Book Name:Faizan e Khwaja Ghareeb Nawaz

(2)عذابِ قبر سے رِہائی

حضرتِ سَیِّدُنا بختیار کاکی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی فرماتے ہیں:حضرتِ سَیِّدُنا خواجہ غریب نوازرَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  اپنے ایک مُرید کے جنازے میں تشریف لے گئے،  نَمازِ جنازہ پڑھا کراپنے دستِ مبارَک سے قَبْر میں اُتارا۔ تدفین کے بعدایک ایک کرکے سب لوگ چلے گئے  مگرحُضور خواجہ غریب نواز رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ قَبْر کے پاس  تشریف فرما رہے۔ اچانک آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ غمگین ہوگئے۔ کچھ دیر کے بعد آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی زَبان پر اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ جاری ہوا اور آپ مطمئن ہوگئے۔ میرے اِسْتِفْسار پر فرمایا:اس کے پاس عذاب کے فرشتے آگئے تھے جس کی وجہ سے میں پریشان ہوگیا اتنے میں میرے مُرشِدِ ِگرامی حضرتِ سیِّدُنا خواجہ عثمان ہاروَنی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی تشریف لائے اور فِرِشتوں سےکہا: یہ بندہ میرے مُرید مُعین الدّین  کا مُرید ہے،  اس کو چھوڑ دو۔ فِرِشتوں نے کہا:یہ بَہُت ہی گنہگار شخص تھا۔یکایک  غیب سے آواز آئی: اے فِرِشتو! ہم نے عثمان ہاروَنی کے صدقے مُعینُ الدّین چشتی کے مُرید کو بَخْش دیا۔ ([1])

(3)چھاگل میں تالاب

    حُضور خواجہ غریب نواز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے چند مُرید ایک بار اجمیر شریف کے مشہور تالاب اَنا ساگر پرغسل کرنے گئے تو  کافروں نے شور مچا دیا کہ یہ مسلمان ہمارے تالاب کو” ناپاک“ کررہے ہیں۔ چُنانچِہ وہ حضرات لَوٹے اورسارا ماجرا خواجہ غریب نواز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی خدمت میں عرض کردیا۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ایک خادم کو چھاگل (پانی رکھنے کا مٹی کا برتن) دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: اس میں تالاب کا پانی بھر لاؤ۔خادِم نےجونہی پانی بھرنے کے لئے چھاگل تالاب میں ڈالاتواس کا سارا پانی چھاگل میں آگیا۔لوگ پانی نہ ملنے پر بے قرار ہوگئے اور آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی خدمتِ سراپا کرامت میں حاضِر ہو کر فریاد کرنے لگےچُنانچِہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے خادِم کو حکم دیا کہ جاؤ اور پانی واپَس تالاب میں اُنڈَیل دو۔ خادِم نے حکم کی تعمیل کی تو اَنا ساگر پھر پانی سے لبریز ہوگیا۔ ([2])

(4) اللہ والوں کا تصرُّف

آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکا اىک مُرىد راجہ کے ہاں ملازم تھا۔ راجہ کو جب اپنے اس ملازم کےاسلام لانے کی خبر ہوئی تو اس پرظلم کرنے لگا۔ حضور  خواجہ غریب نواز رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  کو پتا چلا تو آپ نے راجہ کو ظلم سے باز رہنے کا حکم بھیجا لىکن وہ ظالم وجابرشخص اقتدار کے نشے میں مست تھا کہنے لگا:یہ کون آدمى ہےجو یہاں بىٹھ کرہم پرحکم چلارہا ہے؟ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکو خبر پہنچی تو فرمایا:ہم نے اسے گرفتار کرکے لشکر اسلام کے حوالے کردىا۔ ابھی چندہی  دن گزرے  تھے کہ سُلطان مُعز الدّىن محمدغورى نے اس شہر  پر حملہ کردىا۔ راجہ اپنی فوج کے ہمراہ مقابلہ کرنے آیامگر لشکرِ اسلام کی جُرأت و بہادری کے آگے زیادہ دیر نہ ٹھہر سکا بالاخر  ہتھیار ڈال  کر عبرت ناک شکست سے دوچار ہوااور سپاہیوں نے اُسے  زندہ گرفتار کرکے انتہائی ذِلت کے ساتھ سلطان غوری  کے سامنے پىش کردیا۔ ([3])

(5) ہر رات طوافِ کعبہ

حضرت سَیِّدُنا خواجہ غریب نواز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا کوئی مُرید یا اہلِ محبت اگرحج یا عمرہ کی سعادت پاتا اور طوافِ کعبہ کے لئے حاضر ہوتا  تودیکھتا کہ خواجہ غریب نواز رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  طواف ِ کعبہ میں مشغول ہیں ، اُدھر اہلِ خانہ اور دیگراحباب یہ سمجھتے کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہاپنے حجرے میں موجود ہیں۔ بالآخر ایک دن یہ راز کُھل ہی گیا کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ   بیتُاللہ شریف حاضر ہوکر ساری رات طواف ِکعبہ میں مشغول رہتے ہیں اور صبح اَجمىر شریف واپس  آکرباجماعت نمازِ فجر ادا فرماتے ہىں۔ ([4])

(6) انوکھا خزانہ

 



[1]    خوفناک جادوگر، ص۸

[2]    خوفناک جادوگر، ص۷

[3]     اقتباس الانوار، ص۳۶۸

[4]     اقتباس الانوار، ص۳۷۳



Total Pages: 11

Go To