امین کے عمامے

        سَیِّدُ الملائکہ حضرت سیّدنا جبریلِ امین عَلَیہِ السَّلام مدینے کے تاجدار، صاحبِ عمامۂ خوشبودار صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں بارہا حاضری کا شرف پاتے ، آپ  عَلَیہِ السَّلام حضور صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں حاضری کے علا وہ سابقہ انبیائے کرام  عَلَیہِمُ السَّلام  اور دیگر کئی واقعات کے وقت زمین پر تشریف لائے تھے۔  ان مختلف مقامات پر آپ عَلَیہِ السَّلام نے جو عمامے سجا رکھے تھے ان کا تذکرہ کتبِ احادیث میں موجود ہے جن میں سے چند روایات یہاں ذکر کی گئی ہیں چنانچہ

جبریلِ امین سرخ عمامے میں

        حضرت سیّدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنہا فرماتی ہیں : ’’ میں نے حضرت سیّدنا جبریل عَلَیہِ السَّلام کو دیکھا۔  آپ عَلَیہِ السَّلام نے سرخ عمامہ شریف اس طرح باندھ رکھا تھا کہ اس کا شملہ آپ کے کندھوں کے درمیان لٹک رہا تھا۔ ‘‘(مجمع الزوائد، کتاب اللباس، باب ما جاء فی الصباغ ، ۵/ ۲۲۸، حدیث : ۸۵۷۱)

        حضرت علامہ امام محمد بن یوسف شامی قُدِّسَ سِرُّہُ السَّامِی امام حاکم رَحمۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ کے حوالے سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت سَیِّدتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنہا فرماتی ہیں :  نبیٔ اکرم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَ اٰلہٖ وَسلَّم کے پاس خچر پر سوار ایک شخص آیا اس نے سرخ عمامہ شریف باندھ رکھا تھا جس کا شملہ اس کے کندھوں کے درمیان تھا۔  میں نے رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ واٰلہٖ وسلَّم سے اس کے 

 بارے میں پوچھا تو آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَ اٰلہٖ وَسلَّم نے فرمایا :  کیا تم نے اسے دیکھا ہے ؟ میں نے عرض کی :  جی ، تو آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہِ وَاٰلہٖ وَسلَّم نے فرمایا :  وہ جبریلِ امین تھے جو مجھے بنی قُریظَہ کی طرف جانے کا کہنے آئے تھے۔  (سبل الھدی والرشاد، جماع ابواب سیرتہ صلی  اللّٰہ  علیہ وسلم فی لباسہ الخ ، الباب الثانی فی العمامۃ والعذبۃ الخ، ۷/ ۲۷۵ واللفظ لہ، معجم الاوسط، باب المیم، من اسمہ مقدام، ۶/ ۲۹۳، حدیث : ۸۸۱۸)

جبریلِ امین کا سبز سبز عمامہ

        حضرت سیّدنا عبد اللّٰہ  بن عباس رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنہُما سے مروی ہے کہ حضرت سیّدنا جبریل عَلَیہِ السَّلام نبیٔ کریم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں یوں حاضر ہوئے کہ عَلَیہِ عِصَابَۃٌ خَضرَائُ یعنی آپ عَلَیہِ السَّلام نے سبز رنگ کا عمامہ شریف باندھا ہوا تھا جس پر کچھ غبار تھا۔  رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ان سے پوچھا :  آپ کے عمامے پر غبار کیسا ہے؟ حضرت سیّدنا جبریلِ امین عَلَیہِ السَّلام نے عرض کی :  میں کَعبۃُ  اللّٰہ  کی زیارت کو حاضر ہوا تھاتو رکنِ یمانی پر فرشتوں کا اِزدِحام تھا یہ ان کے پروں سے اڑنے والا غبار ہے۔

  (اخبار مکہ للازرقی، ذکر زیارۃ الملائکۃ البیت الحرام الخ، الجز الاول، ص۷۱، الحبائک فی اخبار الملائک ، ص ۱۸۶ واللفظ لہ)

سیّد الملائکہ سبز عمامے میں

        تاجدارِ رسالت ، شَہَنْشاہِ نُبُوَّت، پیکرِ جُودو سخاوت صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسلَّم نے غزوۂ تبوک کے بعد صحابۂ کرام عَلَیھِمُ الرِّضوَان  میں مالِ غنیمت اس طرح تقسیم فرمایا کہ سب کو ایک ایک اور حضرت سیّدنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ  اللّٰہ  تَعَالٰی وَجھَہُ الْکَرِیم کو دو حصے عطا فرمائے۔  حضرت سیّدنا زَائِدَہ بِن اَکوَع رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ نے کھڑے ہو کر (اس فعل کی حکمت دریافت کرنے کے لئے ) عرض کی یارسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کیا  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ کی جانب سے کوئی وحی نازل ہوئی ہے یا آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے خود ہی یہ فیصلہ فرمایا ہے ؟ تو نبی ٔکریم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے صحابۂ کرام عَلَیھِمُ الرِّضوَان سے فرمایا :  ’’میں تمہیں  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا تم نے لشکر کے دائیں جانب ایک ایسے شخص کو دیکھا تھا کہ جو سفید پیشانی اور سفید ٹانگوں والے گھوڑے پر سوار تھا اور اس نے سبز عمامہ باندھ رکھا تھا جس کے دو شملے اس کے کندھوں کے درمیان لٹک رہے تھے ، اس کے ہاتھ میں ایک نیزہ بھی تھا جس سے اس نے دشمن کے دائیں جانب والے لشکر پر حملہ کر کے اسے پسپا کر دیا تھا؟‘‘ صحابۂ کرام عَلَیھِمُ الرِّضوَان نے عرض کی جی ہاں ایسا ہی تھا۔  تو آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :  وہ جبریلِ امین(عَلَیہِ السَّلام) تھے۔  انہوں نے کہا تھا کہ مالِ غنیمت میں سے میرا حصہ (حضرت) علی (رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ) کو دے دیں ۔  (سیرت حلبیہ، باب ذکر مغازیہ ، غزوۃ تبوک، ۳/ ۲۰۰)

جبریلِ امین سیاہ عمامے میں

        حضرت سیّدنا سعید بن جُبیَر رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :  جس دن فرعون غرق ہوا اس دن حضرت سیّدنا جبریلِ امینعَلَیہِ السَّلام سیاہ عمامہ شریف باندھے ہوئے تھے۔

 (درِ منثور ، پ ۱۱، یونس، تحت الآیۃ :  ۹۰، ۴/ ۳۸۷)

 



Total Pages: 101

Go To