Book Name:Faizan e Khwaja Ghareeb Nawaz

والدین کریمین

آپرَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کے والدِماجدسَیِّدغیاثُ الدّینرَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ   جن کا شمار”سنجر “کے اُمَراورُؤسا مىں ہوتاتھا اِنْتہائی مُتقی وپرہیز گاراورصاحبِ کرامت بُزرگ تھے ۔نیز آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کى والدہ ماجدہ بھی اکثر اوقات عبادت و ریاضت میں مشغول رہنےوالی نیک سیرت خاتون تھیں۔ ([1]) جب حضرت سَیِّدُنا خواجہ غریب نواز رَحْمَۃُ اللہ   ِتَعَالٰی عَلَیْہ پندرہ سال کی عُمر کوپہنچے تو والدِمُحترم کا وصالِ پُرملال ہوگیا۔وراثت میں ایک باغ اور ایک پَن چکی ملی آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے  اسی کو  ذریعہ معاش بنالیا اورخود ہی باغ کی نگہبانی کرتے اوردرختوں کی آبیاری فرماتے۔ ([2])

وَلیُّ اللہ کے جُوٹھے کی برکت

ایک روزحضرت سَیِّدُنا خواجہ مُعینُ الدّین چشتی اجمیریعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی  باغ میں پَودوں کو پانی دے رہے تھے کہ ایک مَجذوب بُزرگ حضرتِ سَیِّدُنا ابراہیم قندوزی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ باغ میں تشریف لائے۔ جُوں ہی حضرت سَیِّدُناخواجہ مُعینُ الدّین عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْمُبِین کی نظر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کے اِس مقبول بندے پرپڑی،  فوراً دوڑے ، سلام کرکے دَسْتْ بوسی کی اور نہایت اَدَب  واِحترام کے ساتھ درخت کے سائے میں بٹھایا۔ پھر ان کی خدمت میں اِنتہائی عاجِزی کے ساتھ تازہ انگوروں کا ایک خَوشہ پیش کیا اور دو زانوبیٹھ گئے۔اللہعَزَّ  وَجَلَّ کے ولی کو اس نوجوان باغبان کا انداز بھا گیا،  خوش ہو کرکَھلی  (تل یا سرسوں کا  پھوک) کاایک  ٹکڑا چبا کرآپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے مُنہ میں ڈال دیا۔ کَھلی کا ٹکڑا جُوں ہی  حَلق سے نیچے اُترا، آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے دل کی کیفیت یکدم بدل گئی اور دل دنیا  کی محبت سے  اُچاٹ ہوگیا۔پھر  آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے باغ،  پَن چکی اورسارا سازو سامان بیچ کر اس کی قیمت فُقَرا ومَساکین میں تقسیم فرمادی اورحُصولِ علمِ دین کی خاطِر راہِ خداکے مُسافِر بن گئے۔ ([3])

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بیان کردہ واقعے سے ہمیں یہ درس ملتاہے کہ جب ہم  کسی مجلس میں بیٹھے ہوں اورہمارے بُزرگ، اساتذہ ، ماں باپ، یا پیرومُرشدآجائیں توہمیں ان کی تعظیم کے لئے  کھڑا ہوجانا چاہیے انہیں عزت واِحترام  کے ساتھ بٹھانا چاہیے۔یادرکھئے !ادب ایسی شے ہے کہ جس کے ذریعے انسان دُنْیَوی واُخْرَوی نعمتیں حاصل کرلیتا ہے اورجو اس صفت سے محروم ہوتا ہے  وہ ان نعمتوں کا بھی حقدار نہیں ہوتا۔ شاید اسی لئے کہا جاتا ہے کہ ’’باادب با نصیب بے ادب بے نصیب‘‘  یقیناً ادب  ہی انسان کو ممتاز بناتا ہے، جس طرح ریت کے ذروں میں موتی اپنی چمک اور اَہمیَّت نہیں کھوتا اسی طرح باادب  شخص  بھی لوگوں میں اپنی شناخت کو قائم و دائم رکھتا ہے۔لہٰذا ہمیں بھی اپنے بڑوں کا اَدب واحترام کرنے اور چھوٹوں کے ساتھ شفقت ومحبت سے پیش آنا چاہیے آئیے !اس ضمن میں 3 احادیثِ مُبارکہ سنئے  اور عمل کا جذبہ پیدا کیجئے ۔

1    دوجہاں کےتاجْوَر، سلطانِ بَحروبَرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّمنےفرمایا: اے انس ! بڑوں کا اَدب و اِحترام اور تعظیم وتوقیر کرو اورچھوٹوں پرشفقت کرو ،  تم جنَّت میں میری رفاقت پالو گے ۔ ([4])

2    نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے : جس نے ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کیا اور ہمارے بڑوں کی تعظیم نہ کی وہ ہم میں سے نہیں۔ ([5])

1   سَیِّدِعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جو جوان کسی بوڑھے کا اس کی عمر  کی وجہ سے اِکرام کرے اس کے بدلے میں اللہعَزَّ  وَجَلَّ   



[1]     اللہکے خاص بندےعبدہ، ص ۵۰۶ ، بتغیر

[2]     مرآۃ الاسرار،  ص۵۹۳، بتغیر

[3]     مرآۃ الاسرار، ص۵۹۳ملخصاً

[4]     شعب الایمان، باب فی رحم الصغیر،  ۷/۴۵۸،  حدیث:۱۰۹۸۱

[5]    ترمذی،  کتاب البر والصلة،  باب ماجاء فی رحمة الصبیان، ۳/۳۶۹، حدیث:۱۹۲۶



Total Pages: 11

Go To