Book Name:Faizan e Khwaja Ghareeb Nawaz

کىا۔ ([1])

بارگاہ ِرِسالت سے ہند کی سُلطانی  مل گئی

بارگاہِ رسالت میں خواجہ مُعینُ الدّین عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْمُبِینکے مرتبے کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سَیِّدُنا خواجہ مُعینُ الدّین عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْمُبِین کومدینے شریف کی حاضری کاشرف ملاتونہایت اَدب واِحترام کے ساتھ یوں سلام عرض کیا:’’اَلصَّلوةُ وَالسَّلامُ عَلَیْکَ یَا سَیِّدَ الْمُرْسَلِین وَخَاتَمَ النَّبِیِّین‘‘اس پر روضۂ اقدس سے آواز آئى:وَعَلَیْکُمُ السَّلاَمُ یَا قُطْبَ الْمَشَائِخ ([2]) نیزحضرت سیِّدُنا خواجہ غریب نواز رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کو ہند کی سلطانی بھی بارگاہِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہی سے عطا ہوئی۔چنانچہ شَیخ طریقت، اَمیرِاَہلسنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ  مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  اپنے رسالہ’’ خوفناک جادوگر ‘‘کے صفحہ 2 پر رقمطراز ہیں :

   سلسلہ عالیہ چِشتیہ کے عظیم پیشوا خواجہ خواجگان،  سُلطانُ الھند حضرت سَیِّدُنا خواجہ غریب نواز حسن سَنْجَری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کومدینہ منوَّرہ زادَھَااللہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْماً  کی حاضِری کے موقع پر سیِّدُ الْمُرسَلین،  خَاتمُ النَّبِیّین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی طرف سےیہ بشارت ملی: ”اے مُعینُ الدِّین! توہمارے دین کامُعِین (یعنی دین کا مددگار ) ہے ،  تجھے ہندوستان کی وِلایت عطا کی،  اجمیر جا،  تیرے وُجُود سے بے دینی دُور ہوگی اور اسلام رونق پذیرہو گا۔“

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!                    صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

سُلطانُ الہند کا سفرِہند

آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہاس بشارت کے بعد ہند روانہ ہوئے اورسمرقند،  بُخارا،  عُروسُ البِلادبغدادشریف، نىشاپور، تبرىز، اوش، اَصْفہان، سَبزوار، خُراسان، خرقان،  اِسْتَر آباد،  بَلْخ اور غزنی وغیرہ سے ہوتے ہوئے ہند کے شہر اَجمیر شریف  (صُوبہ راجستھان ) پہنچے اور اس پورے سفر میں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےسینکڑوں اَوْلیاءُاللہ اور اکابر ینِ اُمَّت سے ملاقات کى۔چنانچہ

ہَم عصر عُلما واَوْلیا سے مُلاقات

آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبغدادِمُعلّٰی میں حضرت سَىِّدُنا غوثِ اعظم مُحْیُ الدّین سَیِّد عبدالقادرجیلانیقُدِّسَ سِرُّہُ النّوْرَانِیکى خدمت میں حاضر ہوئے اورپانچ ماہ تک بارگاہِ غوثیہ سے اکتسابِ فیض کیا۔تبریز میں شىخ بدرُالدّین ابوسعىدتبریزی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی   کی بارگاہ سے علم کی میراث حاصل کی۔ اَصفہان میں شىخ محمود اَصْفہانى قُدِّسَ  سِرُّہُ النّوْرَانِی کے پاس حاضر ہوئےاور خرقان مىں شىخ ابوسعىد ابوالخىراور خواجہ ابوالحسن خرقانى قُدِّسَ سِرُّہُما النُّوْرَانِی کے مزارات پرحاضری دی۔اِسْتَرآباد میں حضرت علّامہ شىخ ناصرُ الدّىن اِسْتَرآبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی سے کَسبِ فىض کىا۔ ہرات  میں شىخ الاسلام امام عبداللہ انصارى عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی کے مزار کى زىارت کى اور بَلْخ میں شىخ احمد خضروىہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکى خانقاہ مىں قىام فرماىا۔  ([3])

حاکمِ  سبزوار کی توبہ

سفرِہند کے دوران جب حضرتِ سَیِّدُناخواجہ غریب نوازرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا گزر علاقہ سبز وار (صوبہ خُراسان رضوی ایران ) سے ہوا تو آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے وہاں ایک باغ میں قیام فرمایاجس کے وَسْط مىں ایک خُوش نما حوض تھا۔  یہ باغ حاکمِ سبزوار کا تھا جو بہت ہی ظالم اور بدمذہب شخص تھااس کا معمول تھا کہ جب بھی باغ میں آتا تو شراب پیتا اور نشے میں خُوب شور وغل مچاتا۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے حوض سے وضو کیا اور نوافل ادا کرنے لگے۔ مُحافظوں نے اپنے حاکم کى سخت گىرى کا حال عرض کیا اور درخواست کى کہ ىہاں سے تشرىف لے جائىں کہیں حاکم آپ کو کوئى نقصان نہ



[1]     اقتباس الانوار، ص۳۴۹

[2]     اللہ کے خاص بندےعبدہ، ص ۵۱۰ ، بتغیر

[3]     اللہ کے خاص بندےعبدہ، ص ۵۱۰ ملخصاً



Total Pages: 11

Go To