Book Name:Imamay kay Fazail

داؤد عَلَیہِ السَّلام بھی تھے ۔  (جلالین و جمل و خازن و مدارک وغیرہ) فائدہ :  اس سے معلوم ہوا کہ بزرگوں کے تبرکات کا اِعزَاز و احترام لازم ہے ان کی برکت سے دعائیں قبول ہوتی اور حاجتیں روا ہوتی ہیں اور تبرکات کی بے حرمتی گمراہوں کا طریقہ اور بربادی کا سبب ہے۔  فائدہ :  تابوت میں انبیاء کی جو تصویریں تھیں وہ کسی آدمی کی بنائی ہوئی نہ تھیں  اللّٰہ  کی طرف سے آئی تھیں ۔  (خزائن العرفان، پ ۲، البقرۃ، تحت الآیۃ : ۲۴۸، ص ۸۴)

        اسی آیت کے تحت مفسرِ قراٰن حضرت علامہ ابوعبد اللّٰہ  محمد بن یوسف المعروف ابنِ حَیّان اُندلُسِی عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی نقل فرماتے ہیں :  ’’اس تابوت میں حضرت سیّدنا موسیٰ  عَلَیہِ السَّلامکا عمامہ شریف بھی تھا۔ ‘‘ (تفسیر بحر المحیط، پ ۲، البقرۃ، تحت الآیۃ :  ۲۴۸، ۲/ ۲۷۱)

غزوۂ بدر میں اترنے والے باعمامہ فرشتے

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  اللّٰہ  عَزَّ وَ جَلَّ نے صحابۂ کرام عَلَیہِمُ الرِّضوَان کی مدد کے لئے مختلف مواقع پر جن فرشتوں کو نازل فرمایا تھا قرآن مجید میں ان کی جو علامت بطور خاص ذکر کی گئی ہے وہ ان کا عماموں والا ہونا ہے۔  چنانچہ  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  ارشاد فرماتا ہے :  

وَ  لَقَدْ  نَصَرَكُمُ  اللّٰهُ  بِبَدْرٍ  وَّ  اَنْتُمْ  اَذِلَّةٌۚ-فَاتَّقُوا  اللّٰهَ  لَعَلَّكُمْ  تَشْكُرُوْنَ(۱۲۳) اِذْ  تَقُوْلُ  لِلْمُؤْمِنِیْنَ  اَلَنْ  یَّكْفِیَكُمْ  اَنْ  یُّمِدَّكُمْ  رَبُّكُمْ  بِثَلٰثَةِ  اٰلٰفٍ  مِّنَ  الْمَلٰٓىٕكَةِ  مُنْزَلِیْنَؕ(۱۲۴) بَلٰۤىۙ-اِنْ  تَصْبِرُوْا  وَ  تَتَّقُوْا  وَ  یَاْتُوْكُمْ  مِّنْ  فَوْرِهِمْ  هٰذَا  یُمْدِدْكُمْ  رَبُّكُمْ  بِخَمْسَةِ  اٰلٰفٍ  مِّنَ  الْمَلٰٓىٕكَةِ  مُسَوِّمِیْنَ(۱۲۵)

ترجمۂ کنزالایمان : اور بے شک  اللّٰہ  نے بدر میں تمہاری مدد کی، جب تم بالکل بے سرو سامان تھے۔  تو  اللّٰہ  سے ڈرو کہ کہیں تم شکر گزار ہو۔  جب اے محبوب تم مسلمانوں سے فرماتے تھے :  کیا تمہیں یہ کافی نہیں کہ تمہارا رب تمہاری مدد کرے تین ہزار فرشتے اتار کر؟ ہاں کیوں نہیں اگر تم صبر و تقویٰ کرو اور کافر اسی دم (اسی وقت) تم پر آپڑیں (حملہ کر دیں ) تو تمہارا رب تمہاری مدد کو پانچ ہزار فرشتے نشان والے بھیجے گا۔

  ( پ ۴، آل عمرٰن :  ۱۲۳تا۱۲۵)

مُفَسِّرینِ عظام کی رائے

        حضرت علامہ جلال الدین سیوطی شافعی عَلَیہ رَحْمَۃ  اللّٰہ  الْقَوِی مندرجہ بالا آیات کی تفسیر میں فرماتے ہیں : ’’صحابۂ کرام عَلَیہِمُ الرِّضوَان نے میدانِ بدر میں صبر کا دامن مضبوطی سے تھامے رکھاتو  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ نے اپنے وعدے کو اس طرح پورا  فرمایا کہ اَبلَق (چتکبرے ) گھوڑوں پر سوار پانچ ہزار ایسے فرشتوں کو نازل فرمایا جنہوں نے زرد اور سفید عمامے اس طرح باندھ رکھے تھے کہ ان کے شملے پیٹھ کے پیچھے لٹک رہے تھے۔  ‘‘ (جلالین، پ۴، آل عمرٰن، تحت الآیۃ : ۱۲۵، ص۶۰)

