Book Name:Faizan e Khwaja Ghareeb Nawaz

کسی کے ذریعے اس کی عزت افزائی کرواتاہے ۔  ([1])

حصولِ علم کے لیے سفر

حضرت سَیِّدُنا خواجہ مُعینُ الدّین چشتی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے 15برس کی عمر میں حصول ِعلم کے لیے سفر اختیارکیا اورسمرقندمیں حضرت سَیِّدُنا مولانا شرفُ الدّىن عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمُبِیْن کی بارگاہ میں حاضر ہوکرباقاعدہ علمِ دین کا آغاز کیا۔پہلے پہل قرآنِ پاک حفظ کیا اور بعد ازاں انہی سے دیگر عُلوم حاصل کئے۔ ([2]) مگر جیسے جیسے علمِ دین سیکھتے گئے ذوقِ علم بڑھتا گیا، چنانچہ علم کی پیاس کو بجھانے کے لئے بُخارا کا رُخ کیا اورشُہرۂ آفاق عالمِ دین مولانا حسامُ الدّىن بخاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی  کے سامنے زانوئے تَلمُّذتہ  کیا اور پھرانہی کی شفقتوں  کے سائے میں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے تھوڑے ہی عرصے میں تمام دىنى عُلوم کى تکمىل کرلی۔اس طرح آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے مجموعی طور پر تقریباً پانچ سال سمرقند اور بُخارا میں حُصولِ علم کے لئے قیام فرمایا۔ ([3])

طالب مطلوب کے در پر

اس عرصے میں عُلومِ ظاہرى کی تکمىل تو ہو چکی تھی مگر جس تڑپ کی وجہ سے گھربارکوخیربادکہاتھااس کی تسکین ابھی باقی تھی۔ چنانچہ کسی ایسے طبیبِ حاذِق  (ماہر) کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئےجو درد ِدل کی دَوا کر سکے۔چنانچہ مُرشدِ کامل کى جُسْتْجُو مىں بُخارا سے حجاز کا رختِ سفر باندھا۔راستے میں جب نىشاپور (صوبہ خُراسان رضوی ایران ) کے نواحی علاقے” ہاروَن“سے گزر ہوا اورمردِ قلندر قُطبِ وقت  حضرت سَیِّدُنا عُثمان ہاروَنى چشتیعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی کاشُہرہ سناتوفوراً حاضرِ خدمت ہوئےاوران کے دستِ حق پرست پربیعت کرکےسلسلۂ چشتیہ میں داخل ہوگئے۔  ([4])

یَک دَرگیر مُحکم گیر

آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کئی سال  تک مُرشدِ کامل کی خدمت میں حاضر رہے اور مَعْرِفَت کی مَنازل طے کرتے ہوئے باطنى عُلوم سے فیض یاب ہوتے رہے۔ حضرت سَیِّدُنا خواجہ عثمان ہاروَنیعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْغَنِی جہاں بھی تشریف لے جاتے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ان کا سامان اپنے کندھوں پر اُٹھا ئے ساتھ جاتے نیز آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو کئی مرتبہ مُرشد کے ساتھ حج کی سعادت بھی حاصل ہوئی۔ ([5]) آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :جب میرے پیرو مُرشد خواجہ عثمان ہاروَنی  عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْغَنِی نے میری خدمت اور عقیدت دیکھی تو ایسی کمالِ نعمت عطا فرمائی جس کی کوئی انتہا نہیں۔

مُرید ہو تو ایسا

یقیناً جس طرح ہر مُحب کی چاہت ہوتی ہے کہ محبوب کی نظروں میں سماجاؤں اور  شاگرد کی آرزو یہ ہوتی ہے کہ اُستاد کی آنکھوں کا تارابن جاؤں اسی طرح ایک مُرید کی دلی خواہش یہ ہوتی ہے کہ  میں اپنے پیر و مُرشد کا منظورِنظر بن جاؤں مگر ایسے قسمت کے دَھنی بہت کم ہوتے ہیں جن کی یہ تمنا پوری ہوجائے۔حضرت  خواجہ مُعینُ الدّین حسن چشتی اجمیریعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِیبارگاہِ مُرشد میں اس قدر مقبول تھے کہ ایک موقع پرخودمُرشدِ کریم خواجہ عثمان ہاروَنی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْغَنِی   نے فرمایا:ہمارا مُعینُ الدین اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کا محبوب ہے ہمیں  اپنے مُرید پر فخر ہے۔ ([6])

بارگاہ ِالٰہی میں مَقْبولِیَّت

ایک بار حج کے موقع پر حضرت سَیِّدُناخواجہ عثمان ہاروَنى عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْغَنِینے مىزابِ رحمت کے نىچے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا ہاتھ پکڑ کر بارگاہِ الٰہی مىں دُعا  کی: اے مولیٰ! مىرے مُعىنُ الدّىن حسن کو اپنى بارگاہ مىں قبول فرما۔غىب سے آواز آئى: مُعىنُ الدّىن ہمارا دوست ہے،  ہم نے اسے قبول



[1]    ترمذی ، کتاب البر والصلة ،  باب ما جاء فی اجلال الکبیر،  ۳/۴۱۱، حدیث: ۲۰۲۹

[2]     اللہ کے خاص بندےعبدہ، ص ۵۰۸ملخصاً

[3]     اللہ کے خاص بندےعبدہ، ص ۵۰۸ ملخصاً

[4]     مرآۃ الاسرار، ص۵۹۴ ملخصاً

[5]     اللہ کے خاص بندےعبدہ، ص ۵۰۹ملخصاً

[6]     مرآۃ الاسرار،  ص۵۹۵



Total Pages: 11

Go To