Book Name:Imamay kay Fazail

        ایک اَعرابی عمامہ شریف کا بہت اہتمام کیا کرتے تھے۔  ان سے پوچھا گیا آپ اپنے سر سے عمامہ شریف کیوں نہیں اتارتے؟ تو انہوں نے جواب دیا اِنَّ شَیأً فِیہِ السَّمعُ وَالبَصَرُ لَحَقِیقٌ بِالصَونِ یعنی عمامہ شریف تو کان اور آنکھ کی طرح ہے لہٰذا اس کی حفاظت کرنا (یعنی اس کا سر پر رہنا ) ہی زیادہ لائق ہے۔  (نثرالدرر، ۶/ ۲۷)

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! عمامہ شریف باندھنا ایسی پیاری سنّت ہے کہ جو بے شمار انبیائے عظام ، صحابہ کرام اور سلفِ صالحین کا طریقہ رہا ہے ۔  عمامہ کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ بعض علماء نے اسے سنّتِ مؤکدہ ([1]) قرار دیا ہے ۔  (الحجۃ التامہ فی اثبات العمامۃ، ص ۱۰)  اگرچہ یہ سنّتِ غیرِمؤکدہ ([2]) ہے جیسا کہ سیدی اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلسنّت ، مجدد دین و ملت شاہ احمد رضا خان عَلَیہ رَحمَۃُ الرَّحمٰن نقل فرماتے ہیں :  عمامہ باندھنا سنن زوائد (یعنی سنّتِ غیر مؤکدہ) میں سے ہے اور سنن زوائد کا حکم مستحب والا ہوتا ہے۔  (فتاویٰ رضویہ، ۷/ ۳۹۴)

        سیدی اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلسنّت ، مجدد دین و ملت شاہ احمد رضا خان عَلَیہ رَحمَۃُ الرَّحمٰن ایک سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں کہ عمامہ حضور پُر نور سیّد عالم  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَسَلَّم کی سنّتِ متواترہ ہے جس کا تواتر یقینا سرحدِ ضروریاتِ دین ([3]) تک پہنچا ہے ولہٰذا علمائے کرام نے عمامہ تو عمامہ اِرسالِ عَذَبَہ یعنی شملہ چھوڑنا کہ اُس کی فرع اور سنّتِ غیرِ مؤکدہ ہے یہاں تک کہ مرقاۃ میں فرمایا :  قَد ثَبَتَ فِی السِّیَر بِرِوایاتٍ صَحِیحَۃٍ اَنَّ النَّبِیّ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَسَلَّم کَان یَرخٰی عَلامتَہ اَحیَاناً بَینَ کَتِفَیہِ وَ اَحیَاناً یَلبَسُ العِمَامَۃَ مِن غَیرِ عَلامَۃٍ فَعُلِم اَنَّ الاِ تیَانَ بِکُلِّ وَاحِدٍ مِّن تِلکَ الاُمُورِ سُنّّۃٌ (یعنی) کتب سِیر میں روایاتِ صحیحہ سے ثابت ہے کہ نبی ٔاکرم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَسَلَّم کبھی عمامہ کا شملہ دونوں کاندھوں کے درمیان چھوڑتے کبھی بغیر شملہ کے باندھتے۔  اس سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ ان امور میں سے ہر ایک کو بجا لانا سنّت ہے۔  (مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، کتاب اللباس ، الفصل الثانی، ۸/ ۱۴۶، تحت الحدیث : ۴۳۳۹) اس کے ساتھ اِستِہزا (مذاق) کو کفر ٹھہرایا کَمانَص عَلیہِ الفُقَھائُ الکِرَام وَاَمَرُوابِتَرکہ حَیثُ یَستَھزِئُ بِہ العوامُ کَیلا یَقَعوا فِی الھَلاکِ بِسُوئِ الکَلامِ (جیساکہ فقہاء کرام نے اس پر تصریح کی ہے اور وہاں اسکے ترک کا حکم دیا جہاں عوام اس پر مذاق کرتے ہوں تاکہ وہ اس کلام بد سے ہلاکت میں نہ پڑیں ) تو عمامہ کہ سنّتِ لازِمہ دائمہ ہے۔  اس کا سنّت ہونا مُتَواتِر ہے اور سنّتِ متواتر کا اِستِخفَاف (یعنی ہلکا جاننا) کفر ہے۔  

وَجِیز کُردَرِی پھر نَہرُالفَائِق پھر رَدُّالمُحتَار([4])میں ہے :  لَولَم یَرَالسُنّۃَ حَقًّا کَفَر لِاَنَّہ اِستِخفَافٌ اگر کوئی شخص سنّت کو حق و سچ نہیں جانتا تو اس نے کفر کیا کیونکہ یہ اس کا اِستِخفَاف  (یعنی ہلکا جاننا) ہے۔ (درمختار و ردالمحتار ، کتاب الصلاۃ ، باب صفۃ الصلاۃ ، مطلب سنن الصلاۃ، ۲/ ۲۰۷، فتاوی رضویہ ، ۶/ ۲۰۸ ملخصاً)

سنّت کی اقسام

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! عمامہ شریف کے شرعی حکم کی مزید وضاحت سے پہلے چند بنیادی چیزوں کا جاننا ضروری ہے۔  یاد رہے سنّت کا لغوی معنی طریقہ اور راستہ ہے اورشرعی اصطلاح میں سنّتِ مبارکہ کی دو قسمیں ہیں ۔  (1) سنّتِ مؤکدہ (اسے سنّتِ ہُدیٰ بھی کہتے ہیں ) (2) سنّتِ غیر مؤکدہ (اسے سنّتِ زوائد بھی کہتے ہیں ) چنانچہ