        اس تفسیر کو اُس حدیثِ پاک کی تائید بھی حاصل ہے کہ جس میں حضور سراپا نُور صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  نے عماموں کو فرشتوں کی نشانی فرمایا ہے چنانچہ حضرت سیّدنا عبد اللّٰہ  بن عمر رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ نبیٔ پاک صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :  عَلَیْکُمْ بِالْعَمَائِمِ فَاِنَّہَا سِیمَائُ الْمَلَائِکَۃِ، وَاَرْخُوا لَہَا خَلْفَ ظُہُورِکُمْ یعنی تم پر عمامے باندھنا لازم ہے بیشک یہ ملائکہ کی نشانی ہیں اور عمامے کا شملہ پیٹھ کے پیچھے لٹکاؤ۔  (معجم کبیر، نافع عن ابن عمر ، ۱۲/ ۲۹۲، حدیث : ۱۳۴۱۸)

فرشتوں کے سفید عمامے

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! صحابۂ کرام رِضوَانُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہِم اَجمَعِین نے بھی فرشتوں کی اس نشانی کو بیان فرمایا ہے چنانچہ حضرت سیّدنا عبد اللّٰہ  ابن عباس رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنہُمَا فرماتے ہیں کہ جنگِ بدر کے دن فرشتوں کی نشانیاں سفید عمامے تھے جن کے شملے ان کی پشتوں پر لٹک رہے تھے۔  (معجم کبیر، مقسم عن ابن عباس ، ۱۱/ ۳۰۸، حدیث : ۱۲۰۸۵ مختصراً)     

فرشتوں کے زرد عمامے

        حضرت سیّدنا عُروہ رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنہ فرماتے ہیں :  ’’غزوۂ بدر کے دن ملائکہ حضرت سیّدنا زبیر بن عوّام رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنہ کی نشانی پر نازل ہوئے انہوں نے زرد رنگ کے عمامے اس طرح باندھے ہوئے تھے کہ جن کے شملے ان کی پیٹھ پر لٹک رہے تھے اور حضرت سیّدنا زبیر رَضِیَ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَنہ نے بھی زرد عمامہ باندھ رکھا تھا۔ ‘‘ (کنزالعمال، کتاب الفضائل، باب فضائل الصحابۃ، الجز : ۱۳، ۷/ ۹۱، حدیث : ۳۶۶۲۴، مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب السیر، ما قالوا فی التسویم الخ، ۱۷/ ۴۲۹، حدیث : ۳۳۳۹۳ بتغیر)

        حضرت علامہ سلیمان بن عمر شافعی عَلَیہ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  الْقَوِی مندرجہ بالا دونوں روایتوں میں مُطابَقَت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :  غزوۂ بدر کے دن حضرت سیّدنا جبرئیلِ امین عَلَیہِ السَّلام کا عمامہ زرد او ر باقی فرشتوں کے عمامے سفید تھے۔  (تفسیرجمل، پ۴، آل عمرٰن، تحت الآیۃ :  ۱۲۵، ۱/ ۵۱۷)

         حضرت علامہ اسماعیل حقّی عَلَیہ رَحْمَۃُ  اللّٰہ  الْقَوِی نے بھی فرمایا ہے کہ  غزوۂ بدر کے دن حضرت سیّدنا جبرئیلِ امین عَلَیہ السَّلام کا عمامہ زرد او ر باقی فرشتوں کے عمامے سفید تھے۔  

(روح البیان، پ۴، آل عمرٰن، تحت الآیۃ :  ۱۲۵، ۲/ ۹۰)

        حضرت علامہ ابو محمد عبد الملک بن ہشام عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  السَّلام نے یہی روایت حضرت سیّدنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ  اللّٰہ  تَعَالٰی وَجْھَہُ الکَرِیم سے بھی نقل فرمائی ہے۔

 (سیرۃ ابن ہشام، غزوۃ بدر الکبری، شھود الملائکۃ وقعۃ بدر، ۲۶۲)

رضوانِ جنّت کا زرد عمامہ

       دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ کتاب ’’عُیُونُ الحکایات (مُتَرجَم)‘‘ حصہ دُوُم صفحہ 74 پر ہے :  حضرتِ سیِّدُنا علی بن محمد سِیْرَوَانِی رَحْمَۃُ  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :  میں نے حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم خوَّاص عَلیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ  الرَّزَّاق کو یہ فرماتے ہوئے سنا : ’’ایک مرتبہ ایک وادی میں مجھے بہت زیادہ پیاس لگی ، شدتِ پیاس سے میں نیم بے ہوش ہوکر گرپڑا، اچانک میرے چہرے پر پانی کے قطرے گرے جن کی ٹھنڈک میں نے اپنے دل پر محسوس کی ۔  آنکھیں کھولیں تو خوبصورت سفید گھوڑے پر سوارسبز کپڑے زیبِ تن کئے، زرد عمامے کا تاج سر پر سجائے ایک شکیل وجمیل نوجوان نظر آیا۔  جس کے ہاتھ میں ایک پیالہ تھا۔  ایسا خوبصورت نوجوان میں نے آج تک نہ دیکھا تھا۔  اس نے مجھے پیالے میں سے شربت پلایا اورکہا : ’’ میرے پیچھے سوار ہو جاؤ۔ ‘‘ میں گھوڑے پر اس کے پیچھے سوار ہوگیا۔  ابھی وہ گھوڑا اپنی جگہ سے چلا ہی تھا کہ اس نوجوان نے مجھ سے پوچھا :  ’’تم سامنے کیا دیکھ رہے ہو۔ ‘‘میں نے کہا : ’’ میرے سامنے اس وقت



Total Pages: 101

Go To