Book Name:Faizan e Khwaja Ghareeb Nawaz

پروردگار سے راز کی بات کہتا ہے۔ ([1])

3-  جوشخص جھوٹى قسم کھاتا ہےوه اپنے گھر کو وىران کرتا ہےاوراس کے گھر سے خىرو برکت اُٹھ جاتى ہے۔ ([2])

4-  مصىبت زدہ لوگوں کى فرىاد سننا اوران کاساتھ دىنا، حاجتمندوں کى حاجت روائی  کرنا،  بھوکوں کو کھانا کھلانا،  اسىروں کو قىد سے چھڑانا ىہ باتىں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کے نزدىک بڑا مرتبہ رکھتى ہىں۔ ([3])

5- نیکوں کی صحبت نیک کام سے بہتر اور برے لوگوں کی صحبت بدی کرنے سے بھی بدتر ہے۔

6- بد بختی کی علامت یہ ہے کہ انسان گناہ کرنے  کے باوُجُود بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ  کی بارگاہ میں خود کو مقبول سمجھے۔

7- خدا کا دوست وہ ہے جس میں یہ تین خوبیاں ہوں : سخاوت دریا جیسی،  شفقت  آفتاب کی طرح اور تواضع زمین کی مانند۔ ([4])

سجّادہ نشین  وخُلَفا

حُضور سَیِّدی خواجہ غریب نواز رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہکے خلفا میں سب سے قریبی اورمحبوب حضرت سَیِّدُناقُطبُ الدّین بختیار کاکی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْکافی تھے۔ خواجہ صاحب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے وِصالِ ظاہری کے بعدآپ ہی سجّادہ نشین ہوئے۔  ([5]) ان کے علاوہ دیگر جلیلُ القدرخُلفامیں  حضرت قاضى حمىدُ الدّىن ناگورى ، سُلطانُ التارکىن حضرت  شىخ حمىدُالدّىن صُوفى اورحضرت شىخ عبداللہبىابانى (سابقہ اجےپال جوگى) رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن  کا شمار ہوتا ہے۔ ([6])

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!جب اللہعَزَّ  وَجَلَّ   کے مُقرَّب بندے اپنی تمام ترزندگی اس کے احکام کی بجاآوری اور اس  کے ذکر میں  بسر کرتے ہیں ، دُنْیوی لذّتوں اورآسائشوں کوچھوڑ کرتبلیغ واِشاعتِ دین میں گزاردیتے ہیں تواللہعَزَّ  وَجَلَّ  انہیں بطورِ انعام آخرت میں تو بلندوبالا دَرَجات اور بے شُمار نعمتوں سے   سرفراز فرماتا ہی  ہے لیکن دنیا میں بھی ان کے مقام و مرتبے کو لوگوں پر ظاہر کرنے کےلئے کچھ خَصائص وکرامات عطافرماتاہے۔خواجہ غریب نواز رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  کوبھی اللہعَزَّ  وَجَلَّ   نے بے شُمار کرامات سے نوازرکھا تھا آئیے ! ان میں سے چند کرامات پڑھئے اور اپنے دلوں میں اولیائے کرام کی محبت کو جگائیے !  

(1)مُرد ہ زند ہ کرد یا

ایک بار اجمیر شریف کے حاکم نے کسی شخص کو بے گناہ سُولی پر چڑھا دیا اور اُس کی ماں کو کہلا بھیجا کہ اپنے بیٹے کی لاش لے جائے۔ دُکھیاری ماں غم سے نڈھال ہوکر روتی ہوئی حضرت خواجہ غریب نوازرَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کی بارگاہِ بے کس پناہ میں حاضر ہوئی اور فریادکرنے لگی : آہ! میراسَہارا چھن گیا،  میرا گھر اُجڑ گیا،  میرا ایک ہی بیٹا تھا حاکمِ نے اُسے بے قُصور سُولی پر چڑھادیا ۔ یہ سن کرآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ جلال میں آگئے اورفرمایا: مجھے اس کی لاش کے پاس لے چلو۔جونہی آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ لاش کے قریب پہنچے تو اشارہ کرکے فرمایا: اے مقتول! اگر حاکمِ وقت نے تجھے بے قُصُور سُولی دی ہے تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے حکم سے اُٹھ کھڑا ہو۔ لاش میں فوراً حرکت پیدا ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ شخص زندہ ہو کر کھڑا ہوگیا۔ ([7])

 



[1]     ہشت بہشت،  ص۷۵

[2]     ہشت بہشت ، ص۸۴

[3]     معین الہند حضرت خواجہ معین الدین اجمیری، ص۱۲۴

[4]      خوفناک جادوگر، ص۲۵

[5]     معین الہند حضرت خواجہ معین الدین اجمیری، ص۹۵

[6]     اقتباس الانوار، ص۳۸۸

[7]    خوفناک جادوگر، ص۱۶بتغیر



Total Pages: 11

Go To