       حضرت علامہ سیّد شریف جُرجانی حنفی  عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی  فرماتے ہیں :  شرعی طور پر سنّت اس دینی طریقے کو کہتے ہیں کہ جو فرض اور واجب نہ ہو اور نبی صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اس پر مَوَاظَبَت (ہمیشگی) فرمائی ہو لیکن کبھی کبھار ترک بھی فرمادیا ہو۔  اگر وہ مَوَاظَبَت (ہمیشگی) عبادت کی غرض سے ہو تو اسے سننِ ہُدیٰ یعنی سنّتِ مؤکدہ کہتے ہیں اور اگر مَوَاظَبَت (ہمیشگی) عادت کے طور پر ہو تو

 اسے سننِ زوائد کہتے ہیں ۔  پس سنّت ِہُدیٰ (یعنی سنّتِ مؤکدہ ) وہ ہے کہ جس پر تکمیلِ دین کے لئے عمل کیا جاتا ہو (جیسے اذان واقامت وغیرہ) اس کا ترک مکروہ یا اِسَاء َت (یعنی بُرا) ہوتا ہے۔  جبکہ سُننِ زَوَائِد (یعنی سنّتِ غیر مؤکدہ ) وہ ہیں کہ جن پر عمل کرنا محمود اور اچھا ہوتا ہے ان کے ترک میں کراہت اور اِسَاء َت (یعنی برائی) نہیں ہوتی جیسا کہ کھڑے ہونے ، بیٹھنے ، کھانے پینے اور لباس میں نبیٔ اکرم صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے طریقے کو اپنانا۔  (التعریفات، ص ۸۸)  

        حضرت سیّدنا شاہ مُلَّا جِیوَن احمد ہِندی عَلَیہِ رَحمَۃُ  اللّٰہ  القَوِی اس بات کو مزید تفصیل سے بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :  

سنّتِ مؤکدہ کا شرعی حکم

        سنّت کی پہلی قسم سنتِ ہُدیٰ (یعنی سنّتِ مؤکدہ )ہے اس کو ترک کرنے والا اِسَاء َت یعنی برائی کی جزا کا مستحق ہوتا ہے جیسا کہ مَلامَت اور عقاب یا اِسَاء ت کی جزا کو بھی اِسَاء َت کہہ دیا جاتا ہے جیسا کہ  اللّٰہ    تَعَالٰی  کے فرمان مبارک میں ہے :  (جَزٰٓؤُا سَیِّئَۃٍ سَیِّئَۃٌ مِّثْلُہَا ترجمۂ کنزالایمان :  برائی کا بدلہ اسی کی برابر برائی ہے) (پ۲۵، الشوری :  ۴۰) جیساکہ جماعت، اذان، اقامت وغیرہ ، پس یہ سب شعائر ِدین اور دین کی علامات میں سے ہیں اسی وجہ سے علماء کرام فرماتے ہیں کہ اگر تمام شہر والے اس کے چھوڑنے پر مُصِر (یعنی بضد) ہو جائیں تو امام کی جانب سے ان سے اسلحہ کے ساتھ قتال کیا جائے گا (یعنی جنگ کی جائے گی) اور ان میں سے ہر ایک کے بارے میں اتنی روایات وارد ہوئی ہیں جن کا شمار نہیں کیا جاسکتا۔  

سنّتِ غیر مؤکدہ کا شرعی حکم

       سنّت کی دوسری قسم سننِ زوائد (یعنی سنّتِ غیر مؤکدہ ) ہے اس کو ترک کرنے والا اِسَاء َت (یعنی سزا) کا مستحق نہیں ہوتا جیسا کہ لباس، اٹھنے بیٹھنے میں رسول  اللّٰہ  صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی سیرتِ مبارکہ کی پیروی کرنا کیونکہ یہ چیزیں آپ صَلَّی  اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے بطورِ عبادت یا قُربَت نہیں بلکہ بطورِ عادت مبارک صادِر ہوئیں ۔  پس آپ عَلَیہِ السَّلام سرخ ، سبز اور سفید لمبی آستین والا جُبّہ مبارکہ زیب تن فرمایا کرتے تھے ۔  سیاہ اور سرخ عمامہ جس کی لمبائی کبھی سات ہاتھ کبھی بارہ ہاتھ اورکبھی اس سے کم یا زیادہ بھی ہوتی ۔  آپ عَلَیہِ السَّلام اکثر اوقات تَشَھُّد کی حالت پر تشریف



1     سنّتِ مؤکدہ کی تعریف:(وہ سنّت) جس پر رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہمیشگی کی ہو اور جس کا ترک موجبِ اساء ت ہو۔

2     سنّتِ غیرمؤکدہ کی تعریف:حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کا وہ فعل جس کا ترک شارع کو ناپسند تو ہو مگر موجبِ اساء ت نہ ہو۔ (رکن دین ، ص ۱۸)  

3     ضروریاتِ دین کی تعریف:ضروریاتِ دین اسلام کے وہ احکام ہیں جن کو ہر خاص و عام جانتے ہوں۔  (کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب، ص۴۱)  

4     یہ فقہ کی کتابوں کے نام ہیں۔



Total Pages: 101

Go To