Book Name:Faizan e Khwaja Ghareeb Nawaz

پہنچادے۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرماىا:اللہ عَزَّ  وَجَلَّ   مىرا حافظ وناصر (نگہبان ومددگار) ہے۔اسی دوران  حاکم باغ مىں داخل ہوا اور سىدھا حوض کى طرف آىا۔ اپنی عیش و عشرت کی جگہ پراىک اجنبى دروىش کو دىکھا تو آگ بگولا ہوگىا اور اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتا آپ  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ایک نظر ڈالی اور اس کی کایا پلٹ دی۔ حاکم آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی نظرِجلالت کی تاب نہ لاسکا اور بے ہوش ہو کر زمین پر گرپڑا۔ خادموں  نے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے، جُونہی ہوش آیا فوراً آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کے قدموں میں  گر کر  بدمذہبیت اور گناہوں سے تائب ہوگیااور آپ کے دستِ مبارک پربیعت ہوگیا۔ پیرومُرشد حضرت خواجہ غریب نواز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی انفرادی کوشش سے  اس نے ظُلم و جَورسے جمع کی ہوئی ساری دولت اصل مالکوں کو لوٹادی اورآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکى صُحبت کو لازم پکڑلیا۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے کچھ ہى عرصے مىں اسے فُىوضِ باطنى سے مالا مال کرکے خِلافت عطا فرمائی اور وہاں سے رخصت ہوگئے۔ ([1])

داتا کے مزار پرخواجہ کی حاضری

اسی سفر میں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے حضرت داتا گنج بخش سَیِّدعلی ہجویری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیکے مزاراقدس پرنہ صرف حاضری دی بلکہ مُراقبہ بھی کیااورحضرتِ سَیِّدُناداتا گنج بخش رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کا خُصُوصی فیض حاصل کیا۔ ([2]) مزارِ پُر انوار سے رخصت ہوتے وقت داتا گنج بخشرَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کی عظمت و فیضان کا بیان اس شعر کے ذریعے کیا:

گنج بخش فیضِ عالم مظہرِ نورِ خدا               ناقِصاں را پیر کامل کاملاں را رہنما

یعنی گنج بخش داتا علی ہجویری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی   کا فیض سارے عالم پر جاری ہے اور آپ نورِخدا کے مظہر ہیں آپ کا مقام یہ ہے کہ راہِ طریقت میں جو ناقص ہیں ان کے لیے پیرِکامل اور جو خود پیرِ کامل ہیں ان کے لیے بھی راہنما ہیں۔

تلاوتِ قرآن اور شب بیداری

حضرت سَیِّدُنا خواجہ غریب نواز رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کا معمول تھاکہ ساری ساری رات عبادتِ الٰہی میں مصروف رہتےحتی کہ عشاء کے وضوسے نمازِفجر ادا کرتے اور تلاوتِ قرآن  سے  اس قدرشغف تھا کہ دن میں دوقرآنِ پاک  ختم  فرمالیتے، دورانِ سفر بھی قرآن پاک کی تِلاوت جاری رہتی ۔ ([3])

پیٹ کا قُفْلِ مدینہ

دیگر بُزرگانِ دین اور اولیائے کاملین رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن  کی طرح آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبھی زیادہ سے زیادہ عبادتِ الٰہی بجالانے کی خاطر بہت ہی کم کھانا تناول فرماتےتاکہ کھانے کی کثرت کی وجہ سے سُستی، نیندیا غُنودگی عبادت میں رُکاوٹ کا باعث نہ بنے ، چنانچہ آپ کے بارے میں منقول ہے کہ سات روز بعد دو ڈھائی تولہ وزن کے برابر روٹی پانی میں بھگو کر کھایاکرتے۔ ([4])

لباس مُبارک اور سادگی

اللہ والوں کی شان ہے کہ وہ ظاہری زیب و آرائش کے بجائے باطن کی صفائی پر زور دیتے ہیں۔حضرت  خواجہ غریب نوازرَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہکے لباس مبارک میں بھی انتہا درجے کی سادگی نظر آتی تھی آپرَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہکالباس صرف دو چادروں پرمشتمل ہوتا اوراس میں بھی کئی کئی پیوند لگے ہوتےگویا لباس سے بھی سُنَّتِ مصطفٰے سے بے پناہ مَحَبَّت کی جھلک دکھائی دیتی تھی نیز پیوند لگانے میں بھی اس قدر سادگی اختیار کرتے کہ جس رنگ کا کپڑا میسر ہوتا اسی کو شرف بخش دیتے۔ ([5])

 



[1]     اللہ کے خاص بندےعبدہ، ص ۵۱۱ملخصاً

[2]     مرآۃ الاسرار ص۵۹۸، ملخصاً

[3]     مرآۃ الاسرار،  ص۵۹۵، بتغیر

[4]     مرآۃ الاسرار، ص۵۹۵بتغیر

[5]     مرآۃ الاسرار، ص۵۹۵ملخصاً



Total Pages: 11

Go To