Book Name:Faizan e Khwaja Ghareeb Nawaz

پڑوسیوں سے حسن سلوک

آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے پڑوسیوں کابہت خیال رکھاکرتے، ان کی خبرگیری فرماتے ، اگر کسی پڑوسی کا انتقال ہوجاتا تو اس کے جنازےکے ساتھ ضرور تشریف لے جاتے، اس کی تدفین کے بعدجب  لوگ واپس  ہو جاتے تو آپ تنہا اس کی قبر کے پاس تشریف فرما ہوکر اس کے حق میں مغفرت و نجات کی دعا فرماتے نیز اس کے اہلِ خانہ کو صبرکی تلقین کرتے اور انہیں تسلی دیاکرتے۔آپ کےحلم و بُردباری جُودو سخاوت اور دیگر اخلاقِ عالیہ  سے مُتأثر ہوکر لوگ عُمدہ اخلاق کے حامل اور پاکیزہ صفات کے پیکر ہوئے اوردہلی سے اجمیر تک کے سفر کے دوران تقریباً  نَوّے لاکھ افراد مُشرف بہ اسلام ہوئے۔([1])

عفو وبردباری

آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بہت ہی نرم دل اورمُتحمِّل  مزاج سنجیدہ طبیعت کے مالک  تھے۔اگرکبھی غصہ آتا توصرف دینی غیرت و حمیّت کی بنیاد پرآتا البتہ  ذاتی طور پراگر کوئی سخت بات کہہ بھی دیتا تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ برہم نہ ہوتےبلکہ ا س وقت بھی حسنِ اخلاق اور خَنْدہ پیشانی  کا مُظاہرہ کرتے ہوئے صبر کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دیتے  اورایسامعلوم ہوتا کہ  آپ نے اس کی نازیبا باتیں سنی ہی نہ ہو ں۔  ([2])

خوفِ خدا

حضرت خواجہ غریب نواز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہپر خوفِ خدا اس قدر غالب تھا کہ آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ہمیشہ خشیتِ الٰہی سے کانپتے اور گریہ وزاری کرتے، خلقِ خدا کو خوفِ خدا کی تلقین کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کرتے: اے لوگو!اگر تم زیرِخاک سوئے ہوئے لوگوں کا حال جان لو تو مارے خوف کے کھڑے کھڑے پگھل جاؤ ۔  ([3])

پردہ پوشی

حضرت خواجہ قُطبُ الدّین بختیارکاکی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْکافیاپنے پیرو مُرشد حضرت خواجہ غریب نواز رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  کی صِفاتِ مومنانہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میں کئی برس تک خواجہ غریب نوازرَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کی خدمتِ اقدس میں حاضر رہا لیکن کبھی آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی زبانِ اقدس سے کسی کا راز فاش ہوتے نہیں  دیکھا،  آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکبھی کسی مُسلمان کا بھید نہ کھولتے ۔ ([4])

مُرشدِ کامل کے مزار مبارَک کی تعظیم

    ایک مرتبہ حضرت خواجہ مُعینُ الدّین حسن چشتی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیاپنے مُریدین کی تربیت فرمارہے تھے۔ دورانِ بیان جب جب آپ کی نظر دائیں طرف پڑتی توبا ا َدَب کھڑے ہوجاتے۔تمام مُریدین یہ دیکھ کر حیران تھے کہ پیرو مُرشِد باربار کیوں کھڑے ہورہے ہیں، مگر کسی کو پوچھنے کی جُرأت نہ ہوسکی الغرض جب سب لوگ وہاں سے چلے گئے،  تو ایک منظورِنظر مُریدعرض گزارہوا:حضور!ہماری تربیت کے دوران آپ نے بارہا قیام فرمایا اس میں کیا حکمت تھی؟حضرت خواجہ مُعینُ الدّین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمُبِیْن نے فرمایا: اس طرف پیرو مرشِد شَیخ عثمان ہاروَنی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْغَنِی  کا مزار مبارَک ہےجب بھی اس جانب رخ ہوتا  تو میں تعظیم کے لئے اُٹھ جاتا، پس میں اپنے پیر و مُرشِد کے روضہ ٔمبارَک کی تعظیم میں  قیام کرتا تھا۔ ([5])

فرمان غوثِ اعظم پر سر جُھکادیا

جس وقت حضرت سَیِّدُناغوثِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بغدادِ مُقدّس میں ارشاد فرمایا:قَدَمِیْ ھٰذِہٖ عَلٰی رَقَبةِکُلِّ وَلِیِّ اللهیعنی میرایہ قدم اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے



[1]     معین الارواح،  ص ۱۸۸بتغیر

[2]     حضرت خواجہ غریب نواز حیات وتعلیمات،  ص۳۹ ، بتغیر

[3]     معین الارواح،  ص ۱۸۵ملخصاً

[4]     حضرت خواجہ غریب نواز حیات وتعلیمات،  ص۴۱ملخصاً

[5]      آدابِ مُرشدِ کامل،  ص ۱۱۴بتغیر



Total Pages: 11

Go To